اے میرے آقا

اے مرے آقاﷺ

اے آقاﷺ—-اے میرے مُحسنﷺ!!!

کاش میں آپ سے بات کر سکتا

دل کے اضطراب کو مایوسیوں کے گرداب کو

کاش میں آپ سے بیان کر سکتا

یہ ایمان کے نقیب، یہ آخرت کے ونجارے یہ تقدیسِ مشرق کے دعویدار، یہ قرآن کے پیروکار

یہ محبت کے امین—یہ فلکِ رُشد کے ستارے

اولوالباب یہ تمام — اسلامیّت کے یہ علمبردار

——————————–

کہ جو جُرأتوں کے امین تھے

ہمتوں اور محبتوں سے روشن جبیں تھے

کہ جو ایثار کے پیکر جُود و سخا کے تھے سمندر

قطرے کی اہمیت جن کے لئے کچھ بھی نہیں تھی

اپنی جاں کے گھو نٹ دوسروں کو پلایا کرتے تھے

زخم کھا کھا کے دوسروں کو بچایا کرتے تھے

جن کی نظروں کے شھنشاہ بھی گھائل تھے

اور قیصر و کسرٰی بھی ہیبت سے طاعت پہ مائل تھے

جلالِ بادشاہی جن کے نیزوں کی انّی پہ تھا

جو فخرو غرور و تکبّر کے لئے زہرِِ قاتل تھے

———————————

فکرِ فردا کیا فکرِامروز بھی لعنت تھی جن کو

اک دانۂ کھجور–اک روکھی روٹی بھی رحمت تھی جن کو

جو دنیائے دنی سے جان چھڑاتے تھے

جو موت کی ہر وقت تمنّا کیا کرتے تھے

جو شہادت کے لئے جیتے شہادت کے لئے مرتے تھے

جو موتِ شہادت کو دیکھتے ہی مطمئن ہو جایا کرتے تھے

اور جب نہ آتی تو بہت رویا کرتے تھے

جن کی زندگی بے خطر گزرا کرتی تھی

موت جن کی حفاظت کیا کرتی تھی

———————————–

میرے سامنے مقبروں میں کیوں جا سوئے ہیں؟

اتنی بڑی دنیا کو ظلمتوں میں کیوں چھوڑ گئے ہیں؟

——————————-

کیا ھمارا نصرت و ہدایت پہ حق نہیں؟

یا آج دین اسلام ہی سچ نہیں؟

————————-

اگر آج بھی سچ ہے تو پھر یہ لوگ کیوں نہیں؟

امام کی تقریروں میں دردو سوز کیوں نہیں؟

آج تو لوگ زخمِ سنگریزہ کا طائف سے موازنہ کرتے ہیں

سو جاتے ہیں اور پھر خواب کا معراج سے موازنہ کرتے ہیں

اور پھر خود پہ اتراتے ہیں

دوسروں کے طنز تک پہ اُتر آتے ہیں

کاش حدود انھیں بتائے کوئی

مردار کھانے سے انھیں بچائے کوئی

ٹوٹ ٹوٹ پڑتے ہیں اور کوئی پوُچھنے والا نہین

شوقِ جہاد کا نام دیتے ہیں اور کوئی ٹوکنے والا نہیں

نہ بے چارے کا ظہور مانع ہے اُس کی تنقیص سے

اور غیاب تو وقتِ مزہ ہے اُس کی تخصیص سے

اعتماد کے بند توڑ کر نجوٰی و بہتان بہہ نکلے ہیں

بڑے بڑے——–حکمِ خدا کو خیرباد کہہ چُکے ہیں

جھنجھلاہٹ، پریشانی، جلدبازی ہیں سامانِ رشک آج

مُو نڈ رہا ہے سب کو رفتارِ برق سے حسد آج

—————————————

اور حالات کے پر دے ڈال کر

کبھی جذبات کی ڈھالیں سنبھال کر

کبھی شعور و کوتاہی کے کُہرے ڈال کر

اور کبھی مغفرت کے پُرفریب حصار کھینچ کر

یا پھر درگزر کے سبز باغ سینچ کر

—————————–

حقائق سے منہ موڑ لیتے ہیں

اور الزام فطرت کو دیتے ہیں

—————————-

کیا یہی اسلام ہے؟

کیا یہی جوہرِ اسلام ہے؟

——————————-

اے میرے آقا—اے میرے مُحسن

نظر کرم کر—-نظرِ کرم کر

اپنے مولا اپنے آقا سے شفاعت کر

اور ذلیل مداریوں سے پروانۂ پناہ عطا کر

——————–

شعور و آگھی کی بارش سے یہ غبار چھُٹ جائے

اور ر ضائے الٰھی کی مھک سے یہ بساند مِٹ جائے

———————————

کہ ھم بھی پُر رحمت گھٹائیں دیکھ سکیں

مھکتی، بہکتی، با بر کت فضائیں دیکھ سکیں

انقلاب کی مقدس ساعتوں کے درمیاں

مقھوروں کی پُرسکوں ادائیں دیکھ سکیں

جب بولھبی و بوسفیانی کا سر کُچل دیا جائے

جب ظلم و جور اور سر مائے کا وجود مسل دیا جائے

اِن سا نپوں کو انجامِ بد اور عذا بِ الیم دیا جائے

گنجے ناگوں اِن فرعونوں کو جھنم رسید کیا جائے

جب بھوکے ننگوں کو سرفرازی ملے

کوئلوں پہ جلنے والوں کو کارِجہا ں سازی ملے

———————————–

بے ڈھنگے بدن عاشق مزاج جب مسند سنبھالیں

اور “گورے” بدنوں والے “مھذب” جب صفِ ماتم بچھا لیں

جب جذب و عشق و لگن مقامِ بُلند پالیں

حرسوں، خواہشوں، اور شاہیوں پہ لعنت خود ظالم کریں

تقوٰی کے معیار پہ لوگو ں کو جانچا پرکھا جائے

عقل و دانش کے دعویداروں پہ حکومت “جاہل” کریں

—————————–

وہ سا عتِ سعید—ساعتِ انقلا ب—وہ لمحۂ جاں فزا

لا ساقی پلا کہ نظارہ لمحۂ قاتل کریں

—————————–

اے ظلمتوں کے عا شقو–اے روشنیوں کے دشمنو

بہتے طو فانوں، بڑھتے سیلابوں سے لڑنے والے احمقو

آو شہادت و سعادت کے اس عظیم سفر میں

تمہیں بھی مقدس فرض سونپیں–تمہیں بھی شاملِ سفر کریں

——————————-

پھر وقت حساب لے گا– ہر قطرۂ خُوں کا حساب لے گا

اے ظلم کے حواریو—بد قسمت جواریو—وقت حساب شتاب لے گا

وقت حساب شتاب لے گا

وقت حساب شتاب لے گا وقت حساب شتاب لے گا

ڈاکٹر آصف کھوکھر

2 thoughts on “اے میرے آقا”

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔