شیعہ سُنی تنازعات کا حل مولانا مودودی کی نظر میں

Afkaar e Maududi

( شیعہ سُنّی تنازعات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ )
” شیعہ حضرات کا یہ حق تو تسلیم کیا جا سکتا ھے اور کیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے مذہبی مراسِم اپنے طریقہ پر ادا کریں ، مگر یہ حق کسی طرح بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ دوسرے لوگ جن بزرگوں کو اپنا مقتدا و پیشوا مانتے ہیں اُن کے خلاف وہ برسرِ عام زبانِ طعن دراز کریں یا دوسروں کے مذہبی شعائر پر علانیہ حملے کریں ۔ ان کے عقیدے میں اگر تاریخِ اسلام کی بعض شخصیتیں قابلِ اعتراض ہیں تو وہ ایسا عقیدہ رکھ سکتے ہیں ، اپنے گھروں میں بیٹھ کر وہ اُن کو جو چاہیں کہیں ، ہمیں اُن سے تعرض کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ھے ۔ لیکن کُھلے بندوں بازاروں میں یا پبلک مقامات پر اُنہیں دوسروں کے مذہبی پیشواؤں پر تو درکنار ، کسی کے باپ کو بھی گالی دینے کا حق نہیں ھے ۔ اور دُنیا کے کسی آئین انصاف کی رُو سے وہ اِسے اپنا حق ثابت نہیں کر سکتے ۔ اِس معاملے میں اگر حکومت کوئی تساہل کرتی ھے تو یہ اس کی سخت غلطی ھے ، اور اس تساہل کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ھو سکتا کہ یہاں فرقوں کی باہمی کشمکش دَبنے کے بجائے اور زیادہ بھڑک اُٹھے ۔
دشنام طرازی کا لائسنس دینا اور پھر لوگوں کو دشنام سننے کے لیے اِس بنا پر مجبور کرنا کہ اس کا لائسنس دیا جا چکا ھے ، حماقت بھی ھے اور زیادتی بھی ۔ حکومت کی یہ سخت غلطی ھے کہ وہ شیعہ حضرات کے مراسم عزاداری اور اس سلسلے کے جلسوں اور جلوسوں کے لیے معقول اور منصفانہ حدود مقرر نہیں کرتی اور پھر جب بےقید لائسنسوں سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی بدولت جھگڑے رُونما ھوتے ہیں تو فرقہ وارانہ کشمکش کا رونا روتی ھے ۔
اِس معاملے میں سُنّیوں اور شیعوں کی پوزیشن میں ایک بنیادی فرق ھے جسے ملحوظ رکھ کر ہی فریقین کے درمیان انصاف قائم کیا جا سکتا ھے ۔ وہ یہ ھے کہ شیعہ جن کو بزرگ مانتے ہیں وہ سُنّیوں کے بھی بزرگ ہیں اور سُنّیوں کی طرف سے اُن پر کسی طعن و تشنیع کا سوال پیدا ہی نہیں ھوتا ۔ اِس کے برعکس سُنّیوں کے عقیدے میں جن لوگوں کو بزرگی کا مقام حاصل ھے اُن کے ایک بڑے حصّہ کو شیعہ نہ صرف بُرا سمجھتے ہیں بلکہ اُنہیں بُرا کہنا بھی اپنے مذہب کا ایک لازمی جُز قرار دیتے ہیں ۔ اِس لیے حدود مقرر کرنے کا سوال صرف شیعوں کے معاملے میں پیدا ہوتا ھے ۔ اُنہیں اس بات کا پابند کیا جانا چاہیے کہ بَدگوئی اگر اُن کے مذہب کا کوئی جُزوِ لازم ھے تو اسے اپنے گھر تک محدود رکھیں ۔ پبلک میں آ کر دوسروں کے بزرگوں کی بُرائی کرنا کسی طرح بھی اُن کا حق نہیں مانا جا سکتا ۔ ”
( سیّد مودودیؒ ۔ رسائل و مسائل سوم )

Author: Dr Asif Mahmood Khokhar

Senior eye surgeon with special interest in Vitreoretinal, Oculoplastic, Laser, and Phaco surgeries

Leave a Reply

Be the First to Comment!

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔