تماشائے ندگی

تماشائے ذندگی

اک عجب کشکمش ہے زندگی..

اس سے ہماری تو کبھی نہ بن سکی!

زندگی نے عجب کھیل کھیلا…

اونچے اونچے خواب دکھا کے

عجب جذبات کی لَو جگا کے

زمیں پہ بسنے والوں کو

تاروں کے لارے لگا کے

ہر سو پیار کے دئیے جلا کے..

یکدم تنہا کر دیا..

دشت میں بے آسرا دھر دیا

ہر موسم میں غم دئیے

اور بے ترتیب و بے ہنگم دیئے

اے زندگی..

اپنے بھی لگیں ہم کو اجنبی..

کیسی چال تو چل گئی!..

عجب تو کشمکش ہے زندگی

سنبل آصف

Author: Dr Asif Mahmood Khokhar

Senior eye surgeon with special interest in Vitreoretinal, Oculoplastic, Laser, and Phaco surgeries

Leave a Reply

Be the First to Comment!

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

  Subscribe  
Notify of