جماعتِ اِسلامی: ایک مطالعہ

جماعت اسلامی کیا ہے؟ …شاہنواز فاروقی

 

جماعت اسلامی مفکرِ اسلام اور مفسرِ قرآن سید ابوالاعلیٰ مودودی کی انقلابی فکر و عمل کا حاصل ہے۔ مولانا مودودی تاریخ کی اُن چند شخصیات میں سے ایک ہیں جنہوں نے تاریخ لکھی بھی ہے، اس پر اثرانداز بھی ہوئے ہیں اور اسے بدلا بھی ہے۔

مولانا مودودی نے جس وقت اپنے کام کا آغاز کیا غلامی نے مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کے خمیر کو بدل دیا تھا۔ یہ طبقہ نہ صرف مغربیت کا اشتہار بن چکا تھا بلکہ اس نے غلامی کو ”نعمت” بنا لیا تھا۔ دوسری جانب مسلمانوں میں کچھ غلامی اور کچھ مغربی فکر کے زیراثر یہ خیال عام ہوگیا تھا کہ اسلام کا ریاست و سیاست سے کوئی تعلق نہیں، اسلام کا کوئی معاشی تصور نہیں، اسلام کا کوئی عالمی تناظر نہیں۔ چنانچہ مسلمانوں سے کہا جارہا تھا کہ تم خود کو عقائد و عبادات اور چند اخلاقی اصولوں تک محدود سمجھو۔ مولانا مودودی نے اس اسلام دشمن فکر کو پوری قوت سے چیلنج کیا۔ انہوں نے اسلامی سیاست کے خدوخال واضح کیے، اسلامی ریاست کے تصور پر تفصیل سے روشنی ڈالی، اسلام کے معاشی نظام کا جامع خاکہ مرتب کیا، اسلام کے تصورِ جہاد کا مدلل دفاع کیا، پردے کے تصور کو جدید دلائل مہیا کیے۔ اس سے آگے بڑھ کر مولانا مودودی نے مغربی فکر اور کمیونزم کی تنقید لکھی۔ اس طرح مولانا نے اسلام کی کلیت یا Totality کا بھولا ہوا سبق مسلمانوں کو یاد دلایا۔ اس فکری کارنامے نے نہ صرف یہ کہ کروڑوں مسلمانوں کو باعمل  اور انقلابی مسلمان بنادیا بلکہ کروڑوں مسلمانوں کو مغربی فکر کے سحر سے بھی نجات دلادی۔ مولانا نے قرآن مجید کی تفسیر اور سیرت ِ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت سو(100) سے زائد کتب لکھیں۔ مولانا کے اس فکری جہاد میں ایسی برکت اور ایسی کشش تھی کہ مولانا کی کتب دنیا کی کم و بیش ہر بڑی زبان میں ترجمہ ہوکر پوری دنیا میں پھیل چکی ہیں۔ دنیا کی کوئی اسلامی تحریک ایسی نہیں جس پر مولانا مودودی کی فکر کا کوئی نہ کوئی اثر نہ ہو۔ جماعت اسلامی مولانا مودودی کے اس فکری ورثے کی امین ہے۔

مولانا مودودی صرف مفکر نہیں مدبر بھی تھے، چنانچہ انہوں نے حکومت ِ الٰہیہ کے قیام اور غلبۂ اسلام کی جدوجہد کو سیکولر، لبرل اور بے چہرہ سیاسی جماعتوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا۔ انہوں نے 26 اگست 1941ء کو جماعت اسلامی قائم کی۔ جس وقت جماعت اسلامی قائم ہوئی مولانا کے ہاتھ میں 70 افراد اور 75 روپے کا سرمایہ تھا۔ مولانا نے جماعت اسلامی کی بنیاد  قرآن و سنت اور اسلامی تاریخ سے ماخوذ مندرجہ ذیل چار تصورات پر رکھی:

(1) تقویٰ میں فضیلت

(2) علم میں فضیلت

(3) باطن میں نفس اور خارج میں قومی سطح سے بین الاقوامی سطح تک طاغوت کی مزاحمت

(4) مسلمانوں اور وسیع تر دائرے میں انسانیت کی بے لوث خدمت۔

لیکن جماعت اسلامی کے تشخص کا دائرہ یہیں تک محدود نہیں۔

جماعت اسلامی کے تشخص کا ایک پہلو یہ ہے کہ جماعت اسلامی مسلمانوں کو کسی فرقے، کسی مسلک، کسی قومیت، کسی زبان، کسی نسل، کسی جغرافیے، کسی ثقافت اور کسی صوبے کی طرف نہیں بلاتی۔ جماعت اسلامی ان تمام بتوں کا انکار کرتی ہے۔ جماعت اسلامی مسلمانوں کو صرف اسلام، قرآن و سنت اور اسلامی تاریخ و تہذیب کی طرف بلاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی معاشرے کے تمام پھولوں کا گلدستہ ہے، اور وہ اسلام کی عالمگیریت اور آفاقیت کی علامت ہے۔ اس تناظر میں جماعت اسلامی کا پیغام سادہ اور دوٹوک ہے۔ جماعت اسلامی مسلمانوں سے کہتی ہے کہ کنویں کے مینڈک نہ بنو، امت کے سمندر کا حصہ بنو۔

جماعت اسلامی کے اس نظریاتی تشخص نے اسے قومی زندگی کے ہر مرحلے میں نظریاتی و عملی کردار ادا کرنے پر مائل کیا۔ جماعت اسلامی ان قوتوں کا ہراول دستہ تھی جنہوں نے ملک میں اسلامی آئین کی تشکیل کے لیے جدوجہد کی۔ مولانا مودودی نے ختم نبوت کے مسئلے کے حوالے سے مرکزی کردار ادا کیا اور اس کی پاداش میں انہیں موت کی سزا سنائی گئی جس پر حکمرانوں کو عمل درآمد کی جرأت نہ ہوئی۔ ایوب خان کی آمریت کے خلاف مزاحمت میں جماعت اسلامی پیش پیش تھی۔ تحریک نظام مصطفیۖ میں جماعت اسلامی کا کردار بنیادی تھا۔ سوویت یونین کے خلاف جہاد اور جہاد ِکشمیر میں جماعت اسلامی کی قربانیاں سب سے زیادہ ہیں۔ پاکستان میں ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا زلزلہ آیا تو جماعت اسلامی نے سب سے بڑھ کر متاثرین کی مدد اور خدمت کی، ملک میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب آیا تو جماعت اسلامی ایک بار پھر سب سے آگے تھی، عدلیہ کی آزادی کی تحریک برپا ہوئی تو جماعت اسلامی نے اس میں اہم کردار ادا کیا، جنرل پرویزمشرف کی آمریت کے خلاف جماعت اسلامی کی آواز سب سے بلند تھی، افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف برپا جہاد کو جماعت اسلامی نے جس طرح اپنی اخلاقی حمایت فراہم کی ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ جماعت اسلامی کی ”گو امریکہ گو” تحریک امریکی استعمار کی سب سے مؤثر نظریاتی اور سیاسی مزاحمت ہے۔ جماعت اسلامی نے غربت اور مہنگائی کے طوفان اور دیگر عوامی مسائل پر کسی بھی دوسری جماعت سے بڑھ کر عوامی احتجاج منظم کیا ہے۔

جماعت اسلامی کے اِس کردار نے اس کی قوت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی قائم ہوئی تھی تو اس کے ساتھ صرف 70 لوگ تھے لیکن آج جماعت اسلامی جیسی نظریاتی جماعت کے اراکین کی تعداد 23,475 ہے۔ رکنیت کے امیدواروںکی تعداد 6,539 ہے۔ متحرک کارکنان کی تعداد 1,45,745 ہے جبکہ ممبرز کی تعداد 40,44833 ہے۔

جماعت اسلامی نے معاشرے کی نصف آبادی یعنی خواتین کو نظرانداز نہیں کیا۔ جماعت اسلامی نے خواتین کی دینی، نظریاتی اور سیاسی تعلیم و تربیت کے لیے خواتین کا جداگانہ نظم قائم کیا ہے۔ اس نظم کے تحت خواتین اراکین کی تعداد 2,942 ہے۔ رکنیت کی امیدواروں کی تعداد 1,713 ہے۔ متحرک کارکنان کی تعداد18,048 ہے جبکہ ممبرز کی تعداد 2,81,231 ہے۔ اس طرح جماعت اسلامی کا حلقۂ خواتین پاکستان کی کسی بھی دوسری جماعت کے حلقۂ خواتین سے بڑا ہے۔

پاکستان کے تعلیمی اداروں کی تاریخ میں اسلامی جمعیت طلبہ کا کردار اتنا بنیادی ہے کہ اس کے بغیر تعلیمی اداروں کی تاریخ نہیں لکھی جاسکتی۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے جب قیام پاکستان کے بعد کام کا آغاز کیا تو ملک کے تمام تعلیمی اداروں پر کمیونسٹ اور لبرل عناصر کا مکمل غلبہ تھا۔ چنانچہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں اسلام کا نام لینا محال تھا۔ نوجوان طلبہ ان تعلیمی اداروں میں داڑھی نہیں رکھ سکتے تھے، اور طالبات پردے کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھیں۔ لیکن اسلامی جمعیت طلبہ نے اپنی بے مثال جدوجہد سے تعلیمی اداروں میں اسلامی انقلاب برپا کردیا۔ جمعیت نے ایک ایک تعلیمی ادارے میں لادین عناصر کو شکست دی۔ جمعیت نے فکر کا مقابلہ فکر سے کیا، دلیل کا جواب دلیل سے دیا، خدمت کے مقابلے پر بہتر خدمت پیش کی، کردار کے مقابلے پر بہتر کردار کی نظیر قائم کی۔ چنانچہ دو دہائیوں میں پاکستان کے تعلیمی ادارے ”سرخ” سے ”سبز” ہوگئے۔ جماعت اسلامی سے نظریاتی ہم آہنگی رکھنے والی اسلامی جمعیت طلبہ آج بھی تعلیمی اداروں میں اپنا کردار ادا کررہی ہے۔

جماعت اسلامی کا کردار خواتین اور طلبہ تک محدود نہیں۔ جماعت اسلامی کی مزدور تحریک نیشنل لیبر فیڈریشن نے محنت کشوں کے شعبے میں لادین عناصر کو پسپا کیا ہے اور درجنوں اہم قومی اداروں میں اسلام کا پرچم لہرایا ہے۔ جماعت اسلامی کی برادر تنظیمات کا دائرہ وسیع ہے۔ اسلامی جمعیت طالبات طالبات میں، جمعیت طلبہ عربیہ مدارس کے طلبہ میں، اتحاد العلماء علمائے کرام میں، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن ڈاکٹرز میں، کسان بورڈ کسانوں میں، پاکستان بزنس فورم تاجروں میں، اسلامی ہومیو پیتھک ایسوسی ایشن ہومیو پیتھک ڈاکٹرز میں، اسلامک لائرز موومنٹ وکلا میں، شباب ملی عام نوجوانوں میں، پاکستان انجینئرز فورم انجینئرز میں اور تنظیم اساتذہ پاکستان اساتذہ کی برادری میں بھرپور کام کررہی ہے۔ زندگی کے یہ تمام دائرے جماعت اسلامی کی ہمہ گیر اور ہم جہت جدوجہد کی علامت ہیں۔

جماعت اسلامی ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جس کا شعبۂ خدمت ‘الخدمت’ کے نام سے ملک کے بڑے شہروں میں خدمات انجام دے رہا ہے۔

جماعت اسلامی بلاشبہ ایک سیاسی جماعت ہے لیکن وہ اقتدار کے بغیر بھی عوام کی خدمت پر یقین رکھتی ہے۔ اس کی ایک اور بڑی مثال جماعت اسلامی کے تحت ملک میں کام کرنے والے دینی اور عام تعلیم کے ادارے ہیں۔

جماعت اسلامی ملک کی واحد قابلِ ذکر سیاسی جماعت ہے جس میں ہر سطح پر داخلی انتخابات کا نظام روزاوّل سے موجود ہے اور تسلسل کے ساتھ کام کررہا ہے۔ چنانچہ جماعت اسلامی پر نہ کسی فرد کا قبضہ ہے نہ جماعت اسلامی کسی خاندان کی میراث ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو جماعت اسلامی ملک کی واحد جمہوری جماعت ہے۔ ایسی جماعت جس میں تقویٰ، علم، دیانت، امانت، اہلیت اور خدمت ہی سب کچھ ہے، اور جس میں ہر کام شوریٰ کی سطح پر باہمی مشورے سے ہوتا ہے، جو اسلام کے زریں اصولوں میں سے ایک اصول ہے۔

جماعت اسلامی ملک کی واحد جماعت ہے جو ایک دستور کے تحت کام کرتی ہے۔ یہ دستور ہر سطح کے ذمے داروں کو ایک طریقۂ کار اور ایک ضابطے کا پابند کرتا ہے۔ اس طریقۂ کار اور ضابطے کی خلاف ورزی انتہائی دشوار ہے، اور اگر ایسا کوئی واقعہ ہوہی جائے تو جماعت کا نظام احتساب ہر ذمے دار کو اصولوں کی پابندی پر مجبور کردیتا ہے۔ جماعت اسلامی نہ صرف یہ کہ دستور کی حامل ہے بلکہ جماعت نے اپنا انتخابی منشور بھی تیار کیا ہے۔ یہ  منشور زندگی کے تمام اہم شعبوں کے بارے میں جماعت اسلامی کی فکری پالیسیوں، ممکنہ اقدامات اور وژن کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے۔

جماعت اسلامی کا کام بلاشبہ مقامی ہے مگر اس کی فکر بین الاقوامی ہے، یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی پوری دنیا میں کام کرنے والی اسلامی تحریکوں، جماعتوں اور شخصیتوں سے قریبی رابطے میں ہے۔ جماعت اسلامی کی یہ اہلیت نہ صرف پاکستان بلکہ جماعت اسلامی سے وابستہ ایک ایک فرد کو پوری دنیا سے منسلک اور مربوط کردیتی ہے۔ اِس سے اس کی معلومات اور علم میں ہی نہیں اس کی فکر و نظر میں بھی بے پناہ وسعت پیدا ہوجاتی ہے۔ ایسی وسعت جو ہر مسلمان کی حقیقی پہچان بھی ہے اور اس کی آرزو بھی۔

جماعت اسلامی کی نظر عالمگیر ہے لیکن جنوبی ایشیا وہ خطہ ہے جس پر جماعت اسلامی کی گہری چھاپ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی صرف پاکستان ہی میں موجود نہیں، جماعت اسلامی بھارت میں بھی خدمات انجام دے رہی ہے، جماعت اسلامی بنگلہ دیش میں بھی جدوجہد کررہی ہے، جماعت اسلامی سری لنکا میں بھی برسرِکار ہے، جماعت اسلامی کے اثرات کو افغانستان میں بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔

بلاشبہ یہ جماعت اسلامی کا ایک سرسری، سطحی اور جزوی تعارف ہے، لیکن اس تعارف سے جماعت اسلامی کی حقیقت بہرحال واضح ہوجاتی ہے۔ اس حقیقت پر غلبۂ اسلام کی آرزو کا سایہ ہے۔ اس حقیقت میں مسلمانوں کے بے مثال ماضی، متحرک حال اور شاندار مستقبل کے رنگ ہیں۔ کیا اسلام یا امت ِمسلمہ اور پاکستان سے محبت کرنے والے کسی شخص کو جماعت اسلامی سے دور رہنا چاہیے؟ کیا اسے جماعت اسلامی میں شامل ہوکر اسلام اور امت ِمسلمہ کی قوت نہیں بن جانا چاہیے؟ آپ کا کیا خیال ہے؟

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.