کٹھ پتلیاں ’’جنم جلی‘‘ ہوتی ہیں

عماد ظفر 

پير 7 مئ 2018 ایکسپریس نیوز

کٹھ پتلیاں بھی “جنم جلی” ہوتی ہیں۔ ڈوریاں ہلانے والے ہاتھ جب جی میں آئے ان کو ہلاتے ہیں، ان سے من پسند ڈائیلاگ بلواتے ہیں اور پھر نچواتے ہیں۔ جب ان ڈوریوں کو ہلانے والے ہاتھوں یا تماش بین مجمع کا جی “پتلی تماشے” سے اکتا جائے تو ان کٹھ پتلیوں کو کسی ڈسٹ بن یا کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دیا جاتا ہے۔ ڈور ہلانے والے ہاتھ جب کٹھ پتلیوں کو ہلا جلا کر انہیں رونقِ اسٹیج بنائے رکھتے ہیں، اس وقت کٹھ پتلیاں خود کو محور مرکز سمجھ کر یہ تصور کر لیتی ہیں کہ رونق محفل انہی کے دم سے قائم و دائم ہے۔ ان کے وجود کے بغیر نہ تو تماشا بپا کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی محفل لوٹی جا سکتی ہے۔

ہر کٹھ پتلی اپنے آپ کو ایک مکمل جہان سمجھتی ہے، لیکن جب تماشا ختم ہونے کے بعد اسے دور کہیں تاریک گوشے میں پھینک دیا جاتا ہے تب اس کو ادراک ہوتا ہے کہ تماشا اور محفل تو دراصل ان ہاتھوں کی تھی جو اس کی ڈوریاں ہلا رہے تھے۔ محفل میں کٹھ پتلیوں کا وجود نہ تو پہلے کوئی خاص معنی رکھتا تھا اور نہ اب اس کی کوئی اہمیت ہے۔

عمران خان لاہور میں مینار پاکستان کے جلسے میں جب سابق آمر ایوب خان کی شان میں مدح سرائی کر رہے تھے اور صوبہ پنجاب کی تقسیم کی وکالت میں لب کشائی کر رہے تھے تو یقیناً لب ان کے ہل رہے تھے لیکن ان کے منہ میں الفاظ کسی اور کے تھے۔ ڈوریاں ہلانے والے ہمیشہ کی طرح پردے کے پیچھے بیٹھ کر اس پتلی تماشے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

خیر خان صاحب نے جو گیارہ نکات اس جلسے میں پیش کیے ہیں یہ وہی نکات ہیں جو وہ 2013 کے انتخابات سے پہلے بھی پیش کر چکے ہیں۔ پانچ سالوں میں اگر وہ خیبر پختونخواہ کے کسی ایک بھی شہر میں ان نکات پر عمل درآمد نہ کروا سکے تو پھر پورے وطن میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ قاف کی بی ٹیم کو ساتھ ملا کر یہ کام کرنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ محترم عمران خان اگر 2018 میں بھی کینسر ہسپتال کے قیام اور 1992 کے ورلڈ کپ کی فتح کو بنیاد بنا کر عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ پچھلے پانچ سال میں خیبر پختونخواہ حکومت ایسا کوئی بھی ٹھوس اقدام نہیں اٹھا پائی جس کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگے جاتے۔

اس وقت جس انداز سے سیاسی انجئینرنگ کا عمل جاری ہے اس کو دیکھتے ہوئے بہت سے مبصرین اور ناقدین عمران خان کو وطن عزیز کا اگلا وزیر اعظم سمجھ رہے ہیں۔ جبکہ حقیقتاً گیم پلان کچھ اور ہے۔ تمام تر سیاسی انجینئرنگ اور سیاسی ٹارگٹ کلنگ کے باوجود اس وقت تک کرائے گئے ملکی اور بین الاقوامی سرویز اگلے انتخابات میں تحریک انصاف کو کامیاب ظاہر نہیں کر رہے۔ مقتدر حلقوں کو اس بات کا علم ہے اور وہ یہ جانتے ہیں کہ اگلے عام انتخابات میں تحریک انصاف 35 سے 40 نشستیں ہی نکال پاِئے گی۔ پینتیس چالیس نشستوں کے دم پر صادق سنجرانی کی مانند عمران خان کو وزیراعظم کے عہدے پر زور زبردستی بٹھا بھی دیا جائے تو بھی وہ کچھ خاص کر دکھانے کی پوزیشن میں نہیں آ سکیں گے۔

مقتدر قوتیں یہ حقیقت بارہا عمران خان کو سمجھا چکی ہیں، لیکن عمران خان بضد ہیں کہ اگر مسلم لیگ نواز کے ہاتھ پیر باندھ کر انہیں انتخابات لڑنے کا موقع دیا جائے تو وہ انتخابات میں یقینی کامیابی حاصل کر لیں گے۔ عمران خان کو ایسا ہی یقین 2013 کے عام انتخابات میں بھی تھا لیکن وہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہے تھے۔ اب جبکہ خیبر پختونخواہ میں ان کی جماعت کی گورننس سب کے سامنے عیاں ہو چکی ہے اس کے بعد انتخابات کا میدان مارنا ان کےلیے قریب قریب ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ انتخابات سے ویسے بھی مقتدر قوتوں کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ پس پشت قوتیں اس وطن میں صدارتی نظام نافذ کرنا چاہتی ہیں تا کہ معاملات ریاست ایک ہاتھ میں ہی مرکوز رہیں اور باآسانی اپنے پسند کے گھوڑے کو انتخابی ریس جتوا کر صدر بنایا جا سکے۔

صدارتی نظام نافذ کرنے کےلیے ضروری ہے کہ وطن عزیز میں ایک ٹیکنو کریٹ سیٹ اپ کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔ ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ قائم کرنے کا ہدف نگران حکومت کے قیام میں سیاسی جماعتوں کے متفق نہ ہو پانے پر ناکامی یا پھر من پسند نگران حکومت کی میعاد بڑھا کر باآسانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی یہ کھیل سمجھتی ہے اسی لیے زرداری صاجب نے جھٹ سے جمہوری لبادہ اتار کر پس پشت قوتوں کی کشتی میں چھلانگ لگانے کو ترجیح دی ہے۔ زرداری صاحب کو گمان ہے کہ ان کے اس قدم سے پس پشت قوتیں خوش ہو کر ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ یا پھر آئندہ عام انتخابات میں انہیں کیک کا چھوٹا سا ٹکڑا ضرور دے دیں گی۔ باخبر ذرائع کا دعوی ہے کہ عام انتخابات منعقد نہ کروانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی اور اگر بادل نخواستہ عام انتخابات منعقد کروانے پڑ ہی گئے تو شاہ محمود قریشی کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز کروانے کےلیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جائے گا۔

گویا کسی بھی صورت میں محترم عمران خان کےلیے وزارت عظمیٰ کی شیروانی پہننے کا خواب سچ ثابت ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ خیر بات کچھ یوں ہے کہ اگر ملک کے بڑے بڑے میڈیا ہاوسز پر سینسر شپ لگا کر اور سیاسی حریفوں کے ہاتھ پیر باندھ کر بھی تحریک انصاف کی نشستوں کی متوقع تعداد صرف 40 کے لگ بھگ بنتی ہے تو پھر ایسے انتخابات منعقد کروانے میں مقتدر قوتوں کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہو سکتی ہے۔

یوں بھی احتساب اور چند دنوں میں وطن عزیز میں دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کے نعرے اس قدر پرفریب ہیں کہ وطن عزیز میں بسنے والی اکثریت اس لالی پاپ کو خریدنے کےلیے تیار رہتی ہے۔ اس لیے احتساب کا دائرہ کار وسیع کرنے یا عوام کی فلاح و بہبود کے نعرے بلند کر کے ایک نگران سیٹ اپ کا قیام اور اسے طول دینا ہرگز بھی مشکل کام نہیں ہے۔ ذرائع کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ مینار پاکستان پر منعقد ہونے والے تحریک انصاف کے جلسے میں عوام کی اچھی بھلی تعداد کے باوجود ڈوریاں ہلانے والے ہاتھ تحریک انصاف کے اس پاور شو سے زیادہ خوش اور مطمئن نہیں ہیں۔

اتنی طویل اشتہاری مہم، میڈیا کی کوریج اور پورے ملک سے بندے اکٹھے کرنے کے باوجود مطلوبہ عوامی شرکت کا ٹارگٹ پورا نہ کر پانا اس بات کی جانب عندیہ ہے کہ سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والا ووٹر اب پتلی تماشا دیکھ دیکھ کر تنگ آ چکا ہے۔ مقتدر قوتوں کو گمان ہے کہ اگر تماشا نئے سرے سے بپا کیا جائے اور نئی کٹھ پتلیاں لا کر ” ٹیکونوکریٹ” یا “صدارتی نظام” کا شوشہ چھوڑا جائے تو شاید تماش بین اس نئے تماشے کی نئی کٹھ پتلیوں کو پسند کرنے لگ جائیں۔ تماش بین کیا فیصلہ کرتے ہیں اس کا تعین آنے والا وقت کر دے گا۔

اس پتلی تماشے میں اگر ڈوریاں ہلانے والے ہاتھوں نے عمران خان کی کٹھ پتلی کو اسٹیج سے اتارنے کا فیصلہ کر لیا تو عمران خان کی صورت میں تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرائے گی اور شاید ہم عمران خان کی شکل میں اکیسویں صدی کا اصغر خان دیکھیں گے جو باقی ماندہ عمر پچھتاووں اور ڈوریاں ہلانے والے ہاتھوں سے شکایت کرتے ہوئے بِتا دے گا۔

انسان نما کٹھ پتلیاں واقعی “جنم جلی” ہوتی ہیں جو “مالک” کو خوش کرنے اور تماش بینوں کو محظوظ کرنے کے لاکھوں جتن کرنے کے باوجود بھی ہمیشہ اپنے حال اور مستقبل کے معاملے میں اپنے “مالکان” کی مرضی و منشا کی محتاج ہی رہتی ہیں

ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺟﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ

کلمہ ، جمہوریت اور گوری

ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﺗﮭﮯ، ﺫﮬﻦ ﺍﺳﻼﻣﯽ، ﭼﮩﺮﮦﻏﯿﺮﺍﺳﻼﻣﯽ، ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ انگلینڈ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺟﺐ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺑﻐﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﻢ ﺗﮭﯿﮟ!

ﻣﻮﺻﻮﻑ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﻭﺍﯾﺘﯽ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﺁﮒ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﻣﯿﻢ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺗﮏ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﮐﯿﺎ.
ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺳﺮﻭﮞ ﭘﺮ دﻭﭘﭩﮧ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﭼﻮﺭﯼ ﭼﻮﺭﯼ ﻣﯿﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﻮ دیکھتیں ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮈﺭﺗﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﻮﺭﯼ ﻣﯿﻠﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ.
ﺩﻭﻟﮩﺎ ﮐﯽ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﻓﺨﺮﯾﮧ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮩﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺗﯽ ﭘﮭﺮﺗﯿﮟ ﮐﮧ ﺑﮭﯿﺎ ﺍﻧﮕﻠﯿﻨﮉ ﺳﮯ ﻣﯿﻢ ﻻﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﭽﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﻣﯿﻢ ﺗﮭﯽ ﺍﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﻠﺶ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺍﯾﺘﺎً ﭼﺎﺩﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭦ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﻮ ﺩﯾﺎ، ﺑﻼﺋﯿﮟ ﻟﯿﺘﯽ ﻟﯿﺘﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﻢ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ. ﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﺘﯽ ﺭﮨﯿﮟ.
ﺻﺮﻑ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ، ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐِﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺟﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ،

ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﮨﻮﮔﺌﮯ!

ﻣﺸﺘﺮﮐﮧ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺗﮭﺎ، ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﮔﺰﺭﺍ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ، ﻣﯿﺎﮞ ﮐﮯ ﺁﻓﺲ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﻢ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﯽ ﺑﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻣﮩﺮ ﺛﺒﺖ ﮐﺮﺗﯿﮟ! ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﭼﮧ میگوئیاں ﮨﻮﺋﯿﮟ، ﺑﯿﭩﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﻔﺴﺎﺭ ﭘﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﮔﺮﻣﯿﺎﮞ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﭘﯿﻨﭧ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﻧﯿﮑﺮ ﭘﮩﻨﻨﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯼ، ﺍﺑﺎﺟﯽ نے ﺗﻮ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﻨﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ، ﺍﻣﺎﮞ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺗﮑﺘﯽ ﺭﮨﺘﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﮔﺌﯿﮟ! ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﺷﮑﻮﮦ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﺍﯾﮏ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﺑﺮﯾﮏ ﻭ ﮐﯿﻨﺒﺮﮮ ﮈﺍﻧﺲ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﺩﻝ ﺗﮭﺎﻡ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ، ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﮔﻮﺭﯼ ﻋﯿﺪ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﻮ ﮐﺮﺗﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﮐﺮﺳﻤﺲ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮮ ﺗﺰﮎ ﻭ ﺍﺣﺘﺸﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﻨﺎﺗﯽ ﺑﯿﭩﺎﺟﯽ ﮨﺮ ﺩﻓﻌﮧ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﮯ ” ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ، ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ، ﺑﭽﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﮔﻮﺭﯼ ﻧﮯ ﺧﺘﻨﮯ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻇﻠﻢ ﮨﮯ، ﺑﯿﭩﺎﺟﯽ ﮐﮭﺴﯿﺎﻧﯽ ﺳﯽ ﮬﻨﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﻮﻟﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﮈﺍﻧﺲ، ﻣﯿﻮﺯﮎ، ﻓﻠﻤﯿﮟ، ﮐﺎﮎﭨﯿﻞ ﭘﺎﺭﭨﯿﺰ، ﮐﺮﺳﻤﺲ، ﺳﺮﻋﺎﻡ ﺑﻮﺱﻭﮐﻨﺎﺭ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﮐﻠﭽﺮ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺑﻨﮯ، ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﻓﺮﯼ ﮨﻮﺗﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ، ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺳﮩﯿﻠﯿﺎﮞ ﮈﮬﻮﻧﮉﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ۔ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻨﺰ ﮐﯽ ﭘﯿﻨﭩﯿﮟ ﭘﮩﻦ ﭘﮩﻦ کر ﺷﯿﺸﮯ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﺗﯿﮟ ﮐﻠﻤﮧ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ، ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﯿﮟ، ﮔﻮﺭﯼ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﺎﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻤﻌﮧ ﭘﮍﮪ ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”

ﺩﻭﺳﺖ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﻨﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﮔﻮﺭﯼ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮ ﺳﮯ ﭼﭙﮏ ﺑﯿﭩﮭﺘﯽ، ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﺗﻮ ﺟﮕﮧ ﺗﻨﮓ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺻﺮﻑ ﺍﺗﻨﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻠﺘﺎ “ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ” ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻡ ﮔﻮﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﺗﻮ ﺟﯿﻨﺰ ﺷﺮﭦ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺒﻮﺱ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﭘﭩﮧ ﺳﺎ ﮈﺍﻝ ﻟﯿﺘﯽ۔ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮐﺮﻟﯿﺘﮯ ﮐﮧ
“ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ”!!!!!!

“ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ” ﺑﮭﯽ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﻨﯽ ﻣﺰﺍﺝ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﯿﺎﮦ ﻻﺋﮯ۔
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﺩﮬﺮ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﺷﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ، ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﻋﺐ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﺮﺩﯾﺴﯽ ﮨﻮﻧﺎ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﺎ، ﺍﺗﻨﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﭼﭩﯽ..
“ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ”!!

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ جرأت ﻧﮧ ﮐﯽ. ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﻟﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ.

ﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﻭﺍﺝ ﺗﻮﮌﮮ،
ﺩﺳﺘﻮﺭ ﺗﻮﮌﮮ،
ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﻟﮯ ﺁﺋﯽ،
ﻟﯿﮑﻦ ﻗﻮﻡ ﺧﻮﺵ ﮨﯽ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ!!

ﻣﻌﺎﺷﺮﺕ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﯾﮧ ﮨﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻧﺎﭼﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻏﯿﺮ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﺗﮭﺎ. ﻟﻮﮒ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ،
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺷﺮﮎ ﻭ ﮐﻔﺮ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺟﻮﺍﺯ ﺩﯾﺎ،
ﮨﺮ ﻇﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺩﯾﺎ، ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺍﺑﺎﺟﯽ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﻮﺗﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ،
ﮐﻠﻤﮯ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﻋﺎﻡ ﮐﯿﺎ،
ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻣﺤﻠﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ!!

ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﻣﺎﮞﺟﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔

ھماری بے راہ روی ﮐﻠﻤﮯ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺲ ﻣﯿﮟ بہتﮐﭽﮫ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮﺩﮮ ﮔﯽ.

ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ… اپنی زندگی میں اسلام لانے کی کوشش کیجئے ورنہ ھم نے بھی بس کلمہ ہی پڑھا ھوا ہے.

بات گہری ہے ۔۔۔۔۔ ہمیں زنجیروں سمیت فروخت کر دیا گیا ہے

نیفے کی اشرفی کے مزے

محمد فاروق بھٹی 
دائیں بازو کے بڑے شاعر نعیم صدیقی کو مقلدین دستیاب نہ ہو سکے ورنہ وہ فیض سے بڑا نظریاتی تھے ۔۔۔ کہتے ہیں

ہم لوگ ابھی آزاد نہیں
ذہنوں کی غلامی باقی ہے
تقدیر کی شفقت سے حاصل؟
تدبیر کی خامی باقی ہے
سینوں کے حرم سُونے ہیں ابھی
امیدوں سے آباد نہیں
چہروں کی چمک اک دھوکا ہے
کوئی بھی جوانی شاد نہیں
چھوڑی ہیں جڑیں زنجیروں نے
ان میں سے کسی کو نوچیں تو
اعصاب تِڑخنے لگتے ہیں
آزادی سے کچھ سوچیں تو
انٙدام چٹخنے لگتے ہیں
اِن زنجیروں کو کیا کیجیے!
ہے اِن سے گہرا پیار ہمیں
ان زنجیروں کے بجنے کی
لگتی ہے بھلی جھنکار ہمیں ۔۔۔

سوچتا ہوں ۔۔۔
بات گہری ہے ۔۔۔۔۔ ہمیں زنجیروں سمیت فروخت کر دیا گیا ہے اور ہم نئے مالکوں کو خوش کرنے کیلئے پابجولاں رقصاں ہیں ۔۔۔ آزادی کے گیت بھی گاتے ہیں ۔۔۔ نظریاتی پھریرے بھی لہراتے ہیں ۔۔۔ قفس سے اتنے مانوس ہو چکے ہیں کہ دروازہ کھل جائے تو ڈر. جاتے ہیں ۔۔۔
اشرافیہ اشرفیوں کے تھیلے ہماری ہی پشت پر لاد کر کبھی سرے محل ، کبھی دوبئی اور کبھی پانامہ لے جاتے ہیں ۔۔۔
اور ۔۔۔ ہم بھی بڑے چالاک واقع ہوئے ہیں ۔۔۔ کوڑے کھاتے بھی ، گرتے پڑتے بھی ایک آدھ اشرفی اُچک کر نیفے میں اُڑس لیتے ہیں اور اپنی “چالاکی” پر شاداں و فرحاں ہیں ۔۔۔ ہمیں تو سب سُوٹ کرتے ہیں کہ ہمیں بھی واردات کا موقعہ تو دے دیتے ہیں ، دوسرا یہ کہ یہ ہمارے اپنے کالے ہیں ، انگریز تو نہیں غیرمسلم تو نہیں ۔۔۔۔۔ مسلمان ہیں ، کلمے کی عمارت والے مسلمان ۔۔۔ نماز روزے والے نہیں تو کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔چنانچہ ہم تو منائیں گے آزادی۔
سوچتا ہوں ۔۔۔
اپنے لوگوں کی غلامی بھی بھلا کوئی غلامی ہوتی ہے ، اپنے تو اپنے ہوتے ہیں چاہے سرے محل والے ہوں یا بنی گالا والے یا پانامہ والے ۔۔۔ بُلہے شاہ کے شہر کے انقلابی شاعر عبداللہ شاکر مرحوم کے الفاظ میں
جشن منائی جاوؑ ۔۔۔ جشن منائی جاوؑ ۔۔۔
انّی انًا کھیڈ کے انّیاں مچائی جاوؑ ۔۔۔

کیا مشرف نے توہین عدالت کی ہے؟

کیا مشرف نے توہین عدالت کی ہے؟

https://jang.com.pk/assets/uploads/reporters/ansar-abbasi.jpgانصار عباسی

1 مارچ ، 2018

توہین عدالت بلکہ اس سے بہت بڑی سزا اگر کسی کو ہونی چاہیے تو وہ جنرل مشرف  ہے کہ جس نے ایک نہیں بلکہ پچاس سے زیادہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو نہ صرف غیر قانونی طور پر نکالا بلکہ انہیں بچوں سمیت نظر بند بھی کیا۔ جو مشرف نے عدلیہ اور ججوں کے ساتھ کیا اُس کی کوئی نظیر نہیں ملتی لیکن اس جرم پر مشرف کو تو ایک دن کے لیے بھی جیل نہیں بھیجا گیا۔ مشرف نے اپنے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ اُنہیں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مدد سے ملک سے باہر جانے کی اجازت ملی۔ مشرف نے یہ سنگین الزام بھی لگایا کہ ہمارے جج پس پردہ دبائو کے تحت ہی کام کرتے ہیں اوراسی دبائو کے تحت فیصلے دیتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اسی دبائو کے تحت انہیں ملک سے باہر جانے کی اجازت دی گئی۔

اس سے بڑی توہین عدالت کیا ہو سکتی ہے؟

لیکن عدلیہ نے مشرف کے اس بیان پر کوئی کان نہ دھرا۔ مشرف نے تو دو بار آئین کو پامال کیا لیکن وہ اس کے باوجود بیرون ملک آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے بہت اچھا کیا کہ حسین حقانی کو پاکستان واپس لانے کے لیے ایف آئی اے کو فوری اقدامات کرنے کا حکم دیا۔ کتنا اچھا ہوتا کہ سپریم کورٹ جنرل مشرف کے ریڈ وارنٹ بھی جاری کرتی کیوں کہ مشرف کے جرائم کی سنگینی سے تو کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ قانون کی بالادستی کو اگر قائم کرنا ہے تو پھر قانون کا اطلاق سب سے پہلے اُن پر ہو جو سب سے طاقت ور ہیں اور جنہوں نے بار بار ثابت کیا کہ وہ جو مرضی آئے کر لیں اُنہیں کوئی چھو بھی نہیں سکتا۔ اچھا ہوتا کہ جس طرح سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ اور نگراں جج کے ذریعے میاں نواز شریف اور اُن کے بچوں کے خلاف عدلیہ کو جلد فیصلہ کرنے کا پابند بنایا ہے، اُسی تیزی سے مشرف کے خلاف بغاوت کے کیس کا بھی فیصلہ کروایا جاتا۔ بغاوت کا کیس تو خصوصی عدالت کے سامنے گزشتہ چار سال سے pending پڑاہے جبکہ اس بارے میں قانون تو روز کی بنیاد پر کیس سننے اور جلد فیصلہ کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ قانون تو یہ بھی کہتا ہے کہ اگر ملزم عدالت میں پیش نہ بھی ہو تو فیصلہ جلد کرو۔ ایک لمبے وقفے کے بعدخصوصی عدالت 8 مارچ کو دوبارہ اس کیس کو سنے گی۔ دیکھنا ہو گا کہ عدلیہ کی جلد انصاف کی فراہمی کی حالیہ مہم کا جنرل مشرف کے خلاف عدالتوں میں التو ا مقدمات پر بھی کوئی اثر پڑتا ہے یا سابق ڈکٹیٹر ایک بار پھر ثابت کرنے میں کامیاب ہوں گے کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں اور ان کا احتساب نہ تو پاکستان کی حکومت اور نہ ہی عدلیہ کر سکتی ہے۔سول حکومت اور عدلیہ کے اس امتحان کے ساتھ ساتھ نیب اور اُس کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو بھی ایک بڑی مشکل نے آن گھیرا ہے۔ اپنے ایک حالیہ فیصلہ میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب کو ہدایت دی ہے کہ وہ جنرل مشرف کے اثاثہ جات اور مبینہ کرپشن کے متعلق انکوائری کرے۔ نیب چیئرمین جو آج کل سیاستدانوں اور سرکاری افسران کے احتساب میں کافی سرگرم ہے، اس معاملہ میں دو ہفتہ گزرنے کے باوجود کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ اس بارے میں نیب اور جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے خاموشی اپنا رکھی ہے۔ اس کے جواب کے لیے بھی شاید ہمیں جنرل مشرف کے کسی آئندہ انٹرویو کا انتظار کرنا پڑے گا جس میں اُن سے پوچھا جا سکتا ہے کہ آخر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے باوجود اُن کے خلاف نیب تحقیقات کیوں نہیں شروع کر رہا؟ کہیں کوئی دبائو تو نہیں!

ایک اور سوال اور اس کا جواب

سوال:
مجھے فلاں خواب آیا ہے؛ میں اسکے بارے میں پریشان ہوں کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا آپ میری رہنمائی کر سکتےہیں؟

جواب:

حضور ﷺ نے بھی یہی کہا ہے اور قرآن میں اللہ نے بھی یہی کہا ہے کہ زیادہ تر خواب اضغاث احلام ہوتے ہیں یعنی پریشاں خیالی کا نتیجہ۔ جب آپکے خیالات الجھے ہوئے ہوتے ہیں، کچھ خوف ذہن پر سوار ہوتے ہیں، یا حالات دھندلے ہوتے ہیں سمجھ نہیں آ رہا ہوتا کہ کیا کریں یا کیا بنے گا تو ان دنوں میں خواب زیادہ آتے ہیں اور اکثر ڈر اور خوف والے مناظر پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب ذہنی یکسوئی ہوتی ہے ذہن میں اہداف واضح ہوتے ہیں تو ان دنوں عموماً یا تو خواب آتے ہی نہیں یا خوشی کے مفہوم والے ہوتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ بعض خواب وحی کی قسم سے تعلق رکھتے ہیں یعنی اکثر نہیں بلکہ بعض۔ تو ایسے خوابوں میں یقیناً کوئی غیبی خبر ہوتی ہے۔ ایسے خواب کب آئیں گے اور کس کو آئیں گے یہ اللہ کی مرضی پر منحصر ہے انسان کی کوشش پر نہیں۔
کس خواب کا کیا مطلب ہے اس کا عمومی فریم ورک قرآن و حدیث کے اندر ہی ہونا چاہئے۔ اب آپ اپنے خواب کا تجزیہ کریں تو آپ یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ مجھے اللہ کی طرف سے خوشخبری ملی ہے کہ اب تک میرا نامہ اعمال بحیثیت مجموعی مجھے اللہ کے رحم کا مستحق بنا دے گا تو یہ بالکل سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن آگے کیا ہو گا اس کا انحصار تو آئندہ اعمال پر ہے۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ اپنے خیالات کا تجزیہ کرکے اپنے دماغ میں الجھاؤ میں کمی کرنے کی کوشش کرو۔ میری ویبسائٹ پر وہ طریقہ لکھا ہوا ہے جو خود بھی سالوں سے استعمال کر رہا ہوں اور اپنے مریضوں کو بھی کئی دفعہ استعمال کرواتا رہتا ہوں۔
اکثر اوقات ذہنی الجھنوں کا پتہ نہیں چلتا، ذہن میں ٹھیک ٹھاک طوفان آیا ہوا ہوتا ہے لیکن بندہ سمجھ رہا ہوتا ہے میرے دماغ میں کوئی الجھاؤ نہیں ہے۔ اس طرح کی چیزوں سے indirect طریقے سے انکشاف ہوتا ہے کہ ذہنی الجھاؤ پیدا ہو چکا ہے مثلاً خوابوں کے آنے سے، معدہ خراب ہو جانے سے، نیند خراب ہو جانے سے، سر درد رہنے سے، چیزیں بھولنے سے،

ایک اہم سوال اور جواب

سوال:
اگر کوئی اب پوری نمازیں پڑھتا ہو لیکن اسے ماضی میں چھوٹنے والی نمازوں کا افسوس ہو اور اس کا ضمیر مطمئن نہ ہو حالانکہ اس نے سچے دل سے معافی مانگی ہو تو کیا اس کو اپنی نمازیں پوری کرنے کیلئے کچھ کرنا ہوگا؟ یا اللہ پچھلے گناہوں کو معاف فرما دے گا؟
جواب:
توبہ سے پہلے کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ صرف حقوق العباد کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔ پرانی نمازیں، پرانے روزے، وغیرہ وغیرہ اللہ تعالی اس طرح کا حساب نہیں کرتا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب انسان سچے دل سے اور احساس ندامت کے ساتھ توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالی اتنی بات سے ہی اتنا زیادہ خوش ہوجاتا ہے کہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے اس کی خوشی اتنی زیادہ ہوتی ہے ایک ماں کی خوشی سے ستر گنا زیادہ ہوتی ہے۔ بلکہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایسے جیسے آج ہی پیدا ہوا ہے یعنی کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہیں۔ حقوق العباد بھی وہ ادا کرنے ہیں جن کی ادائیگی کی استطاعت ہو۔ بہت سے ماضی کے وہ گناہ جو چھپے ہوئے ہوں ان کو ظاہر کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ جب اللہ نے پردہ ڈال دیا ہے تو پردہ ڈلا رہنے دیں بس اللہ سے معافی مانگتے رہیں اور آئندہ سچے دل سے نیت کرتے رہیں کہ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کرنی۔ وہ عورت جو حضور ﷺ کے پاس آئی تھی کہ مجھ سے گناہ ہو گیا ہے مجھے پاک کر دیجئے۔ اس سے زنا ہو گیا تھا۔ اس کو بھی بار بار ترغیب دی کہ خاموش رہو توبہ کرو اور اللہ سے معافی مانگو آئندہ اس برائی سے بچو۔ جب وہ بار بار آئی اور سزا کا مطالبہ کرتی رہی تب جا کر اس کو سزا دی۔

زینب کو بچانے کی تیز رفتار حکمت عملی  

زینب کو بچانے کی تیز رفتار حکمت عملی

اختر عباس
یہ بہت تکلیف دہ دن تھا ،معصوم صورت مظلوم زینب کی میت سامنے پڑی تھی اور لاہور سے جانے والے قادری صاحب پوری بے رحمی کے ساتھ دعا کے نام پر بد دعائیں مانگ رہے تھے ، ان کے جملے آگ لگانے جیسے تھے اور وہ اسی کام کے لئے وہاں آئے تھے ،ہجوم کو دیکھ کر بڑے بڑے اپنا توازن کھو بیٹھتے ہیں مگر یہی لمحہ ہوتا ہے جب آپ ایک حقیقی راہنما بنتے ہیں یا ایک وقتی اشتعال میں جمع ہونے والوں کے جتھے دار جو اپنے پر غم اور دکھ کے لئے کوئی راستہ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں،ان لوگوں کا بالعموم حادثے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہومگر وہ بڑھ چڑھ کر اپنے پرخلوص غصے کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں ۔ نہ وہ اپنے غصے کی آخری حد کو جانتے ہوتے ہیں اور نہ اس کی شدت دکھانے کے بعد اس کے نقصات سے آگا ہ ہوتے ہیں، یہ جلوس ایران میں مہنگائی کے خلاف ہو یا قصور میں زینب کی موت پر دعا کی بجائے احتجاج اور سرکاری دفاتر پر حملے کا خوگر، نہ کبھی مہنگائی کم ہوتی ہے اور نہ مرنے والی کو زندگی واپس ملتی ہے البتہ یہ ضرور ہوتا ہے کہ کچھ معصوم اور جذباتی لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ،راہنمائی آگ لگانے میں نہیں بجھانے اور کسی حل کی طرف لے جانے کانام ہے ،یہ کیسی راہنمائی اور ناراضی ہے کہ ٹی وی کی سکرین پر خبر دیکھی ،لوگوں کا ہجوم دیکھا ان کا غم و غصہ محسوس کیا اور وہاں جا پہنچے ،کم سے کم پانچ سیاسی راہنماوں کے بیان میرے سامنے ہیں مجال ہے کسی نے ایک لفظ بھی جرم اور مجرم کے بارے میں کہا ہو اس کے مستقل حل کی طرف راہنمائی کی بات کی ہو ، ’ صرف سرخیاں ملاحظہ ہوں’’یہ حکومت کی ناکامی ہے ،یہ شریفوں کے منہ پر طمانچہ ہے ،قاتل اعلیٰ سے شہداے قصور کا بھی انتقام لیں گے ،شریفوں نے پنجاب پولیس کو خراب کر دیا ہے ،‘‘جس شیطان نے یہ کام کیا وہ یہ سب کہیں کسی کونے میں چھپا یہ دیکھ اور پڑھ کر مسرور ہو رہا ہوگا کہ کسی کو بھی اس کے گناہ پرغصہ نہیں ہے،سبھی کو ہی اپنی ادنیٰ سیاسی سوچ کو جھنڈا بنا کر لہرانے سے ہی فرصت نہین،یہ جو اب خبر بنوانے بھاگے چلے آتے ہیں ان کو یہ خبر کیوں نہیں ہوئی کہ اسی قصور شہر کی بارہ بچیاں کچھ ہی عرصے میں عزت اور جان سے گئیں ایک ہی شہر میں اور ایک ہی طرح کے واقعات سے ،تب آپ کہاں سوئے تھے ،چونکہ لوگ احتجاج کے موڈ میں نہیں تھے ،چونکہ مسلہ کو آگ نہیں لگی تھی ،چونکہ لاش دستیاب نہیں تھی اور براہ راست کوریج نہیں تھی اس لئے آپ بھی نہیں آئے اور آپ کے اندر برپا عوامی ہمدردی کا طوفان بھی کہیں سویا رہا ،یہ کیسی راہنمائی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر کسی حادثے اور سانحے کی منتظر رہتی ہے ،ایسی خبر یں آپ کو خبروں میں زندہ رکھتی ہے ،اس احتجاج میں مرنے والے دو یا تین لوگوں کے غم زدہ خاندانوں پر اب کیا بیتے ہیں، ان کے بچے کس مشکل اور عذاب کا شکار ہونگے ،ان کو احتجاج کے نام پر جلوس میں آگے لگانے،ڈی سی آفس پر حملہ کروانے اور گولی کا شکار بنوانے والوں سے کبھی تو پوچھا جانا چاہئے
معصوم صورت زینب کے مجرم کو ڈھونڈنے،ااس پاس اس کا کھرا ناپنے ،اپنے بچوں کی حفاظت کے لئے بیٹھ کر سنجیدگی سے سوچ بچار کرنے کی بجائے ڈسٹرکٹ ہسپتال پر حملہ کرنے ، پورا دن ڈنڈوں سے مسلح ہو کرڈاکٹروں اور عملے کو تکلیف دینے اور ان کا شکار کرنے کے لئے اندر گھس آنے اور نہ پا کر واپس چلے جانے کو آپ کیا کہیں گے ۔ اسے معمولی سی بات کیسے سمجھ سکتے ہیں،ایسی منصوبہ بنددی کرنے والے کہاں سے آتے ہیں کون ہوتے ہیں، اپنے ہی شہر کے اپنے ہی لوگوں کے بچے ا جس بے رحمی سے ہر حادثے کے بعد بسوں ،کاروں کو آگ لگانے ہیں اور پھر ان کا جانتے بوجھتے ہوئے لوگوں اور شہروں کویرغمال بنانے کی اجازت دئے رکھنے کا چھوٹا سا نتیجہ یہ ہے کہ ایک چھوٹے سے شہر کے بچے بھی ڈنڈوں اور جتھوں کی مدد سے ساری لا انفورسنگ ایجنسی کو آگے لگانے کی ہمت اور حکمت رکھتے ہیں۔یہی عالم رہا تو لا اینڈ آرڈر کے نام پر کل کوئی سپاہی حکم کے باوجود بھی آگے نہیں بڑھے گا ، وہ کیوں ہجوم سے مار بھی کھائے ،اپنی آنکھ نکلوائے، پسلی تڑوائے اور پھر معطلی اور برطرفی کی بے عزتی بھی جھیلے
اپنی زینبوں کو بچانا ہے تو کسی ادارے کی عزت اور احترام نہ سہی اس کی وقعت اور ڈر ہی باقی رہنے دیں ان کو یوں ٹکہ ٹوکڑی نہ کریں۔ان کی ٹاسکنگ میں بچوں کی حفاظت اور اس کے لئے حساسیت [سینس ٹیویٹی] پیدا کریں،اس حوالے سے خصوسی سیکشن اور ٹریننگز دلوایئے،پولسنگ کے معمول کے کام میں اس پہلو کو بطور خاص شامل کریں ،موجودہ پولیس کو ختم آپ کر نہیں سکتے ،پوری اصلاح ہونا بھی ممکن نہیں تو اس میں کچھ معاشرتی کاموں کا اضافہ تو ہو سکتا ہے کہ جس کہ رپورٹنگ بھی ہو اور اس کی پوچھ بھی ، دہشت گردوں کی طرح اب اس مسلے پر بھی ہمیں زیرو ٹالرنس پر جانا چاہئے ،ایسے کیسز میں عدالتوں میں صفائی کے وکلا ء کو پیش ہونے کی اجازت دینے پر بھی غور کر لینا چاہئے جو نظام ظلم کی برقراری اور استواری میں بلاجھجک کام آتے ہیں،ان کیسز میں فیصلے پولیس مقابلوں کی سپیڈ سے ہی ہونگے تو قابو پایا جاسکے گا ورنہ یہ جنسی جرم ایک مکروہ وائرس کی طرح بڑھتا اور پھیلتا جائے گا چونکہ اس کے پیدا ہونے کی آماج گاہیں اب گھر گھر اور ہر موبائل میں موجود ہیں،اتنی زیادہ روشن خیا لی ہے کہ ہم بربادی کے دروازے بھی بند کرنا بھول گئے ہیں

پیدائشی اندھے بچوں کیلئے خوشخبری

بائیو ٹیکنولوجی کا کمال
Human Gene Therapy
FDA has approved the treatment after going through all parameters.
Adeno-associated virus is used as vector.
RPE 65 Gene
جین وائرس میں منتقل کیا جاتا ہے اور وائرس انجیکشن کے ذریعے آنکھ میں منتقل کیا جاتا ہے۔
انجیکشن کی قیمت 8 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔ شاید ایک ملی لیٹر کا دسواں حصہ۔ یعنی چھوٹا سا قطرہ۔
اس سے ریٹینا کے بعض سیل دوبارہ بن جاتے ہیں اور ایک قسم کے نابینا پن کا علاج ہو جاتا ہے۔ پیدائشی اندھے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ جن بچوں کا علاج کیا گیا ہے اب تک ایک سال ہو چکا ہے ابھی تک وہ ٹھیک ہیں۔
ہو سکتا ہے اس طرح کی دوسری بیماریوں کے جینز بھی میسر آ جائیں۔ انشاءاللہ جلد ہی یہ ٹیکے سستے بھی ہو جائیں گے۔

ابولہب کی تلاش

اشتہار گُمشُدگی۔ اصلی ابُو لہب کی تلاش :

جب سے سورۂ ابو لہب پر غور کیا مُجھے کبھی آئینے میں ابو لہب نظر آتا ہے کبھی اپنے دوستوں میں۔ میں گھبرا کر مسجد کا رُخ کرتا ہوں تو ممبر اور صفوں میں ہر طرف ابُو لہب نظر آتے ہیں۔
میری گلیوں شہروں ، حکوتی و فوجی اداروں اور عدالتوں میں مُجھے ہر طرف ایک ہی چہرہ نظر آتا ہے۔ آگ برساتا عقل اور تدبیر سے عاری جزبات اور احساس برتری سے سے بھرا ابُو لہب۔.
مُجھے ان سب میں سے اُس ابُو لہب کی تلاش ہے جسکے بارے میں قُرآن کی سورۂ ابو لہب ہے۔ مولوی صاحب نے بتایا بھائی کسے ڈھونڈتے ہو ابُو لہب تو مُحمدﷺ کا چچا عبدُل عُزا تھا جسے اُس کے رویّے کی وجہ سے ابُو لہب یعنی شُعلوں کا باپ کہا جاتا تھا وہ تو چودہ سو سال پہلے مر کھپ گیا تھا۔
میں نے عرض کی مولانا کیا جیسے سورہ ابُو لہب میں ذکر ہے اُس کے ہاتھ ٹُوٹیں گے کیا اُس کے ہاتھ ٹُوٹے تھے۔ مولانا نے فرمایا نہیں بھئی یہ حقیقت میں نہیں مجازی طور پر ہونا تھا یعنی تباہی اُسکا مُقدّر تھی۔
میں نے مولانا سے سوال کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ ابُو لہب کا ذکر کرنے میں بھی مجازی طور پر میرا اور اور آپکا ذکر ہو اگر ہاتھ ٹُوٹنا مجازی معنوں میں لیا جانا چاہیے تو اُس حقیقی عبدُل عُزا کا ہی کیوں سوچا جائے جو صدیوں پہلے مر کھپ گیا۔
مولانا کے امام اور امام کے اُستاد نے چونکہ اپنی تفسیروں میں صدیوں پہلے عبدُل عُزا کو ہی آخری اور حتمی ابُو لہب لکھ دیا تھا لہٰذا مولانا تو نہیں مانے میں نے سوچا آئینہ آپکی خدمت میں پیش کروں۔
کہیں آپ بھی آگ کے باپ تو نہیں۔ کہیں آپ بھی عبدُل عُزا کی طرح ضدّی اور انا پرست تو نہیں۔ کہیں اُسکی طرح آپ بھی مُخالف نظریے کے لوگوں کی نفرت میں اندھے تو نہیں ہو جاتے۔ کہیں آپ کے بھی دل دماغ آنکھ کان اور عقل پر مُہر تو نہیں لگی۔ کیا دلیل آپ پر بھی تو بے اثر نہی ہو گئی۔ اگر آپ میں یہ سب نشانیاں ہیں تو آپ ہی اصلی گُمشدہ ابُو لہب ہیں.
مُجھے آپکو ڈھونڈ کر بس یہ بتانا تھا کہ سورہ ابُو لہب کے مُطابق آپکے ہاتھ ٹُوٹیں گے۔ آپکا مال اولاد آپکے کام نہ آئیں گے۔ یہ جو آپکے اندر انا ، غُصہ ، فرقہ ورانہ نفرت ، حسد اور بُغض کی آگ بھری ہے اس سورہ کے مُطابق آپ ہی کے گلے کا طوق بنے گی۔
قُرآن بعض اوقات بظاہر کسی خاص قوم یا افراد سے مُخاطب ہوتا ہے جیسے بنی اسرائیل ، نصارا، ابُو لہب یا قُریش وغیرہ۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ جب یہ آیات آپ کے لیے ہیں ہی نہیں تو آپ کیوں انہیں تلاوت کرتے ہیں جبکہ نہ ابُو لہب زندہ ہے اور نہ کوئی قُریشی اب غیر مُسلم ہے۔ بنی اسرائیل نصارا، ابُو لہب یا مُشرک قُریش کولکھے جانے والے کھُلے خط مُجھے کیوں دیے گئے۔ ایک تو یہ بات ہے کہ اُن تک یا اُن جیسوں تک یہ خطوط مُجھے پہنچانے ہیں لیکن یہ خط کھُلے اس لیے چھوڑے گئے کہ میں آگے پُہچانے سے پہلے ان خطُوط کے آئینے میں خود کو دیکھ لوں۔
بنی اسرائیل کو پیغام دینے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لوں کہیں اُنکی سب سے بڑی بُرائیاں یعنی قوم پرستی اور نسلی تفاخُر مُجھ میں تو نہیں۔
کسی بھی قوم کے بارے میں جو آیات قُرآن میں ہیں وہ ہمارا آئینہ اور ایمان کی چھلنیاں ہیں۔ آئیے اُن چھلنیوں سے گُزر کر دیکھیں۔ منقول