سُرمہ لگانے کے حوالے سے ایک اہم سوال اور اُس کا جواب

ڈاکٹر صاحب سُرمہ سُنتِ نبوی ہے۔ ڈاکٹڑ سُرمہ لگانے سے منع کرتے ہیں۔ یہ بھی بتائیں کہ میٹھا سُرمہ، کڑوا سُرمہ، اور لطیف سُرمہ میں سے کون سا بہتر ہے؟ نظر کی کمزوری کو دور کرنے کیلئے سپرمے کے استعمال کے سلسلے میں رہنمائی فرمائیں۔

محترم بلال عثمانی صاحب السلام علیکم اصل غلطی پیدا ہوتی ہے اِس بات کو سمجھنے میں کہ حضورِ اکرم ﷺ کی سُنّت ہے کیا؟ سُرمہ لگانا سُنّت نہیں ہے بلکہ سُنّت یہ پے کہ آنکھوں کی حفاظت کی جائے اور اپنے وقت کے لحاظ سے جو بہتر تدبیر ممکن ہو اُسے اختیار کیا جائے مثلاً سُرمہ اُس وقت کا بہترین علاج تھا آپ ﷺ نے اُسے اختیار کیا۔ اگر آج اُس سے بہت بہتر علاج اور احتیاطی تدابیر میسر ہیں تو اُن کو اختیار کیا جانا چاہئے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ گھوڑے اور گدھے پر سواری کرنا سُنّت نہیں ہے بلکہ اُس وقت کے مطابق جو اچھے وسائلِ سفر میسر تھے اُنھیں استعمال میں لانا سُنّت ہے۔ اُس وقت بھی بعض لوگ پیدل چل کر حج کے لئے جانے کو زیادہ ثواب کا ذریعہ سمجھتے تھے لیکن حضور ﷺ نے بتایا کہ اللہ کی نعمتوں کو استعمال میں نہ لانا اللہ کی ناشکری ہے۔ یقیناً یہی وہ سوچ ہے کہ آج گدھے اور گھوڑے کی سواری کو استعمال کرنے پر اصرار نہیں کیا جاتا بلکہ موٹر سائیکل، کار اور ہوائی جہاز سب کُچھ استعمال کیا جاتا ہے اور اِن میں سے کسی کام کو بھی سُنّت نبوی ﷺ کی خلاف ورزی نہیں سمجھا جاتا۔ آخر علاج کے معاملے میں ہم یہ سوچ کیوں اختیار کرتے ہیں؟

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.