شوکت صدیقی اوپن ٹرائل: پہلے دن کی کارروائی

جائیں تو جائیں کہاں
………………….
جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر سپریم جوڈیشل کونسل کی پہلی بار کھلے کمرے میں سماعت کا آغاز ہوا۔ پہلے روز کی سماعت کے دوران دیکھنے میں آیا کہ جسٹس ثاقب نثار جسٹس صدیقی کے ریفرنس کا فیصلہ کرنے کی جلدی میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین دن میں فیصلہ کرنا ہے۔

چیف جسٹس نے جسٹس شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان نے کہا کہ آج جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں شواہد ریکارڈ ہونے ہیں۔ اس پر حامد خان نے کہا کہ میرے موکل کی طرف سے دو درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ ایک درخواست میں اعلی عدلیہ کے ججز کے گھروں کی تزئین و آرائش پر اٹھنے والے اخراجات کا گزشتہ ریکارڈ اور ججز سرکاری گھر کے ساتھ رہائشی الاؤنس لے رہے ہیں وہ ریکارڈ مانگا ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ جوڈیشل کونسل کی کاروائی کو طول نہیں دینا چاہتے۔ یہ ریکارڈ منگوانے کا کوئی مقصد نہیں۔ دوسروں کو چھوڑیں آپ پر جو الزامات ہیں ان کی روشنی میں جواب دیں۔

جسٹس شوکت عزیز کے وکیل نے جواب دیا کہ میرے موکل پر سرکاری گھر کی تزئین و آرائش پر بجٹ زیادہ پیسے لگوانے کا الزام ہے۔ ریکارڈ سے دوسرے ججز کے سرکاری گھروں پر اٹھنے والے اخراجات کا موازنہ کرنا چاہتے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل انکوائری کرتی ہے۔ انکوائری کا دائرہ اختیار اتنا وسیع نہیں ہوتا کہ سب کا موازنہ کیا جائے۔ ٹرائل شروع ہو چکا ہے ہم صرف شواہد کی روشنی میں فیصلہ کریں گے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل نے کہا کہ ہماری دوسری درخواست ریفرنس کے شکایت کنندگان اور گواہوں سے متعلق ہے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف شکایت کرنے والوں اور گواہی دینے والوں کے خلاف کون کون سے جرائم کے کتنے فوجداری اور عدالتی مقدمات اس وقت کون کون سی عدالتوں میں چل رہے ہیں، اس کا ریکارڈ منگوایا جائے۔ ہماری تیسری درخواست اس حوالے سے ہے کہ دیکھا جائے کہ جب گھر شوکت عزیز صدیقی کو الاٹ ہوا تھا اُس وقت اُس کی کیا حالت تھی۔

چیف جسٹس نے جسٹس صدیقی کی تینوں درخواستیں مسترد کر دیں۔

اس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ریکارڈ نہ ہونے کہ وجہ سے میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اپنا دفاع نہیں کر سکتا، کم سے کم یہ تاثر ضرور ملنا چاہیے کہ میرے ساتھ برابری کا سلوک ہوا۔ چیف جسٹس نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان سے کہا کہ ان (جسٹس شوکت عزیز صدیقی) سے کہیے عدالت کو مخاطب نہ کریں۔ ‘آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ کارروائی میں ان کو بولنے نہیں دیں گے’۔ پھر چیف جسٹس نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی سے کہا کہ جو بات کہنی ہے اپنے وکیل کے ذریعے کریں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کون سا غلط اختیارات کا استعمال کر رہے ہیں، کسی کو اٹھا کر باہر نہیں پھینکنا چاہتے، جوڈیشل کونسل کی صوابدید ہے کارروائی کیسے چلانی ہے، یہاں آپ کی مرضی سے کارروائی نہیں چلنی ۔ ہمیں آگے جا کر جواب دینا ہے، آگے جا کر ایسے منہ کالا نہیں کرنا۔

اس دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے روسٹرم پر کھڑے اپنے وکیل حامد خان کے کان میں بات کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ حامد خان اپنے موکل سے کہیں کہ اس طرح بات نہ کریں،

جسٹس صدیقی کے وکیل نے کہا کہ مجھے جرح کے لیے وقت دیں، کونسل اپنی کارروائی کل تک ملتوی کردے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم گواہ کا بیان ریکارڈ کر لیتے ہیں، جرح آج نہیں کرتے،۔ وکیل حامد خان نے کہا کہ تاثر ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بہت جلدی ہے۔ یہاں جسٹس صدیقی نے کہا کہ میرا فیصلہ جلدی نہ ہو بلکہ انصاف کے مطابق ہو۔

اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک بار پھر ناراضی کا اظہار کیا اور وکیل حامد خان سے کہا کہ اپنے موکل سے کہیں کہ کونسل کا احترام کریں۔ جسٹس ثاقب نثار کے حکم پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس کے گواہ علی انور گوپانگ عدالت میں پیش ہوا۔ اور اُس کا بیان حلفی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا کر کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ۔

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.