تہذیبی ارتداد اور محترم جاوید احمد غامدی

“احقر 86ء میں جاوید غامدی صاحب سے متعارف ہوا، اور تقریباً بیس برس مختلف حیثیتوں میں المورد اور اس کی فکر سے وابستہ رہا۔ میں اس دوران المورد کا صدر رہا، ماہنامہ اشراق اور انگریزی ماہنامے ’’رینی ساں‘‘ کا مدیر رہا، اور المورد میں پڑھا بھی اور پڑھایا بھی۔ اس تمام مدت کے دوران غور و فکر اور مطالعہ جاری رکھا۔
غالباً 2005 کے قریب مجھے اس فرقے سے دینی و فکری اختلافات پیدا ہونے شروع ہوئے۔ مجھے احساس ہونے لگا کہ غامدی صاحب کے کام میں بعض بنیادی دینی اور علمی سقم ہیں۔ جاوید غامدی صاحب اور المورد کے رفقاء کے ساتھ بہت گفتگوئیں ہوئیں، مذاکرے اور مباحثے ہوئے، حتیٰ کہ تحریری تبادلہ بھی ہوا، جو سنہ 2010ء تک جاری رہا، جس میں درجنوں خطوط کا تبادلہ ہوا۔ لیکن اس تبادلے سے اس فرقے کے بارے میں میرے نتائجِ فکر کی تصدیق ہی ہوئی۔ میری بعض تحریروں سے کچھ قارئین کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ جاوید غامدی صاحب سے میرے اختلاف کی اصل وجہ یہ ہے
کہ وہ منکرِحدیث ہیں۔ یہ درست نہیں ہے۔ منکرِحدیث تو وہ ہیں ہی، لیکن ان کی اصل غلطی یہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ دین کی تمام نصوصِ مطہرہ کو مغربیت کی گاڑی میں جوتنے کی کوشش کرتے ہیں، اور اس اعتبار سے انکارِ حدیث انہیں موافق آیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ ہولناک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ انہوں نے قرآن مجید کی تعبیر پر بھی استعماری جدیدیت کی حاکمیت قائم کرنے کی سعی کی ہے۔ قرآن مجید کی متجددانہ اور استعماری تعبیر اور انکارِ حدیث مقاصد نہیں، ذرائع ہیں۔
اس وقت مسلمانوں کو جو سب سے بڑا خطرہ درپیش ہے وہ جدیدیت کا تہذیبی، علمی، اور فکری حملہ ہے، جس کے آگے غامدی صاحب دانستہ یا نادانستہ سپر ڈال چکے ہیں۔ وہ مغربی فکر سے کوئی زیادہ واقف نہیں ہیں، لیکن اس کا جو مبتدیانہ فہم رکھتے ہیں، اس کی وجہ سے – اور اس سے زیادہ مغربی تہذیب کے اقتدار اور غلبہ کی وسعت و گیرائی اور اس کی چکاچوند کے آگے فکری بےبسی کی وجہ سے – اسلام کو مغربی تہذیب کا محتاج تسلیم کر چکے ہیں۔
چنانچہ انہوں نے دینی نصوص کو اس مقصد میں پوری طرح کھپا دیا ہے۔ مئے فرنگ کے ایک دو گھونٹ لے کر ہی ان کے علم و فکر شل ہو گئے، اور یہ شطحات ان کی زبان سے اسی عالمِ سکر میں صادر ہوئی ہیں: ’’اب جہاد لاعلائے کلمۃ الحق حرام ہے‘‘، ’’ہمارے دور میں جزیے کا نفاذ غیراسلامی ہے‘‘، قبائلی مسلمانوں کی طاقت ختم کرکے انہیں تحلیل کردینا چاہئے، زکوٰۃ کا نصاب مقرر کرنے کا حق حکومت کو ہے‘‘، ’’توہین رسالت اور ارتداد کی کوئی سزا نہیں‘‘، ’’جمہوریت عین اسلام ہے‘‘، ’’شادی شدہ زانی و زانیہ کےلیے رجم کی سزا غیراسلامی ہے‘‘، ’’قومی ریاست کوئی کفر نہیں‘‘!
جو اہل علم ان کی دینی آراء سے واقف ہیں وہ اس کی تصدیق کریں گے کہ اپنے تفردات اور اپنی تمام ما بہ الامتیاز آراء کے نتیجے میں، انہوں نے جدیدیت کے کسی نہ کسی پہلو کو ’’قرآنی سند‘‘ مہیا کرنے کی کوشش کی ہے، اور ’’حسنِ اتفاق‘‘ سے، ان کے ’’اجتہادات‘‘ کا وزن ہر مرتبہ جدیدیت ہی کے حق میں پڑا ہے! مسلمانوں کا ایک کھاتاپیتا اور مغربی تعلیم یافتہ طبقہ عملاً جدیدیت کی ثقافت کو اختیار کر چکا ہے، اور مدت سے اپنے اس ’’تہذیبی ارتداد‘‘ پر احساسِ جرم کا شکار چلا آتا ہے
۔ غامدی صاحب نے اس تہذیبی ارتداد کو ’’دینی نصوص‘‘ سے مستحکم کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ اُن جیسے متجددین کے کام کے نتیجے میں اس طبقے کا یہ احساسِ زیاں رفتہ رفتہ رفع ہو رہا ہے۔ اس طبقے میں ان کی مقبولیت کی وجہ بھی یہی ہے۔ بےشک، جدید اسلام کا ایک بڑا therapeutic کردار ہے، یعنی جدید اسلام دراصل ماڈرن مسلمان کے guilt کی دوا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ یہ دوا جرم کو نہیں، احساسِ جرم کو مٹاتی ہے، اور اس کے نتیجے میں مجرم کو اور بھی زیادہ جری اور بےباک بنا دیتی ہے۔”

Dr.nadir aqeel ansari(ph.d in philosophy Australia )

6 Replies to “تہذیبی ارتداد اور محترم جاوید احمد غامدی”

  1. Asa dear brother in islam.
    You may explore book minhaj ul quran by dr burhan Ahmad farouqi .PLEASE
    Dr Mahmood Ali tirmizey

  2. کاش کہ اس بیانیہ میں کوئی ایک بھی دلیل یا ثبوت ہوتا – یہ تو کسی مسترد شدہ اور علمی طور پر دیوالیہ انسان کی تحریر لگتی ہے

    1. محترم نادر عقیل انصاری صاحب کی ہی ایچ ڈی کے بارے میں یہ ایک اہم اطلاع ہے جس کی تصحيح کا انتظار رہے گا. تاہم اُن کے غامدی صاحب کے بارے میں تاثرات مبنی بر حقیت ہیں. اس سے اُن کی ڈگری کے سٹیٹس سے کوئی فرق نہیں پڑتا.

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.