حالات کا تجزیہ کرنے کی ایک خوبصورت کوشش ہے ضرور مطالعہ کریں

نیا اور پرانا پاکستان

30 اگست 2014

سچ ڈاٹ ٹی وی

Syed-Talat-Hussain-300x179-28683_200x1861 (1)

سید طلعت حسین
حالات اسی طرف گئے جس کا خدشہ تھا ۔ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے نیا پاکستان بنانے کاجو بیڑہ اٹھایا ہوا تھا اس نے رُخ تبدیل کیا اور اب پاکستان کی صورت تھائی لینڈیا مصر سے تو ملتی ہے مگر ان دعووں سے بہت مختلف ہے جو تمام ہڑ بونگ کے دفاع میں بار بار کیے گئے تھے ۔ کیا کہا جا رہا تھا اس کی سمری کچھ یوں ہے ۔
نواز شریف بطور وزیر اعظم فارغ ہو جائے گا۔
حکومت لکڑی کے برادے کی طرح ہوا میں اُڑ جائے گی ۔
قومی اسمبلی تحلیل ہو جائے گی۔
صوبائی اسمبلیان تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دی جائیں گی۔
عوام خواص میں بدل جائیں گے اور خواص طالبان نما احتسابی عمل کے ذریعے کھمبوں سے لٹکتے نظر آئیں گے ۔
ایک نیا آئین تشکیل ہو گا۔
عبوری حکومت بنے گی۔
گہری اصلاحات ہوں گی۔
نئے انتخابات کے ذریعے ایک نیا نظام تشکیل پائے گا ۔
نواز شریف ، آصف علی زرداری ، محمود خان اچکزئی ، مولانا فضل الرحمان ، آفتاب شیر پاﺅ ، اسفند یار ولی کی جگہ نئے چہرے سامنے آئیں گے ۔ یعنی چوہدری پرویز الہی ، شجاعت حسین ، سردار آصف احمد علی ، غلام مصطفی کھر ، شیخ رشید ، جہانگیر ترین ، جاوید ہاشمی ، شاہ محمود قریشی ، نئی نسل کے یہ سیاستدان ملک کو ان عظیم و شان بنیادوں پر چلائیں گے جس طرح پرویز خٹک خیبر پختونخوا ہ چلا رہے ہیں ۔ اور ہاں انقلاب کی تصویر کچھ ایسی بننی تھیں۔
پاکستان ٹیلی ویژن عوامی تحریک کے قبضے میں ۔
وزیر اعظم ہاﺅس تحریک انصاف کے جھنڈوں اور ڈنڈوں سے لدا ہو۔
پارلیمنٹ میں انقلابی کرسیوں پر براجماں ہوں۔
جج صاحبان کی کرسیوں پر نئے منصف براجماں وغیرہ وغیرہ۔
طاہر القادری نے اپنی انگریزی میں بھرپور تقریر کر کے مغرب کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ جیسے وہ سائبریا کی جیلیں کاٹ کر ملک میں واپس آنے والے لینن ہیں۔ جس کے ریڈ گارڈز زار کے ونٹر پیلس میں گھس کر جدید دنیا میں اپنی طرز کا واحد انقلاب لانے والے ہیں۔

ذرائع ابلاغ نے یہ تصورات اور وعدے نشر کیے ۔ آئین اور قانون کے خلاف کھلی بغاوت کو جوں کا توں روزانہ مسلسل بغیر رکاوٹ کے بیان ہونے دیا۔ عدالت عظمی کے سامنے بنے ہوئے بیت الخلاوں کی قطار کو تبدیلی کے نشان کے طور پر بیان کیا۔ تعفن کے مارے فضلے کے ڈھیر کو انقلابی خزانے کی طرح پیش کیا۔ سپریم کورٹ پر لٹکی ہوئی شلواریں ، بنیانیں ، پٹکے اور چادریں فخر سے دکھائیں اور پھر نشر مکرر کے طور پر نام نہاد تجزیہ نگار اور شعبدہ باز کرسیوں پر بیٹھ کر یہ مناظر بار بار دکھاتے ہوئے تعریف اور توصیف کی تسبیحیں ایسے پڑھنے لگے جیسے قبولیت کی گھڑی آن پہنچی ہے ۔

کسی نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اور اجتماعی ظلم جس کا نشانہ بچے اور عورتیں بنے حقیقت کے تناظر میں نہیں دکھایا۔ کسی نے یہ جرات نہیں کی کہ شہادت کی پٹیاں ماتھے پر بند ھ وا نے اور زندہ لوگوں سے اپنی قبریں کھدوانے اور ریاست سے ٹکرانے والوں ، مارنے اور مرجانے والوں کی ترغیب دینے والوں کا موازنہ ان گروپوں سے کریں جو معصوم بچوں کو بارود سے بھری جیکٹیں پہنا کر ریاست پر حملے کے لیے بھیجتے ہیں۔ ان میں اور اُن میں کوئی فرق نہیں تھا۔ دونوں کے مقاصد انسانی جانوں کو زیر استعمال لا کر نظام کو تہس نہس کرنا تھا۔ مگر ایک کو انقلابی کہہ دیا دوسروں کے خلاف آپریشن ضرب عضب جاری ہے ۔

مگر اس تمام اہتمام کے باوجود آخر میں جو ہوا وہ آپ سب نے دیکھا ، تمام معتبر سیاسی حلقوں کو دھتکارنے ، نظام کو للکارنے اور آخری بغل بجانے کے بعد ۔۔۔۔ایک بر گیڈیئر کا ٹیلی فون آیا اور اس نے کہا کہ اب آپ فوج کی بات سن لیں ۔ ایک نے انقلاب موقوف کر دیا دوسرے نے بات چیت کا پھر سے آغاز کر دیا۔ جلدی جلدی کمیٹیاں متحرک ہو گئیں اور آخری خبریں آنے تک استعفوں کے علاوہ وہ تمام مطالبات جو حکومت پہلے ہی مان چکی تھی اور جن پر قومی اتفاق رائے بھی بن چکا تھا بطور حتمی نتیجے کے قبول کرنے کا عمل شروع ہو گیا۔

وہ کون دانش مند تھے جنہوں نے سیاسی حل کے بجائے عسکری ثالثی کو بہتر راستہ گردانا ، اس کی تاریخ وقت آنے پر تمام تفصیل کے ساتھ بیان کر دی جائے گی مگر جس فارمولے کے اندر گجرا ت کے چوہدری ، پنڈی کا شیخ اور لودھراں کا ترین موجود ہوں وہاں پر دانش مندی کی حدیں آبپارہ سے شروع ہو کر آبپارہ پر ختم ہوتی ہیں ۔ ابھی تجزیوں کی بھرمار ہے ، کوئی اس کو حکومت کی کامیابی کہہ رہا ہے اور کوئی جمہوریت کی سبکی ۔ کوئی عمران خان اور طاہر القادری کو اس ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دے رہا ہے اور کوئی حیرت زدہ ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھ آخر یہ سب کچھ کیوں کیا۔ کیوں کہ حالات غیر یقینی ہیں ، کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ لہذا میں تفصیلی تجزیے سے گریز کر رہا ہوں۔

لمحہ بہ لمحہ بدلتے ہوئے منظر نامے پر بہر حال میں نے ٹوئٹر کے ذریعے مسلسل خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ تفصیل آپ پڑھ کر جان سکتے ہیں کہ اس تمام ہنگامے میں حقیقت کیا تھی اور اس کا افسانہ کیا بنایا گیا۔ انقلاب ایک سنجیدہ موضوع ہے تبدیلی دیر پا عمل ہے ۔ بہترین جمہوریت کا حصول مشکل اور تھکا دینے والا عمل ہے ۔ عوام کے حقوق کی جہدوجہد طاقت اور تشہیر کے پیاسوں کی ترجیع کبھی نہیں بنتی۔ موجودہ نظام جو بدترین خرابیوں اور نا ہمواریوں سے بھرپور ہے ،دو ہفتوں میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔ میں جب اصل پاکستان کے بانیوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے ان کی عظمت کو سلام کرنے میں فخر محسوس ہوتا ہے ۔

میں قائداعظم کی دیانت داری اور ہمت کو اپنے سیاسی ایمان کا حصہ سمجھتا ہوں ۔ میرے خیال میں علامہ اقبال کے افکار اس بلند ذہن کی پیدا وار ہے جو صدیوں میں کبھی ایک بار جنم لیتا ہے اور پھر میں ٹی وی سکرین پر یا میدان میں جا کر نئے پاکستان کے بانیوں کو دیکھتا ہوں ، دونوں کا موازنہ کرتا ہوں ۔ مجھے ایک لمحے میں سمجھ آ جاتی ہے کہ پاکستان 1947 میں کیوں کر بن پایا اور نئے پاکستان کا ڈھنڈورا ایک ٹیلی فون کال نے کیوں ٹھنڈا کر دیا ۔ یقینا اس تمام ہنگامے میں سوچنے سمجھنے اور تھوڑی سی عقل رکھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.