دوسری شادی کے بارے میں ایک انتہائی معقول اورمدلل مضمون

عالمی ترجمان القرآن کا وہ مضموں جو کئی ایسوں کو راہ راست پر لا سکتا ہے جو اسلام کے زریں اصولوں کی غلط توجیہہ کر کے اپنی زندگی بھی عذاب بناتے ہیں اور کئی دوسروں کی بھی جن سے متعلق عائد ہونے والے فرائض کی ادائیگی کو بھول جاتے ہیں

ایک سے زائد شادیوں کی گنجایش یا خواہش

ایک خاتون کا بڑا اہم سوال :

موجودہ دور میں مردوں کی دوسری شادی (پہلی بیوی کی موجودگی میں) کے معاملے میں مَیں نے جتنا غور کیا ہے تو یوں لگتا ہے کہ اگرچہ شریعت نے مرد کو یہ اختیار دیا ہے لیکن عملاً یہ اختیار پہلی بیوی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اگر میاں بیوی کے درمیان بہت اچھی ذہنی ہم آہنگی بھی ہو، اور خوش گوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہوں، اس کے باوجود شوہر یا تو اپنی فطری خواہش کی وجہ سے دوسری شادی کرنا چاہتا ہو، یا پھر کسی ایسی بے سہارا خاتون کو سہارا دینے کے لیے کرنا چاہتا ہو جو کہ خود بھی ایک دین دار اور خوفِ خدا رکھنے والی خاتون ہو، مگر پہلی بیوی اس بات کو پسند نہ کرے اور ایسے میں مرد بیوی کی ناراضی اورگھر میں ناچاقی کے ڈر سے اپنے ارادے سے باز رہے، تو کیا بیوی گناہ گار ہوگی کہ اس نے اللہ کے عطا کردہ اختیار کو استعمال کرنے سے روک دیا؟

اس معاملے میں دوسری رکاوٹ ہمارا معیارِزندگی ہے۔ عورتیں اپنے شوہروں سے مطالبہ کرتی ہیں کہ بالکل علیحدہ گھر کا انتظام کریں مگر ہماری ضروریات اور لوازمات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ آج کے ا س مہنگائی کے دور میں عملاً یہ ممکن نہیں رہا۔ بہت ہی کم لوگ ہیں جو اس کا بار اُٹھا سکتے ہیں۔ اگر دونوں بیویوں کو ایک ہی گھر میں رکھا جائے تو کیا یہ اسلامی معاشرت کا ایک اچھا نمونہ کہلانے کے قابل ہوگا یا اس کے برخلاف؟
میں اپنی بات کو عمومیت سے ہٹا کر خاص اپنے معاملے کو آپ کے سامنے بیان کرنا چاہتی ہوں۔ میری عمر ۳۶سال ہے، شادی کو ۱۱سال ہوئے ہیں اور چھے بچے ہیں۔ دعوتِ دین کی جدوجہد سے وابستہ ہونے کی حیثیت سے مَیں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ ہم خواتین کا اصل کام یہ ہے کہ ہم عملاً اسلامی معاشرت کو اپنے گھروں میں زندہ کریں۔ کیونکہ خواتین کا اصل میدان تہذیبی اور معاشرتی میدان ہے۔
پھر میں نے یہ سوچا کہ اسلام تو دینِ فطرت ہے۔ تعددِ ازدواج مرد کی فطرت سے قریب تر ہوگااس لیے اس کی اجازت دی گئی ہے۔ پھر شریعت میں انفرادی مصلحت پر اجتماعی مصلحت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس اجازت کی بدولت معاشرے کی بہت سی بے سہارا خواتین کے حقوق کا تحفظ ممکن بنایا گیا ہے۔ دوسری طرف پہلی بیوی کے لیے یہ بات اگر اتنی ناگوار ہے تو شاید قصور شریعت کا نہیں بلکہ ہمارے اپنے مزاج کا ہے۔ شریعت کے احکام تو فطرت پر ہیں مگر ہمارا نفس شاید فطرت کے خلاف استوار ہوچکا ہے۔
میرے قریبی حلقے میں بعض ایسی خواتین ہیں جو یا تو بیوہ ہوگئیں یا انھیں طلاق دے دی گئی ہے۔ بہت سوچ بچار اور بارہا استخارے کے بعد میں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ اپنے شوہر کی دوسری شادی مکمل رضامندی کے ساتھ کرا دوں۔ میرے شوہر نے بھی میرے اُوپر چھوڑاہے کہ آپ راضی ہوں تو میں دوسری شادی کروں گا۔ عقلی طور پر بہت سے دلائل میں اس فیصلے کے حق میں جمع کرچکی ہوں مگر جذباتی طور پر تمام دوسری عورتوں کی طرح میں بھی اسے ایک نہایت مشکل مرحلہ سمجھتی ہوں۔ اگر میں اپنے شوہر کو اس سے روک دوں یا خوش دلی سے آمادہ نہ ہوں، تو پوری زندگی مجھے یہ احساس رہے گا کہ میں شریعت کی مصلحتوں کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوں۔
بہت سوچ کر مَیں نے ایک باعلم اور عمر رسیدہ تحریکی خاتون سے مشورہ کیا جنھوں نے میری راے کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ: یہ تو تم خود اپنے آپ کو آزمایش میں ڈال رہی ہو۔ اللہ کو یہ مطلوب ہرگز نہیں ہے کہ بندہ خود کو مشکل میں ڈالے اور نہ تو یہ کوئی عزیمت کا راستہ ہے، نہ کسی متروک اسلامی روایت کا احیا ہی ہے۔ بالکل غلط سوچ ہے تمھاری۔ جب مرد تمھارا شوہر اس ضمن میں زبردستی نہیں کر رہا تو اپنی زندگی میں تلخی نہ بھرو۔
اس بات پر میں مطمئن نہ ہوسکی۔ ایک طرف اپنی اس بہن کے بارے میں سوچتی ہوں جو بے سہارا ہے اور وہ حدیث ذہن میں آتی ہے کہ اسلامی معاشرے کی ہر اینٹ دوسری کو تقویت دیتی ہے۔ دوسری طرف مجھے معلوم ہے کہ میرے شوہر کی بھی خواہش ہے لیکن وہ مجھے ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ تیسری طرف یہ بھی دیکھتی ہوں کہ میرے شوہر کو اللہ تعالیٰ نے معاملہ فہمی، وسعت ظرف اور عدل جیسی خوبیاں عطا کی ہیں۔ پھر جب کسی قدر اپنے دل کی تنگی کو رکاوٹ بنتا محسوس کرتی ہوں تو اپنے فہم کے مطابق مجھے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ مجھے بہرحال اس راستے کو اختیار کرنا چاہیے کیونکہ شاید یہی عزیمت ہے اور دوسری صورت میں، مَیں رخصت کو اختیار کروں گی۔ عزیمت کو اختیار کرنے کے لیے مجھے اپنی کمزوریوں کو دُور کرنا چاہیے اور اللہ پر توکّل کرنا چاہیے۔
عالم اسلام معروف اور مستند سکالر ڈاکٹر انیس احمد کا تاریخ ساز جواب:

یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اس گئے گزرے دور میں بھی تحریکِ اسلامی سے وابستہ خواتین کو ایسے حساس معاملات میں جن میں خود ان کے جذبات اور حقوق متاثر ہوتے ہوں، اپنی ذات سے بلند ہوکر صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور رب کریم کی نافرمانی سے بچنے کی خواہش انھیں زیادہ عزیز ہے۔ اللہ تعالیٰ تحریکِ اسلامی سے وابستہ اور دیگر خواتین کو بھی اپنی ذاتی پسند، سہولت اور خواہش سے بلند ہوکر قرآن وسنت پر عمل کرنے کی توفیق دے، آمین!
سوال میں تین اہم پہلو غور طلب ہیں: اوّل اسلام کے معاشرتی اور عائلی نظام میں بنیادی اکائی یک زوجگی کی ہے یا تعدُّد کی اور اس حوالے سے سنت مطہرہ سے کیا اصول و ہدایت ملتی ہے؟ دوم: اسلامی معاشرے میں بیوہ اور مطلقہ خواتین کا مسئلہ کس طرح حل کیا جائے؟ سوم: یہ کہ اگر ایک شادی شدہ شخص جو اپنی بیوی سے مطمئن ہو، اللہ نے اسے اولاد بھی دی ہو ، ذہنی اور فکری سکون بھی اسے حاصل ہو لیکن وہ مزید نکاح کا خواہاں ہو، تو کیا اس کا قرآن کی دی ہوئی ’اجازت‘ کا استعمال کرنا اس کا اپنے ساتھ، اپنی بیوی اور اولاد کے ساتھ عدل کا رویہ ہوگا؟
ضمنی طور پر یہ پہلو بھی غور کا مطالبہ کرتا ہے کہ اگر ایک شخص نکاح ثانی کا خواہاں ہو اور اس کے پاس مالی وسائل نہ ہوں یا موجود ہوں تو کیا محض وسائل کی موجودگی اسے ایک ’شرعی‘ اجازت کو استعمال کی اجازت دیتی ہے، یا اُس کے مقابلے میں وہ افراد جو ابھی تک شادی شدہ نہ ہوں انھیں ترجیحی بنیاد پر ایسی خواتین کو اپنانا چاہیے؟
قرآنِ کریم نے ایک عمومی اصول جو تمام اہلِ ایمان کے لیے بیان فرمایا ہے وہ اپنی بساط سے زیادہ بوجھ کا نہ اُٹھانا ہے۔ حضرت عمرو بن عاصؓ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: اے عبداللہ! کیا میں نے یہ ٹھیک سنا ہے کہ تم مستقل روزے رکھتے ہو اور رات بھر کھڑے ہوکر عبادت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں یارسولؐ اللہ۔ آپ ؐ نے فرمایا: اچھا اب ایسا مت کیا کرو، روزہ رکھو بھی اور نہ بھی رکھو اور راتوں کو کھڑے ہوکر عبادت بھی کیا کرو اور سویا بھی کرو کیونکہ تمھارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمھاری آنکھوں کا بھی تم پر ایک حق ہے اور تمھاری بیوی کا بھی تم پر ایک حق ہے۔ تمھارے پاس ملاقات کے لیے آنے والوں کا بھی تم پر ایک حق ہے‘‘۔(متفق علیہ)
ظاہر ہے تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرنے میں جتنا اضافہ کیا جائے، وہ ایک فرد کے اپنے نقطۂ نظر سے مطلوب و محبوب چیز ہوگی، لیکن ہادی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ نہ کوئی تقویٰ کا حامل ہوسکتا ہے اور نہ تقویٰ کی صحیح تعلیم دینے والا۔ آپؐ ایک فرد اور اس کے متعلقات کے حقوق میں جس توازن و اعتدال کا حکم دے رہے ہیں وہ محض روزے تک محدود نہیں ہوگا۔ اس متفق علیہ حدیث پر قیاس کرتے ہوئے پہلی بات تو یہ یاد رکھنے کی ہے کہ رمضان کا روزہ فرض ہے لیکن نفلی روزہ، فرض کا مقام حاصل نہیں کرسکتا۔ قرآن و سنت کی روشنی میں غیرشادی شدہ شخص کا نکاح کرنا ایمان کی تکمیل کا ذریعہ اور سنتِ رسولؐ کی اتباع ہے۔ فقہی طور پر اگر ایک غیرشادی شدہ شخص اس سنت کا انکار کرتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی روشنی میں وہ آپؐ کی اُمت سے خارج ہوسکتا ہے، لیکن جو اس فرض کو ادا کر کے صاحبِ اولاد اور صاحبِ سکون ہو، اس کا دوسری یا تیسری شادی کرنا نہ واجب ہے اور نہ اللہ کے ہاں جواب دہی کا باعث۔ جس نے اس واجب پر عمل کرلیا، اس کے لیے دوسری شادی وجوب میں شامل نہیں ہوگی اور نتیجتاً دوسرے نکاح کے نہ کرنے سے نہ وہ کسی معصیت کا ارتکاب کرے گا، نہ کسی حق کو پامال کرے گا بلکہ وہ اپنے، اپنی بیوی اور اپنی اولاد کے حقوق کے صحیح طور پر ادا کرنے کی اولیت (priority) کو برقرار رکھ کر زیادہ اجر کا مستحق ہوگا۔
مزید یہ کہ قرآن کے اصول لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا ط (البقرہ۲:۲۸۶) کی وضاحت اُوپر درج کی گئی حدیث سے جس طرح ہوتی ہے اس کی روشنی میں اس معاملے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اصل مسئلہ محض شوہر کی خواہش کا نہیں ہے بلکہ شوہر پر واجب اُن حقوق کا ہے، جن کی اوّلیت ایک ایسے کام کے کرنے سے جو اس پر واجب نہیں ہے متاثر ہوتی ہے اور اس مصلحت کی بناپر اس کا خود کو یہ سمجھاکر مطمئن کرنا کہ وہ دوسری شادی اجتماعی مفاد کی بنا پر کرلے، درست نہیں ہوگا۔ ہاں، اس صورتِ حال میں وہ افراد جو ابھی تک شادی شدہ نہیں ہیں ان پر فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ ایسی نیک اور صالح خواتین کو اپنے عقد میں لیں جو بیوہ یا مطلقہ ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا عقد حضرت خدیجہؓ سے ہوا جو بیوہ تھیں اور تمام زندگی آپؐ کی نگاہ میں انتہائی محترم اور محبوب شخصیت رہیں اور ان کی حیاتِ مبارکہ میں آپ نے اِس اجازت پر غور نہیں فرمایا۔
اس پس منظر میں سوال کے پہلے پہلو پر غور کیا جائے تو یوں نظر آتا ہے کہ سورۂ نساء میں چار کی حد تک اجازت کا سیاق و سباق عموم کا نہیں بلکہ حالتِ اضطرار سے قریب تر ہے۔ چنانچہ اصلاً زور اسی بات پر ہے کہ ایک کے ساتھ نکاح ہو اور اس کے ساتھ عدل کا رویہ اختیار کیا جائے۔ یہ عدل محض مادی معاملات میں نہیں کیا جاسکتا۔ اس میں نفسیاتی، دینی اور روحانی تعلق کے ساتھ تمام معاشرتی پہلوؤں سے عدل شامل ہے۔ اسی بناپر فرمایا گیا کہ اگر ایسا عدل کرسکو تو دوسرے نکاح کا خیال کرو ورنہ ایک ہی پر، اپنی تمام خواہش کے باوجود قانع رہو۔
اگر دیکھا جائے تو ایک شوہر کو پہلے نکاح سے حاصل ہونے والے فوائد میں جہاں فطری تسکین شامل ہے، وہاں نفسیاتی اور دینی طور پر جو تعلق استوار ہوجاتا ہے وہ یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ باہمی اعتماد، قلب و نظر کا سکون، مادی پیمانوں سے ناپا نہیں جاسکتا۔ اسی لیے اس رشتے کو قرآنِ کریم نے اللہ تعالیٰ کی ایک آیت قرار دیا ہے۔ دوسری شادی اس قیمتی فطری تعلق کو بگاڑنے کا ایک ممکنہ ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس لیے اس سے قطع نظر کہ پہلی بیوی دوسری شادی کی شکل میں خوش ہوتی ہے یا ناراض، عائلی زندگی کے اسلامی مقاصد دوسری شادی سے ٹکراتے ہیں۔
دوسرا اہم پہلو مطلقہ یا بیوہ صالح مسلم خواتین کے معاشرتی مقام کا ہے۔ بعض علاقوں میں دیگر مذاہب کے زیراثر مسلمانوں میں بھی یہ تصور عام ہوگیا کہ بیوہ کی عظمت تمام زندگی اپنے شوہر سے وفاداری کے طور پر شادی نہ کرنے میں ہے۔ یہ ایک خالص غیراسلامی تصور ہے۔ اسلام اس تصور کو رد کرتا ہے اور یہ سنتِ رسولؐ سے ثابت ہے۔ اسی بناپر سیّداحمد شہیدؒ نے اپنے بھائی کی بیوہ سے نکاح کرکے اس غیراسلامی تصور کی اصلاح کرنا اپنا فرض سمجھا۔ اس لیے بیوہ کا عقد ثانی کرنا یا مطلقہ کا عقد ثانی کرنا اسلام کے معاشرتی نظام کے مقاصد سے پوری مطابقت رکھتا ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو شخص پہلے سے شادی شدہ ہو وہی ایسی خواتین کا سہارا بنے بلکہ اسلام کا مدعا یہ نظر آتا ہے کہ معاشرے کے جو افراد غیرشادی شدہ ہوں انھیں اس طرف متوجہ کیا جائے اور اس طرح کے رشتوں کی ہمت افزائی کی جائے۔
جیساکہ آغاز میں عرض کیا گیا تعدد ازدواج کی یہ تعبیر کہ ایک سے زائد شادی کرنا مرد کی فطرت سے قریب ہے، ایک قیاس اور تعبیر کا معاملہ ہے۔ شریعت کا مدعا ایسا نظر نہیں آتا۔ کسی کام کی اجازت ایک استثنا بھی ہوسکتی ہے اور عموم بھی۔سورۂ نساء کی آیت پر غور کیا جائے تو اس اجازت میں عموم نہیں پایا جاتا بلکہ استثنائی اور اضطراری کیفیت کی طرف رجحان نظر آتا ہے تاکہ ہر دور میں بدلتے حالات میں قرآنی قانون سازی پر یکساں عمل کیا جاسکے۔ آپ نے جو صورت حال تحریر فرمائی ہے اس میں محض ’خواہش‘معقول بنیاد نہیں بن سکتی بلکہ اگر ایسی ’خواہش‘ ہے تو موجودہ بیوی سے ہی اس کا پورا کرنا دین کا مدعا ہے۔
یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ عائلی زندگی بجاے خود ایک اجتماعی عمل ہے۔ اس لیے انفرادی اور اجتماعی مصلحت کے فلسفے کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ بے سہارا خواتین کے عقد کے لیے انفرادی اور اجتماعی کوشش لازماً کرنی چاہیے لیکن جیساکہ اُوپر عرض کیا گیاایک مسئلے کے حل کرنے کی غرض سے ایک خاندان کے نظام کو، اس کے سکون کو اور بیوی اور اولاد کے حقوق کو نہ ثانوی حیثیت دی جاسکتی ہے اور نہ نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔کسی شادی شدہ خاتون کا وقتی طور پر یہ سمجھنا کہ وہ اپنے جذبات کو تھوڑی بہت محنت سے اور اسے ’عزیمت‘ سمجھتے ہوئے بخوشی گھر کے معاملات میں شراکت گوارا کرلے گی، اپنے آپ کو محض خوش فہمی میں رکھنا ہے۔ رہا استخارے کا معاملہ تو استخارہ ان تمام معاملات میں کرنا سنت ہے جہاں بظاہر ایک معقول حل نظر نہ آرہا ہو لیکن جن معاملات میں عقل اور تجربہ، دونوں ایک معاملے میں متفق ہوں وہاں استخارہ غیرضروری ہے۔
گھروں میں اسلامی طرزِ معاشرت کی جیتی جاگتی تصویر کے لیے شوہر کا دوسری شادی کرنا نہ شرطِ اوّل ہے نہ شرطِ ثانی۔ البتہ بے سہارا خواتین کے عقد کے لیے کوشش ایک دینی فریضہ ہے۔ کیا آج ہمارے معاشرے میں ایسے بے شمار افراد موجود نہیں ہیں، جو بڑی عمر تک وسائل نہ ہونے کی بناپر شادی مؤخر کرتے رہتے ہیں۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ جو صاحب اس مسئلے کے حل کے لیے دل چسپی رکھتے ہیں وہ ایک ایسے مرد کو وہ تمام وسائل فراہم کردیں جو اس کو نکاح کرنے کے لیے درکار ہوں اور اس طرح وہ بے سہارا خاتون اور وسائل کی کمی کے سبب شادی سے محروم رہنے والا ایک مسلمان، دونوں کی ضرورت پوری ہوجائے۔
اپنے آپ کو جان بوجھ کر آزمایش میں ڈالنا دین کا مدعا ہے نہ عقل کا مطالبہ۔ اس کے باوجود ایک باشعور مسلم خاتون کا بے سہارا مسلم خواتین کی مدد کے لیے اپنی خاندانی زندگی کو آزمایش سے دوچار کرنا ایک قابلِ قدر جذبہ تو ہے لیکن اسے شریعت کا مطالبہ تصور کرنا درست نہیں۔
اصولی بات یہ ہے کہ اسلام نے دوسری شادی کی نہ ترغیب دی ہے اور نہ مخالفت کی ہے اور نہ واضح حوصلہ شکنی کی ہے۔ بس اس کا دروازہ کھلا رکھا ہے تاکہ حقیقی ضرورت کی صورت میں استفادے کا موقع موجود رہے۔ فیصلہ فرد کو اپنے ضمیر اور دینی اور خاندانی زندگی کے استحکام کے مصالح کو سامنے رکھ کر کرنے کا اختیار دیا ہے۔ البتہ یہ انتباہ واضح الفاظ میں کردیا ہے کہ انصاف ہرصورت میں شرطِ لازم ہے۔ ایسے نازک اُمور کو جذبات یا عزیمت اور گناہ کے تخیلاتی احساسات کے تحت طے کرنا شریعت اور عقل دونوں کے اعتبار سے محلِ نظر ہے۔ البتہ جو اجتماعی مسئلہ اس سوال کا باعث بناہے، وہ اپنی جگہ اہم ہے اور اس کا حل فرد اور معاشرے کی اخلاقی اصلاح اور تربیت ہی میں مضمر ہے،واللّٰہ اعلم بالصواب۔(ڈاکٹر انیس احمد)

Author: Dr Asif Mahmood Khokhar

Senior eye surgeon with special interest in Vitreoretinal, Oculoplastic, Laser, and Phaco surgeries

Leave a Reply

3 Comments on "دوسری شادی کے بارے میں ایک انتہائی معقول اورمدلل مضمون"

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

Sort by:   newest | oldest | most voted
Khalid
Guest

There should be a link for sharing on whatsapp. It’s must.

zahraa muammad
Guest

اسلام علیکم آپسے مشورہ کرنا ہے کیا اپ مشورہ دے سکتے ہیں