ذرا سوچ کر جائزہ لیجئے

بھلا ایک گھر جس کہ دروازے پر کوئی تالہ نہ ہو ، جس کی دیواریں بھی اتنی نیچی ہوں کہ ایک بچہ بھی ان کو پھلانگ سکے ، جس کی اندرونی یا بیرونی حفاظت کا کوئی انتظام نہ ہو اگر اس گھر میں چور یا ڈاکو گھس آئیں تو حیرت کس بات کی !!
کفر و شرک کیساتھ گناہوں کی مثال کچھ ایسی ہی ھے ۔ جب وجود پر ایمان کا پہرہ ہی نہیں ہے ، دل خوف الہی و رحمت الہی سے واقف ہی نہیں ہے ، قیامت کی جواب طلبی کا تصور ہی نہیں ہے ، تو کیا فرق پڑتا ہے اگر یہ چوری کرے یا زنا کرے !، شراب پیے یا جوا کھیلے ۔ جب پہرہ نہ ہو تو ڈاکو تو پڑتے ہی ہیں !
مگر حیرت تو اس گھر پر ہے جس نے تالہ بھی لگایا ہوا ہے ، دیواریں بھی اونچی ہیں ، اور حفاظت کا انتظام بھی کررکھا ہے مگر پھر بھی ڈاکہ پڑ جائے ! چور پھر بھی گھس آئیں ۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ حفاظتی انتظامات میں کمی رہ گئی ہے ۔ کہیں نقب لگانے کی گنجائش باقی تھی جہاں سے چور در آئے یا ڈاکووں نے سیڑھی لگا لی !!
ایمان کہ ساتھ ، توحید کہ تالے کہ ساتھ ، خوف الہی کی دیوار کہ ساتھ اگر پھر بھی گناہ سرزد ہورہے ہیں تو فکر کیجیے ! ابھی کہیں گنجائش باقی ہے ، کوئی رخنہ کوئی سوراخ ابھی توجہ سے باہر ہے ! ابھی ایمان کا سبق پختہ نہیں ہے ، توحید کا تالہ کھل سکتا ہے ، خوف الہی نے دل میں مکمل گھر نہیں کیا !
آیئے سب دیکھیں کہ کہیں ہماری حالت ایسی تو نہیں ھے۔

Top of Form

Like

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.