ذرا سوچئے

زینب کو بچانے کی تیز رفتار حکمت عملی  

زینب کو بچانے کی تیز رفتار حکمت عملی

اختر عباس
یہ بہت تکلیف دہ دن تھا ،معصوم صورت مظلوم زینب کی میت سامنے پڑی تھی اور لاہور سے جانے والے قادری صاحب پوری بے رحمی کے ساتھ دعا کے نام پر بد دعائیں مانگ رہے تھے ، ان کے جملے آگ لگانے جیسے تھے اور وہ اسی کام کے لئے وہاں آئے تھے ،ہجوم کو دیکھ کر بڑے بڑے اپنا توازن کھو بیٹھتے ہیں مگر یہی لمحہ ہوتا ہے جب آپ ایک حقیقی راہنما بنتے ہیں یا ایک وقتی اشتعال میں جمع ہونے والوں کے جتھے دار جو اپنے پر غم اور دکھ کے لئے کوئی راستہ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں،ان لوگوں کا بالعموم حادثے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہومگر وہ بڑھ چڑھ کر اپنے پرخلوص غصے کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں ۔ نہ وہ اپنے غصے کی آخری حد کو جانتے ہوتے ہیں اور نہ اس کی شدت دکھانے کے بعد اس کے نقصات سے آگا ہ ہوتے ہیں، یہ جلوس ایران میں مہنگائی کے خلاف ہو یا قصور میں زینب کی موت پر دعا کی بجائے احتجاج اور سرکاری دفاتر پر حملے کا خوگر، نہ کبھی مہنگائی کم ہوتی ہے اور نہ مرنے والی کو زندگی واپس ملتی ہے البتہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ کچھ معصوم اور جذباتی لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ،راہنمائی آگ لگانے میں نہیں بجھانے اور کسی حل کی طرف لے جانے کانام ہے ،یہ کیسی راہنمائی اور ناراضی ہے کہ ٹی وی کی سکرین پر خبر دیکھی ،لوگوں کا ہجوم دیکھا ان کا غم و غصہ محسوس کیا اور وہاں جا پہنچے ،کم سے کم پانچ سیاسی راہنماوں کے بیان میرے سامنے ہیں مجال ہے کسی نے ایک لفظ بھی جرم اور مجرم کے بارے میں کہا ہو اس کے مستقل حل کی طرف راہنمائی کی بات کی ہو ، ’ صرف سرخیاں ملاحظہ ہوں’’یہ حکومت کی ناکامی ہے ،یہ شریفوں کے منہ پر طمانچہ ہے ،قاتل اعلیٰ سے شہداے قصور کا بھی انتقام لیں گے ،شریفوں نے پنجاب پولیس کو خراب کر دیا ہے ،‘‘جس شیطان نے یہ کام کیا وہ یہ سب کہیں کسی کونے میں چھپا یہ دیکھ اور پڑھ کر مسرور ہو رہا ہوگا کہ کسی کو بھی اس کے گناہ پرغصہ نہیں ہے،سبھی کو ہی اپنی ادنیٰ سیاسی سوچ کو جھنڈا بنا کر لہرانے سے ہی فرصت نہین،یہ جو اب خبر بنوانے بھاگے چلے آتے ہیں ان کو یہ خبر کیوں نہیں ہوئی کہ اسی قصور شہر کی بارہ بچیاں کچھ ہی عرصے میں عزت اور جان سے گئیں ایک ہی شہر میں اور ایک ہی طرح کے واقعات سے ،تب آپ کہاں سوئے تھے ،چونکہ لوگ احتجاج کے موڈ میں نہیں تھے ،چونکہ مسلہ کو آگ نہیں لگی تھی ،چونکہ لاش دستیاب نہیں تھی اور براہ راست کوریج نہیں تھی اس لئے آپ بھی نہیں آئے اور آپ کے اندر برپا عوامی ہمدردی کا طوفان بھی کہیں سویا رہا ،یہ کیسی راہنمائی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر کسی حادثے اور سانحے کی منتظر رہتی ہے ،ایسی خبر یں آپ کو خبروں میں زندہ رکھتی ہے ،اس احتجاج میں مرنے والے دو یا تین لوگوں کے غم زدہ خاندانوں پر اب کیا بیتے ہیں، ان کے بچے کس مشکل اور عذاب کا شکار ہونگے ،ان کو احتجاج کے نام پر جلوس میں آگے لگانے،ڈی سی آفس پر حملہ کروانے اور گولی کا شکار بنوانے والوں سے کبھی تو پوچھا جانا چاہئے
معصوم صورت زینب کے مجرم کو ڈھونڈنے،ااس پاس اس کا کھرا ناپنے ،اپنے بچوں کی حفاظت کے لئے بیٹھ کر سنجیدگی سے سوچ بچار کرنے کی بجائے ڈسٹرکٹ ہسپتال پر حملہ کرنے ، پورا دن ڈنڈوں سے مسلح ہو کرڈاکٹروں اور عملے کو تکلیف دینے اور ان کا شکار کرنے کے لئے اندر گھس آنے اور نہ پا کر واپس چلے جانے کو آپ کیا کہیں گے ۔ اسے معمولی سی بات کیسے سمجھ سکتے ہیں،ایسی منصوبہ بنددی کرنے والے کہاں سے آتے ہیں کون ہوتے ہیں، اپنے ہی شہر کے اپنے ہی لوگوں کے بچے ا جس بے رحمی سے ہر حادثے کے بعد بسوں ،کاروں کو آگ لگانے ہیں اور پھر ان کا جانتے بوجھتے ہوئے لوگوں اور شہروں کویرغمال بنانے کی اجازت دئے رکھنے کا چھوٹا سا نتیجہ یہ ہے کہ ایک چھوٹے سے شہر کے بچے بھی ڈنڈوں اور جتھوں کی مدد سے ساری لا انفورسنگ ایجنسی کو آگے لگانے کی ہمت اور حکمت رکھتے ہیں۔یہی عالم رہا تو لا اینڈ آرڈر کے نام پر کل کوئی سپاہی حکم کے باوجود بھی آگے نہیں بڑھے گا ، وہ کیوں ہجوم سے مار بھی کھائے ،اپنی آنکھ نکلوائے، پسلی تڑوائے اور پھر معطلی اور برطرفی کی بے عزتی بھی جھیلے
اپنی زینبوں کو بچانا ہے تو کسی ادارے کی عزت اور احترام نہ سہی اس کی وقعت اور ڈر ہی باقی رہنے دیں ان کو یوں ٹکہ ٹوکڑی نہ کریں۔ان کی ٹاسکنگ میں بچوں کی حفاظت اور اس کے لئے حساسیت [سینس ٹیویٹی] پیدا کریں،اس حوالے سے خصوسی سیکشن اور ٹریننگز دلوایئے،پولسنگ کے معمول کے کام میں اس پہلو کو بطور خاص شامل کریں ،موجودہ پولیس کو ختم آپ کر نہیں سکتے ،پوری اصلاح ہونا بھی ممکن نہیں تو اس میں کچھ معاشرتی کاموں کا اضافہ تو ہو سکتا ہے کہ جس کہ رپورٹنگ بھی ہو اور اس کی پوچھ بھی ، دہشت گردوں کی طرح اب اس مسلے پر بھی ہمیں زیرو ٹالرنس پر جانا چاہئے ،ایسے کیسز میں عدالتوں میں صفائی کے وکلا ء کو پیش ہونے کی اجازت دینے پر بھی غور کر لینا چاہئے جو نظام ظلم کی برقراری اور استواری میں بلاجھجک کام آتے ہیں،ان کیسز میں فیصلے پولیس مقابلوں کی سپیڈ سے ہی ہونگے تو قابو پایا جاسکے گا ورنہ یہ جنسی جرم ایک مکروہ وائرس کی طرح بڑھتا اور پھیلتا جائے گا چونکہ اس کے پیدا ہونے کی آماج گاہیں اب گھر گھر اور ہر موبائل میں موجود ہیں،اتنی زیادہ روشن خیا لی ہے کہ ہم بربادی کے دروازے بھی بند کرنا بھول گئے ہیں

پیدائشی اندھے بچوں کیلئے خوشخبری

بائیو ٹیکنولوجی کا کمال
Human Gene Therapy
FDA has approved the treatment after going through all parameters.
Adeno-associated virus is used as vector.
RPE 65 Gene
جین وائرس میں منتقل کیا جاتا ہے اور وائرس انجیکشن کے ذریعے آنکھ میں منتقل کیا جاتا ہے۔
انجیکشن کی قیمت 8 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔ شاید ایک ملی لیٹر کا دسواں حصہ۔ یعنی چھوٹا سا قطرہ۔
اس سے ریٹینا کے بعض سیل دوبارہ بن جاتے ہیں اور ایک قسم کے نابینا پن کا علاج ہو جاتا ہے۔ پیدائشی اندھے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ جن بچوں کا علاج کیا گیا ہے اب تک ایک سال ہو چکا ہے ابھی تک وہ ٹھیک ہیں۔
ہو سکتا ہے اس طرح کی دوسری بیماریوں کے جینز بھی میسر آ جائیں۔ انشاءاللہ جلد ہی یہ ٹیکے سستے بھی ہو جائیں گے۔

ابولہب کی تلاش

اشتہار گُمشُدگی۔ اصلی ابُو لہب کی تلاش :

جب سے سورۂ ابو لہب پر غور کیا مُجھے کبھی آئینے میں ابو لہب نظر آتا ہے کبھی اپنے دوستوں میں۔ میں گھبرا کر مسجد کا رُخ کرتا ہوں تو ممبر اور صفوں میں ہر طرف ابُو لہب نظر آتے ہیں۔
میری گلیوں شہروں ، حکوتی و فوجی اداروں اور عدالتوں میں مُجھے ہر طرف ایک ہی چہرہ نظر آتا ہے۔ آگ برساتا عقل اور تدبیر سے عاری جزبات اور احساس برتری سے سے بھرا ابُو لہب۔.
مُجھے ان سب میں سے اُس ابُو لہب کی تلاش ہے جسکے بارے میں قُرآن کی سورۂ ابو لہب ہے۔ مولوی صاحب نے بتایا بھائی کسے ڈھونڈتے ہو ابُو لہب تو مُحمدﷺ کا چچا عبدُل عُزا تھا جسے اُس کے رویّے کی وجہ سے ابُو لہب یعنی شُعلوں کا باپ کہا جاتا تھا وہ تو چودہ سو سال پہلے مر کھپ گیا تھا۔
میں نے عرض کی مولانا کیا جیسے سورہ ابُو لہب میں ذکر ہے اُس کے ہاتھ ٹُوٹیں گے کیا اُس کے ہاتھ ٹُوٹے تھے۔ مولانا نے فرمایا نہیں بھئی یہ حقیقت میں نہیں مجازی طور پر ہونا تھا یعنی تباہی اُسکا مُقدّر تھی۔
میں نے مولانا سے سوال کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ ابُو لہب کا ذکر کرنے میں بھی مجازی طور پر میرا اور اور آپکا ذکر ہو اگر ہاتھ ٹُوٹنا مجازی معنوں میں لیا جانا چاہیے تو اُس حقیقی عبدُل عُزا کا ہی کیوں سوچا جائے جو صدیوں پہلے مر کھپ گیا۔
مولانا کے امام اور امام کے اُستاد نے چونکہ اپنی تفسیروں میں صدیوں پہلے عبدُل عُزا کو ہی آخری اور حتمی ابُو لہب لکھ دیا تھا لہٰذا مولانا تو نہیں مانے میں نے سوچا آئینہ آپکی خدمت میں پیش کروں۔
کہیں آپ بھی آگ کے باپ تو نہیں۔ کہیں آپ بھی عبدُل عُزا کی طرح ضدّی اور انا پرست تو نہیں۔ کہیں اُسکی طرح آپ بھی مُخالف نظریے کے لوگوں کی نفرت میں اندھے تو نہیں ہو جاتے۔ کہیں آپ کے بھی دل دماغ آنکھ کان اور عقل پر مُہر تو نہیں لگی۔ کیا دلیل آپ پر بھی تو بے اثر نہی ہو گئی۔ اگر آپ میں یہ سب نشانیاں ہیں تو آپ ہی اصلی گُمشدہ ابُو لہب ہیں.
مُجھے آپکو ڈھونڈ کر بس یہ بتانا تھا کہ سورہ ابُو لہب کے مُطابق آپکے ہاتھ ٹُوٹیں گے۔ آپکا مال اولاد آپکے کام نہ آئیں گے۔ یہ جو آپکے اندر انا ، غُصہ ، فرقہ ورانہ نفرت ، حسد اور بُغض کی آگ بھری ہے اس سورہ کے مُطابق آپ ہی کے گلے کا طوق بنے گی۔
قُرآن بعض اوقات بظاہر کسی خاص قوم یا افراد سے مُخاطب ہوتا ہے جیسے بنی اسرائیل ، نصارا، ابُو لہب یا قُریش وغیرہ۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ جب یہ آیات آپ کے لیے ہیں ہی نہیں تو آپ کیوں انہیں تلاوت کرتے ہیں جبکہ نہ ابُو لہب زندہ ہے اور نہ کوئی قُریشی اب غیر مُسلم ہے۔ بنی اسرائیل نصارا، ابُو لہب یا مُشرک قُریش کولکھے جانے والے کھُلے خط مُجھے کیوں دیے گئے۔ ایک تو یہ بات ہے کہ اُن تک یا اُن جیسوں تک یہ خطوط مُجھے پہنچانے ہیں لیکن یہ خط کھُلے اس لیے چھوڑے گئے کہ میں آگے پُہچانے سے پہلے ان خطُوط کے آئینے میں خود کو دیکھ لوں۔
بنی اسرائیل کو پیغام دینے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لوں کہیں اُنکی سب سے بڑی بُرائیاں یعنی قوم پرستی اور نسلی تفاخُر مُجھ میں تو نہیں۔
کسی بھی قوم کے بارے میں جو آیات قُرآن میں ہیں وہ ہمارا آئینہ اور ایمان کی چھلنیاں ہیں۔ آئیے اُن چھلنیوں سے گُزر کر دیکھیں۔ منقول

ہم ناہنجار تو یقین بھی نہیں کرینگے لیکن کاش ہم ایسے ہو جائیں!

Continue reading “ہم ناہنجار تو یقین بھی نہیں کرینگے لیکن کاش ہم ایسے ہو جائیں!”

یہ کیا دانشور ہیں! کہیں بازی گر تو نہیں؟

شمس الدین امجد

شکر ہے
گزشتہ 14 صدیاں سوشل میڈیائی دانش سے محروم رہی ہیں، ورنہ کیا معلوم کہ السابقون الاولون اور اسلاف کے فقر، درویشی، سادگی، غربت کی سچی کہانیاں زندہ ہونے سے پہلے کہیں دفن ہو جاتیں۔ ذرا اندازہ کیجیے کہ جب خلفاء سے سوال کرنے کا رواج تھا، کوئی کھڑا ہو کر کہہ دیتا ” اے خلیفۃ المسلمین، یہ پتھر سرہانے کے نیچے رکھ بیابان میں نیند پوری کرنے سے ہمیں نہ لبھائیے، مسند نبی ﷺ کے وارث ہیں، کچھ ہے تو پیش کیجیے” دانش آج کی طرح اندھی ہوتی تو دنیا کو سب سے پہلے باقاعدہ نظام حکومت سے روشناس کروانے والے روم و فارس کو دھول چٹانے والے خلیفہ کے سامنے سوال اٹھانے سے ہرگز نہ ہچکچاتی۔
اور گزشتہ 14 سو سالوں کی تاریخی روایت اس لحاظ سے بھی شکریے کی ادائیگی کی مستحق ہے کہ کسی ایسی دانش سے اس کو سامنا نہیں کرنا پڑا کہ بند کرو آباء و اسلام کے یہ قصے کہانیاں، نامہ اعمال میں اس سے کچھ ہٹ کر ہے تو پیش کرو۔ دو لفظوں کی دانش کو کیا معلوم کہ عامیوں کے دماغ اس کی طرح آسمان پر نہیں ہیں، وہ اسی زمین پر رہتے ہیں، یہ واقعات سنتے ہیں تو ایمان تازہ ہوتا ہے، تزکیہ نفس ہوتا ہے، اور مشکلات میں گھری زندگی اس سے حوصلہ پاتی آگے بڑھتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جماعت اسلامی اس ملک کی واحد جمہوری جماعت ہے، تنظیم ایسی ہے کہ جب سے بنی ہے، ضرب المثل ہے۔
کراچی سے خیبر تک جہاں اس کو موقع ملا ہے، اس نے امانت و دیانت اور کارکردگی میں اپنی انفرادیت ثابت کی ہے، ایسی کہ معاشرہ مثالیں دیتا ہے۔
پلڈاٹ کہتا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں قومی اسمبلی اور سینٹ میں اس کے پارلیمنٹیرین کارکردگی کے اعتبار سے پہلے نمبر پر ہیں (پروفیسرخورشید احمد، لیاقت بلوچ) سب سے آگے ہیں، بہترین ہیں۔
اس کے موجودہ ارکان اسمبلی گیلپ، پلڈاٹ فافین جیسے اداروں سے کارکردگی کے اعتبار سے بہترین قرار پاتے ہیں، گاہے تو چاروں ٹاپ ٹین کی لسٹ میں شامل ہوتے ہیں۔
نعمت اللہ خان کراچی 4 ارب کا بجٹ 50 ارب تک پہنچا دیتے ہیں اور تبدیلی کی بنیاد رکھتے ہیں، ایسی کہ مشرف جیسا بدترین مخالف بھی اداروں کی رپورٹس کی بنیاد پر حسن انتظام اور دیانت کی گواہی دیتا ہے اور آفر کرتا ہے کہ جماعت چھوڑ دیں تو اگلی ٹرم بھی آپ کی ہے۔
عنایت اللہ خان آج بھی خیبر میں 10 اصلاحاتی کمیٹیوں کے چیئرمین ہیں، اور صوبے میں تبدیلی انھی کے دم سے ہے۔ ابھی کابینہ نہیں بنی تھی کہ ڈیلی ٹائمز جیسے نظریاتی مخالف اخبار نے لکھا کہ گزشتہ دور میں بطور وزیر صحت ان کی کارکردگی بہترین تھی، چنانچہ انھیں دوبارہ وزیرصحت بنایا جائے۔
اور
خود سراج الحق وزیرخزانہ بنے تو پہلا بجٹ 40 ارب کا اور آخری 100 ارب سے زائد کا پیش کیا، اور ایم ایم اے کے دورحکومت میں ورلڈ بنک سمیت عالمی اداروں نے فنانس مینجمنٹ اور فنڈز کے استعمال کو ایکسلنٹ قرار دیا۔ موجود دورحکومت میں اسحاق ڈار نے بہترین بجٹ پیش کرنے اور فنڈز کے درست استعمال کا اعتراف کیا۔
اور صرف حکومت نہیں، باہر بھی جماعت سب سے بڑا فلاحی نیٹ ورک رکھتی ہے اور اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں، ایسے کہ ایک ایک پائی کا حساب رکھا جاتا ہے۔ تعلیم و صحت کا نیٹ ورک چاروں صوبوں میں ہے، اور وہ بھی سب سے بڑا ہے۔ خوبیاں اور بھی بیان کی جا سکتی ہیں، دفتر ہی پیش کیا جا سکتا ہے، مگر دانشوری نے مطمئن ہونا ہے نہ ہوگی، کہ یہ سب باتیں تو اس کے علم میں بھی ہیں، مگر انجان بن نامہ اعمال سے کچھ پیش کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ پہلے ایسے مطالبے پر حیرانی ہوتی تھی، اب یہ حیرانی بھی جاتی رہی ہے، کہ چٹکلوں پر حیران نہیں ہوا جاتا، مسکراہٹ اچھالی جاتی ہے، محظوظ ہوا جاتا ہے۔

سراج لالہ کی “ڈرامائی” سادگی

طارق حبیب
۔
جناب معاملہ یہ ہے کہ ۔۔۔۔ یہ سادگی مصنوعی ہو یا حقیقی ۔۔۔۔۔ آپ کو کھٹکتی کیوں ہے؟؟؟؟؟….۔۔۔قاعدہ ہے کہ یکسانیت سے ہٹ کر جو عمل ہو۔۔۔۔اور آپ کے نظریے و عقیدہ کے مطابق میل بھی کھاتا ہو۔۔۔۔اپنا علیحدہ تشخص کی پہچان کیلئے۔۔۔۔۔اسی کو عوام کے سامنے لایا جاتا ہے۔۔۔۔۔
۔
چلو سراج لالہ کی سادگی کو رکھے ایک طرف۔۔۔۔۔ اب بتائیں آپ اپنے رہنمائوں کے ۔۔۔۔ کس عمل کی تشہیر کرنا پسند کریں گے۔۔۔۔۔۔ گندے گندے میسجز کی جو مائوں بہنوں کو بھیجے جاتے ہیں۔۔۔۔۔یا سلفی، چرس، شراب کی۔۔۔۔۔جو سر عام پی جاتی ہے۔۔۔۔۔ ۔
۔
بتائیں نا۔۔۔۔۔کس عمل کو عوام میں معروف ٹھہرائیں گے۔۔۔۔۔ایان علی جیسے کرداروں کے ذریعے منی لانڈرنگ۔۔۔۔۔یا ڈاکٹر عاصم جیسوں سے اربوں کی کرپشن۔۔۔۔۔ عوام کو کیا بتائیں گے ۔۔۔۔سیاسی مفاد کیلئے ۔۔۔۔۔ خاندانی نام تبدیل کرلو۔۔۔۔۔بھٹو زرداری ہو جائو۔۔۔۔۔یا اپنی خواتین کے ساتھ شراب نوشی کی تصویریں عام کرو۔۔۔۔یا سرے محل سوئس اکائونٹس۔۔۔کی تصاویر پھیلائی جائیں یا۔۔۔۔۔گے کلب میں بلاول کے کارناموں کی تصویریں۔۔۔۔بتائیں یار۔۔۔۔۔
۔
یا آفشور کمپنیوں کے ذریعے ٹیکس چوری۔۔۔۔ جاتی عمری۔۔۔۔۔قطری شہزادے کے خطوط۔۔۔۔۔یا کرپٹ اولاد۔۔۔۔۔کی تصاویر وائرل ہونی چاہئے آپ کی نظر میں۔۔۔۔۔۔
۔
تاکہ بقول آپکے۔۔۔۔۔عوام کو شعور آگیا ہے تو۔۔۔۔عوام کو ان کی تقلید کرنی چاہئے۔۔۔۔؟؟؟؟؟
۔
برا مت بنانا۔۔۔۔سادگی پر مرچیں تو بہت لگتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلو بتائو جب اپنے گھر میں سیاسی شعور و وژن دینا چاہو گے۔۔۔۔۔تو کس رہنما کی تقلید کا مشورہ دوگے۔۔۔۔۔بتائو بھی یار۔۔۔۔۔کیا دینا چاہو گے؟؟؟؟ ۔۔۔۔
۔
سراج لالہ سر راہ خط کیوں بنواتے ہیں۔۔۔۔فائیو اسٹار بیوٹیشن کے پاس جانا چاہئے؟؟؟؟۔۔۔۔۔جیسے صنف نازک سے بال کٹوانے والے۔۔۔۔۔فخر سے اپنی تصاویر شیئر کرتے ہیں۔۔۔۔
۔
سراج لالہ کی سادگی کو پرموٹ کیوں کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔جی ہاں بالکل ۔۔۔۔۔ 26 تا 30 محافظ گاڑیوں کے پہرے میں جاتے۔۔۔۔رہنمائوں کی تصاویر کو پرموٹ کرنا چاہئے۔۔۔۔۔۔بلٹ پروف شیشے کے پیچھے سے خطاب کرتے رہنمائوں ۔۔۔۔ کی تقلید کی دعوت دینی چاہئے۔۔۔۔۔سرکاری وسائل کے بے جا استعمال اور لوٹ مار کی ۔۔۔۔تشہیر کرنی چاہئے۔۔۔۔۔۔
۔
ارے او جھانپئوں۔۔۔۔
۔
سراج لالہ کی تصویر کارکن بناتے ہیں ۔۔۔۔۔ محبت میں۔۔۔۔فخر سے عوام کو بتاتے ہیں یہ ۔۔۔۔فرق ہے دوسروں اور ہم میں۔۔۔۔۔ورنہ تو رائٹ کے رہنما اور بھی ہیں۔۔۔۔ ڈبل کیبنوں میں درجنوں ڈشکرے گارڈز۔۔۔۔اور جیمرز وہیکل بھی ساتھ ہوتی ہیں۔۔۔۔۔
۔
جناب من ۔۔۔۔۔
۔
۔ تشہیر ایسے عمل کی ہوتی ہے جو۔۔۔۔دوسروں سے الگ ہو۔۔۔۔ آپ کی نمود نمائش کی اس دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں۔۔۔۔جو مصنوعی چکا چوند کو سے متاثر نہیں ہوتے۔۔۔۔اگر ایسی مصبوعیت کو کوئی جوتے کی نوک پر رکھتا ہے۔۔۔۔۔پروٹوکول، وی آئی پی کلچر پر تھوکتا ہے۔۔۔۔تو وہ تشہیر چاہے نہ چاہے۔۔۔۔۔اس کے فالوورز تو چاہیں گے۔۔۔۔۔کیونکہ یہی ان کے رہنما کی انفرادیت ہے۔۔۔۔
۔
بات مزید آسان کئے دیتا ہوں۔۔۔۔اب دیکھیں نا۔۔۔۔۔
۔
میڈیا پر لبرلز اور لیفٹ کا دور دورہ ہے۔۔۔۔۔آپ ان میں گھل مل کر اپنی پہچان نہیں بنا سکتے تھے ۔۔۔۔۔ اسلئے آپ نے اپنی۔۔۔۔۔فلسفیت اور دانشوریت میں۔۔۔۔مذہب کا تڑکہ لگانے پر مجبور ہیں۔۔۔۔۔ایسے ایشوز کو اٹھا کر اپنا قد بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔۔۔جو رائٹ کے ایشوز قرار پاتے ہیں۔۔۔۔۔ اپنے منجن میں مذہبی آمیزش کرنا ۔۔۔۔۔ آپ کی مجبوری ہے جناب۔.۔۔ ورنہ اب تو آپ کو اکا دکا لوگ جانتے ہیں۔۔۔۔۔اگر ایسا نہ کریں گے تو۔۔۔۔ماضی کی طرح گمنامی میں رہیں گے۔۔۔۔جو آپ جیسے شہرت کے ہوس کے پجاریوں کی موت ہے۔۔۔۔۔۔
۔
امید ہے افاقہ ہوا ہو گا۔۔۔۔ نہ ہوا تو۔۔۔۔ اگلا اسٹیٹس اس جملے سے شروع کرونگا۔۔۔۔۔۔
۔
استاد محترم سے معزرت کے ساتھ۔۔۔۔۔
۔
رہے نام مولا کا

کیا یہ محض اتفاق کی بات ہے یا پلاننگ کا کمال ہے؟

کیا یہ ایک اتفاق ہی ھے کہ چھ ممالک [ جرمنی ،کنیڈا ، امریکہ، فرانس ، انڈیا ،برطانیہ] کے جو سفیر عراق کی تباھی کے وقت بغداد میں تعینات تھے ، وھی لیبیا کی تباھی کے وقت طرابلس میں اور شام کی تباھی کے وقت دمشق میں تعینات تھے ، ان پانچ ممالک کے وھی سفیر آج اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالخلافے اسلام آباد میں تعینات ہیں ؟

امید ھے کہ الباکستانی کسی قسم کی ،شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی، لسانی یا صوبائی تعصب کی واردات کا شکار نہیں ھونگے ، یہی وہ جال لے کر شکاری آ پہنچے ہیں جنہوں نے شام میں شیعہ سنی فساد کا کھیل رچایا ، عراق میں بھی شیعہ سنی کا دانہ ڈالا ، لیبیا میں قبائلی تعصب کو بھڑکایا گیا ـ یہ چھ کے چھ مسلم دنیا کی کمزوریوں سے خوب آگاہ ہیں اور اپنے پتے کھیلنا خوب جانتے ہیں ـ ھم میں سے ہی کچھ لوگ چنے جائیں گے اور گھناونا کھیل کھیلا جائے گا ، کسی بھی واقعے میں ملزمان کے مذھب کو لے کر کبھی بھی پوری کمیونٹی کے خلاف اٹھ کھڑے ھونے کے نعروں کو پہلے مرحلے پر ھی شٹ اپ کہنے کی ضرورت ھے !

گول گپے والا آیا۔۔۔  

(تاثیریات)
تحریر تاثیر اکرام رانا

چھ دن سے میرے کزن کی بیٹی ہسپتال میں داخل تھی۔ اسکی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ پتہ چلا کہ چیختی ہے چلاتی ہے اور لوگوں کو کاٹتی ہے۔ مجھے پتہ چلا تو میں اسے دیکھنے ہسپتال گیا۔ بچی کی ٹانگیں اور ہاتھ باندھے ہوئے تھے اور وہ تڑپ رہی تھی۔ بارہ سال کی بچی ہے۔ ڈاکٹر صاحب سے ملا تو بولے ہیسٹیریا ہے۔ باپ سے پوچھا تو کہنے لگے اس کو سایہ ہو گیا ہے۔ والدہ نے کہا اسکی پھوپھو نے جادو کر دیا ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ میں نے بچی کے پاس جا کر اسے پیار کیا اور پانی پلایا۔ وہ بیقرار تھی۔ کہتی ہے مجھے گول گپے کھانے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے منع کیا ہے کہ اس کو کوئی چیز بازار سے نہیں دینی ہے۔ میرا ماتھا ٹھنکا۔ میں نے پوچھا کہ بچی کی یہ حالت کب سے ہے۔ والدہ نے بتایا کہ چھٹیوں کے آخری بیس ایام اپنے دادکوں کے گھر گئی تھی۔ وہاں سے جب واپس آئی ہے تو طبیعت ناساز ہے۔ چڑچڑی ہوگئی ہے۔ باہر نکل نکل کر بھاگتی ہے۔ بس کہتی ہے کہ گول گپے کھانے ہیں وہ بھی لا کر دئیے پر پسند نہیں آتے پھینک دیتی ہے۔ چیختی ہے چلاتی ہے۔ جوان ہے ایسی حرکتیں دیکھ کر کون اس سے شادی کرے گا۔ میں نے لڑکی سے تنہائی میں بات کرنے کی اجازت چاہی جو مل گئی۔

میں نے بچی کے ہاتھ پاؤں کھولے اور ٹیرس پر لے گیا۔ اسے پانی پلایا اور پوچھا کہ مجھے اپنا دوست سمجھو جو کچھ ہم میں بات ہوگی وہ راز ہی رہے گا۔ میں نے قسم کھائی۔ لڑکی کو کچھ حوصلہ ہوا تو کہنے لگی آپ اپنی ماں کی قسم کھائیں کہ کسی کو نہیں بتائیں گے۔ میں نے یہ قسم بھی اٹھا لی۔ لڑکی بولی کہ مجھے اپنے پھوپھو زاد کزن سے پیار ہو گیا ہے اور وہ بھی مجھے بہت چاہتا ہے مگر میری پھوپھو نہیں مانیں گی۔ میرا اپنے کزن سے کچھ جسمانی رشتہ بھی ہو گیا ہے اور میں اس کو چھوڑ نہیں سکتی۔ ہم دونوں کئی کئی گھنٹے ساتھ رہے ۔ ان کے محلے میں ایک گول گپے والا ہے جو مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔ ہم دونوں وہ کھانے کے لئے جاتے تھے اور کھا کر اسی کے کیبن میں بیٹھ کر پیار محبت کی باتیں کرتے اور بھی بہت کچھ۔ ہمیں جیسے نشہ سا ہو گیا تھا ایک دوسرے کا۔ میں جب سے واپس لوٹی ہوں دل بہت بیقرار رہتا ہے اور جسم میں جیسے کچھ جل سا رہا ہے۔ میں نے اس سے اس کی پھوپھو کا نمبر لیا اور اس کو یقین دلایا کہ میں جو کچھ بھی کر سکا کروں گا۔

اگلے روز میں اس کی پھوپھو کے گھر تھا۔ رشتے دار تھے میری بہت عزت کی۔ میں نے اس کے بیٹے سے بازار تک ساتھ چلنے کو کہا اور ہم پیدل ہی شام کو گھر سے نکلے۔ باتوں باتوں میں میں نے لڑکی کے حوالے سے گول گپے کی تعریف کی اور یوں ہم اس دکان کے کیبن میں پہنچ گئے۔ گول گپے منگوائے گئے اور کھائے بھی ۔ بہت مزے دار تھے۔ الگ سا ذائقہ تھا۔ خیر میں نے کچھ پیک کروا لئیے اور ساتھ لے آیا۔ رات کو واپس شہر آیا اور وہ گول گپے ایک دوست کی لیب والے کو دیئے کہ اس کو چیک کردے۔ منشیات والے ادارے کو بھی ایک سیمپل دیا۔ اگلے روز کی رپورٹ میں پتہ چلا کہ مصالحہ جات میں ہیروئن ملائی گئی ہے۔ رپورٹ دیکھ کر میں ششدر رہ گیا۔ ایک لمحے کے لیے دم بند سا ہو گیا۔ اسی لمحے محکمہ انسداد منشیات کے ارادے سے رابطہ کیا اور اس گول گپے والے کی دکان پر ریڈ کیا۔ وہاں سے شراب، ہیروئن اور چرس برآمد ہوئی۔ یہ باقاعدہ ایک منشیات کا اڈہ تھا اور گول گپے والا اپنے گول گپوں میں گھول کر ہیروئن کھلا رہا تھا۔ نوجوان بچے بچیوں کی خلوت کے لئے کیبن بھی تھے جہاں ان کے ملازمین کی زیر نگرانی قبیحہ جنسی جرائم کا سلسلہ جاری تھا۔ جو لگ گئے وہ یہاں سے ہٹ نہیں سکتے تھے۔ اور جو کچھ کرتے تھے تو ان کی وڈیو بنتی تھی اور بلیک میلنگ ہوتی تھی۔ یہی ان بچوں کے ساتھ بھی ہوا۔ نشہ الگ لگ گیا اور گناہ الگ کر بیٹھے جو اس بچی کو پیار لگا۔ ان کو پکڑا کر بچی کی طرف لوٹا اور ڈاکٹر صاحب کو اعتماد میں لے کر بچی کو ترک منشیات کے ادارے میں داخل کروا کر علاج کروایا۔ اس کی پھوپھو سے کھل کر بات کی اور بچے کو بھی علاج کے لیے بلوایا اور اس کا بھی علاج کروانے کے بعد میں نے دونوں گھرانوں کو آمنے سامنے بٹھایا اور ان سے سارا معاملہ کہ دیا۔ کچھ قسم تو ٹوٹی مگر اللہ تعالیٰ سے توبہ کر لی اور کفارہ بھی ادا کیا مگر میری کوششیں سے وہ بچے منگنی کے بندھن میں بندھ گئے۔

یہ تو تھا واقعہ ۔۔ اب آئیں اصل مسئلے پر۔۔ اور وہ یہ ہے کہ ہمارے بچوں کے ساتھ یہ ہو کیا رہا ہے۔ سکولوں کے باہر ریہڑیوں پر اور سکول کالجوں کی کینٹینوں پر محلے میں پھرتے ریہڑی اور چھابڑی والے خوانچے والے ہمارے بچوں کے ساتھ کیا کچھ کر رہے ہیں اسکا علم اکثر والدین کو ہے ہی نہیں۔ یہ لوگ اپنی چیز بیچنے کے لیے جو جو کچھ کر رہے ہیں اس کا عشر عشیر بھی ہمیں نہیں معلوم۔ ہمارے بچے اب نشوں پر لگ چکے ہیں۔ اور ہمیں معلوم ہی نہیں۔ ہم بحیثیت مجموعی اپنی اولادوں سے غافل ہیں۔

براہ کرم ان خوانچہ فروش مافیا سے ہمیں بچنا ہوگا۔ حکومت بیخبر ہے تو والدین اور اساتذہ کو جاگنا ہوگا۔ ان تک اپنے بچوں کو نہ جانے دیں۔ نشہ نہ بھی ہو تو ان کی گندگی ہی بہت ہے بچوں کی صحت تباہ کرنے کے لئے۔

یہ بچے ہمارا مستقبل ہیں ان کو نشئی اور گمراہ ہونے سے بچا لیں۔ گول گپے والا تو گول گپے بیچ جائے گا مگر ہماری پوری نسل نشہ آور بن کر تباہ ہو جائے گی۔

جاگتے رہیئے ورنہ سب کچھ سو جائے گا۔۔

یا اللہ ہماری حفاظت فرما ان دشمنوں سے آمین۔

صحافیوں کا انسائکلوپیڈیاا

ہمارے پاس آپشن موجود ہیں

مثلاً اگر آپ نے یہ دیکھنا ہو کہ

قیامت کب آئے گی تو ڈاکٹر شاہد مسعود بہترین انتخاب ہے

اگر آپ مسلم لیگ نواز کو بین کروانا چاہتے ہیں تو اے ار وائے پر صابر شاکر، بھٹی اور سمی ابراھیم سن لیں

جیو پر ن لیگ کی صفائی میر اور صافی کی زبانی سنیئے

بد زبانی، بد تمیزی اور اؤل فول دیکھنی اور سننی ہو تو فواد چودھری، مبشر لقمان یا حسن نثار کو کسی چینل پر تلاش کر لیں

عمران خان کی مداح سرائی کےلئے معید پیرزادہ، ندیم ملک، عمران، ارشید، کامران شاہد اور حمزہ عباسی وغیرہ کو سنیئے

نوازشریف کی مخالفت میں اوریا مقبول جان، عامر لیاقت، ایاز میر، حسن نثار، عمران خان اور کامران شاہد وغیرہ کو سنیئے

اور حق میں سننے کے لئے حبیب ، مجیب شامی اور وغیرہ کو سنیئے

اور اگر یہ دیکھنا ہو کہ پاکستان کتنے دن کا مہمان ہے ( خاکم بدہن) تو کامران خان اچھا انتخاب ہے

اور اگر پاکستان میں مکمل امن و امان دیکھنا ہو تو پی ٹی وی لاجواب ہے

پڑھے لکھے لوگوں کی جاہلیت دیکھنا ہو تو کوئی سا ٹالک شو دیکھ لیا کریں

ایک لاکھ کے کام میں ایک کروڑ سے ایک ارب کی کرپشن تو ۔۔۔رؤف کلاسرا اور عامر متین!

مسلم لیگ کی حمایت بمعہ آنکھیں نکالنا دیکھنا ہو تو ،، جاوید چوہدری ،

کھیرا کاٹنے کا اسلامی طریقہ ،مدنی چینل ، پر

گھر سمجھ داری اور کفایت شعاری کیلئے ،تین تین بار طلاق یافتہ ،،باجیاں ،صبح سویرے مارننگ شوز میں دستیاب ہیں

بندر تماشا اور مذہبی ایام پر لوگوں کو رلانے کی ذمہ داری عامر لیاقت کی ہے

الغرض ابھی ستر چینل مزید باقی ہیں تفصیل کسی اگلی نشست میں ،

اور ہاں اگر اس سب سے دل بھر جائے تو ٹی وی بند کردیں۔

اعوذ باللہ ان اکون من الجاھلین