دنیاوی دولت اور جاہ و جلال کے بارے میں سنتِ نبویﷺ

وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ

اور نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھو دُنیوی زندگی کی اُس شان و شوکت کو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے وہ تو ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے دی ہے، اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق حلال ہی بہتر اور پائندہ تر ہے

تفسير:

  اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور غالباً دونوں ہی مراد بھی ہیں۔ ایک یہ کہ تم اپنی موجودہ حالت پر راضی ہو جاؤ جس میں اپنے مِشن کی خاطر تمہیں طرح طرح کی ناگوار باتیں سہنی پڑ رہی ہیں، اور اللہ کے اس فیصلے پر راضی ہو جاؤ کہ تم پر ناحق ظلم اور زیادتیاں کرنے والوں کو ابھی سزا نہیں دی جائے گی، وہ داعی حق کو ستاتے بھی رہیں گے اور زمین میں دندناتے بھی پھریں گے ۔

 دوسرا مطلب یہ ہے کہ  تم ذرا یہ کام کر کے تو دیکھو ، اس کا نتیجہ  وہ کچھ سامنے آئے گا  جس سے تمہارا دل خوش ہو جائے گا یہ دوسرا مطلب قرآن میں متعدد مقامات پر مختلف طریقوں سے ادا کیا گیا ہے ۔ مثلاً سورۂ بنی اسرائیل میں نماز کا حکم دینے کے بعد فرمایا  عَسٰی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا، ”توقع ہے کہ تمہارا رب تمہیں مقام ِ محمود پر پہنچا دے گا“ آیت ۷۹۔ اور سُورۂ ضحٰی میں فرمایا   وَلَلْاٰ خِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلیٰ o وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضیٰ،” تمہارے لیے بعد کا دَور یقیناً پہلے دَور سے بہتر ہے، اور عنقریب تمہارا ربّ تمہیں اتنا کچھ دے گا کہ تم خوش ہو جاؤگے“۔

 مطلب یہ ہے کہ تمہارا اور تمہارے ساتھی اہلِ ایمان کا یہ کام نہیں ہے کہ یہ فسّاق و فجّار ناجائز طریقوں سے دولت سمیٹ سمیٹ کر اپنی زندگی میں جو ظاہری چمک دمک پیدا کر لیتے ہیں ، اس کو رشک کی نگاہ سے دیکھو۔ یہ دولت اور یہ شان و شوکت تمہارے لیے ہرگز قابلِ رشک نہیں ہے۔ جو پاک رزق

(”رزق حلال“، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی حرام مال کو ”رزقِ ربّ“ سے تعبیر نہیں فرمایا ہے۔)

 تم اپنی محنت سے کماتے ہو وہ خواہ کتنا ہی تھوڑا ہو، راستباز اور ایماندار آدمیوں کے لیے وہی بہتر ہے اور اسی میں وہ بھلائی ہے جو دنیا سے آخرت تک برقرار رہنے والی ہے

وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۖ لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا ۖ نَحْنُ نَرْزُقُكَ ۗ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَىٰ

اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کے پابند رہو ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے، رزق تو ہم ہی تمہیں دے رہے ہیں اور انجام کی بھلائی تقویٰ ہی کے لیے ہے

تفسیر:

   تمہارے بال بچے بھی اپنی تنگ دستی و خستہ حالی کے مقابلہ میں اِن حرام خوروں کے عیش و عشرت کو دیکھ کر دل شکستہ نہ ہوں۔ ان کو تلقین کرو کہ نماز پڑھیں۔ یہ چیز اُن کے زاویۂ نظر  کو بدل دے گی۔ ان کے معیارِ قدر کو بدل دے گی ۔ ان کی تو جہات کا مرکز بدل دے گی۔ وہ پاک رزق پر صابر و قانع ہو جائیں گےاور اُس بھلائی کو جو ایمان و تقویٰ سے حاصل ہوتی ہے اُس عیش پر ترجیح دینے لگیں گے جو فسق و فجور اور دنیا پرستی سے حاصل ہوتا ہے۔

(سورۃ طٰهٰ آيت نمبر131-132)

Tafheem-ul-Quran

Author: Dr Asif Mahmood Khokhar

Senior eye surgeon with special interest in Vitreoretinal, Oculoplastic, Laser, and Phaco surgeries

Leave a Reply

Be the First to Comment!

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

  Subscribe  
Notify of