بادشاہت اور شہنشاہیت کا مقابلہ ہے؛ ہوشیار! جاگتے رہنا

logo3

logo2

آج بادشاہت سے قیصر و کسری کی شہنشاہیت کے ٹکرانے کا دن ہے۔ ایک طرف نواز شریف ، مریم نواز ، شہباز شریف،حمزہ شہباز پر مشتمل خاندان  ہے جسے بادشاہت کا نام دیا گیا۔ دوسری طرف میدان میں عمران خاں کے ساتھ ان کے بیٹے اٹھارہ سالہ سلیمان اور پندرہ سالہ قاسم لندن سے آکر میدان میںاتر چکے ہیں، اور ساتھ ہی طاہرالقادری اور ان کے بیٹے حسین محی الدین اور حسن محی الدین بھی میمنہ اور میسرہ کے سپاہ سالار کے طور پر راجدھانی کی طرف پیش قدمی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ انقلابی اور سونامی لشکر ہیں، اور ایک جمہوری اور آئینی حکومت کا دھڑن تختہ کرنا ان کا مشن ہے۔ اگر یہ ایک منتخب حکومت کو بادشاہت صرف اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں حکمرانوں کے بیٹے بیٹیاں بھی شامل ہیں تو سونامی ا ور انقلابی لشکر میں بھی قائدین کی اولادیں شامل ہیں۔سلمان ، قاسم ،حسنین اور حسن کو گود میں بٹھا کر عمران اورقادری کس منہ سے جمہوریت کے احیا ء کی بات کرتے ہیں اور وہ بھی طاقت کے زور پر، ڈنڈے کے زور پر،فاشزم کا ہر حربہ استعمال کرتے ہوئے ۔ وہ ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔  پہلے تو میں قارئین سے معافی چاہتا ہوں کہ عمران اور قادری کی زبان استعمال کرتے ہوئے میںنے بھی وزیر اعظم کو بادشاہ ہونے کا طعنہ دیا، ان کی بیٹی مریم نواز، جو میری بیٹیوں جیسی ہے، کو بھی شاہی خاندان کا رکن ہونے کا طعنہ دیا ، اور حمزہ شہباز جن کی صلاحیتوں کی تعریف میںنے انکے والد شہبازشریف کے سامنے کی ۔ اگر منتخب حکمران اپنی اولادوں کی وجہ سے بادشاہ کہلا سکتے ہیں تو عمران اور قادری اپنی اولا دوں کو اکھاڑے میں اتار کر قیصرو کسری کیوںنہیں کہلا سکتے۔ سو آج کی جنگ صرف اقتدار کے لیے ہے، ہر قیمت پر اقتدار، ہر ہتھکنڈہ استعمال کرتے ہوئے اقتدار، بھوکے اور لالچی جمہوریت کا گوشت پوست نوچنے کے لئے سڑکوں اور چوکوںمیں دندنا رہے ہیں۔ یہ جنگ جمہوریت کے لئے ہوتی تو میں اس میں پیش پیش ہوتا۔اگر حکومت کی ا صلاح مقصود ہوتی تو میں اس جنگ کا سپاہ سالار ہوتا، میںنے پچھلے ایک سوا سال میں اس حکومت پر کڑی سے کڑی تنقید کی ہے اور دلائل کے ساتھ کی ہے اور دنیا کے عظیم تریں نظریاتی ، جمہوریت پسند ایڈیٹر ڈاکٹر مجید نظامی کی دلیرانہ ایڈیٹری میں ںے کی ہے، جو کبھی کسی لالچ میں نہیں ا ٓئے ، جو کسی ڈکٹیٹر کے سامنے نہیں جھکے، جنہوںنے ہمیشہ فاشزم اور نیپوٹزم کو جوتی کی نوک پر رکھا، جنہوںنے جابر سلطان کے منہ پر کلمہ حق کہا اور انہوں نے میرے ناتوان قلم میں بجلیاں بھر دی تھیں۔ مگر انہوںنے یہ کبھی نہیں سکھایا کہ کہ جب جمہور یت کا بستر بوریا گول کیا جا رہا ہو تو اس کا ساتھ دو ، انہوں نے تو جنرل کاکڑ جیسے آرمی چیف کے بارے میں بھی برملا کہا کہ اسے کیا حق ہے کہ کہ وہ ایک منتخب وزیر اعظم کو گھر جانے کا حکم دے۔میں ان دنوں ان کا ڈپٹی ایڈیٹر تھا اور میرے صحافتی کیریر کا یہ سنہری اور قابل فخر دور ہے۔  مجھ سے قارئین سوال کرتے ہیں کہ کیا میںنے یو ٹرن لے لیا ہے ، میراجواب ہے کہ ہر گز نہیں ،اس وقت جمہوریت بچانے کا سوال ہے تو ہر جمہوریت پسند کو عمران ا ور قادری کی بھر پور مخالفت کرنی چاہئے ، چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کے کردار کی مذمت کرنی چاہئے اور شیخ رشید کے مسخرے پن کا پردہ چاک کرنا چاہئے ، جب جمہوریت اور جمہوری حکمرانوں کی ا صلاح کا وقت ہو گا تو پھر سے آپ دیکھیں گے کہ میرا قلم شعلے اگلے گا۔اور آپ کو بھی حضرت عمر ؓ کے دور کی طرح حکمرانوں کے احتساب کا پورا پورا حق ہو گا۔ عمران نے جی ٹی روڈ کا روٹ کیوں چنا ہے،ا س کاخیال ہے کہ چناب کے پل سے آگے گجرات ہے جو چودھری برادران کا قلعہ ہے، ہاں قلعہ تو ہے مگر یہ چودھری وجاہت حسین کے نت ہائوس کا قلعہ ہے جس کی زمین دوز سرنگوںمیں مغویوں کو جمہوریت کا درس دیا جاتا ہے۔ اور اسی دریائے چنا ب کے پل پر چودھری برادران اپنے مہمان عمران خان کا کنٹینر اپنے کندھوں پر اٹھا لیں گے اور پھر عمران کو پتہ بھی نہیں لگنے دیں گے کہ اسے کنٹینر سمیت کس گہری کھائی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ اس انقلابی اور سونامی لشکر کے سامنے وزیر اعظم کو ڈٹ جا نا چاہئے ، انہیں اس طرح کی تقریریں نہیں کرنی چاہئیں جنہیں سن کر ایک طرف عمران کا دل پسیج جائے اور دوسری طرف دماغ بغاوت پرڈٹا رہے۔ کچھ لوگ نرم اور خوش گفتاری کی زبان نہیں سمجھتے ہیں، ایک ا کھڑ شخص کے سامنے رام رام کہہ کر دیکھ لیجئے، وہ ایک مکے  کے زور سے مقابل شخص کا بھیجہ نکال کر رکھ دے گا۔کیا قائد اعظم نے ہندو کی رام رام پر یقین کیا تھا اور اگر وزیر اعظم اپنے آپ کو قائد ثانی کہتے ہیں تو قائد اعظم کی طرح قادری اور عمران کا بولو رام کر کے دم لیں ، جمہوریت اور ریاست کو بچانا وزیر اعظم کا آئینی اور منصبی فرض ہے اور فرض اولیں ہے۔ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔ ہم نے تو مولوی فضل اللہ کے لشکریوں کو نہیںمانا جس نے کہا تھا کہ وہ ہماری پارلیمنٹ کو نہیں مانتا، ہماری عدلیہ کو نہیں مانتا اور ہماری جمہوریت کو نہیں مانتا، عمران اور قادری بھی نہ ا ٓئین کو مان رہے ہیں، نہ پارلیمنٹ کو مانتے ہیں، نہ عدلیہ کو مانتے ہیں ، وہ دھونس جما کر اپنی منوانا چاہتے ہیں، دنیا میں دھونس کا دوسرا نام فاشزم ہے، یہ جمہوریت کی ضد ہے ، اس کے بر عکس نظام ہے ، ہم دہشت گردوں سے کیوں لڑ رہے ہیں ، وہ بھی اپنے اسلحے کے بل پر ، خود کش جیکٹوں کے بل پر، چوکوں میں گردنیں کاٹ کر اپنا سکہ جمانا چاہتے تھے، ہماری مسلح افواج ان کے مقابل کھڑی ہیں اور ان کا صفایا کر چکی ہیں ، وزیر اعظم کا فرض ہے کہ وہ جمہوری قوتوں کی مدد سے فاشزم کی اس بدعت کا قلع قمع کر دیں۔ وہ بات چیت سے مسائل حل کرنے کی پیش کش کرتے رہیں لیکن وہ نہ مانیں تو پھر اپنے الیکٹوریٹ کی طاقت کا مظاہرہ کریں ، قادری ا ور عمران بھی اپنے پیر وکاروں کو لے کر نکلے ہیں، وزیر اعظم بھی اپنے جانثاروں سے کہیں کہ قدم بڑھائو ، نواز شریف تمہارا انتظار کر رہا ہے۔ یہ جانثار دودھ پینے والے مجنوں تونہ بنیں کہ میاںصاحب پر برا وقت آئے تو پیٹھ دکھا کرغائب ہو جائیں ، وزیر اعظم کے پاس ریاستی اداروں کی بھی قوت ہے، اور یہ ادارے ابھی اتنے کمزور نہیں ہوئے کہ کوئی پاکستان کو شام اور مصر بنا ڈالے، لیبیا اور عراق کے حشر سے دوچار کر دے۔ میاں صاحب ، تاریخ بنانے کیلئے، تاریخ رقم کرنے کے لئے۔۔ آپ کو جرات دکھانا ہو گی، اگر عمران اور قادری کہتے ہیں کہ پہلی گولی وہ کھائیں گے تو آپ بھی ڈٹ جایئے،  یاجوج ماجوج کے اس لشکر کے سامنے سینہ تان کر ڈٹ جایئے۔

logo4

ریاست کے اندر ریاست کا ایجنڈا رکھنے والوں کو انکے مقاصد میں کامیاب نہ ہونے دیا جائے

بارش اور حکومتی سخت اقدامات کے باوجود ادارہ منہاج القرآن کے پلیٹ فارم پر ڈاکٹر طاہرالقادری کے اعلان کردہ ’’یوم شہداء‘‘ کا رنگ تو جم گیا البتہ منہاج القرآن اور عوامی تحریک کے کارکنوں کے پولیس تھانوں پر بلوئوں‘ تشدد‘ گھیرائو جلائو اور توڑ پھوڑ پر مبنی اقدامات سے تین پولیس اہلکاروں کے جاں بحق ہونے‘ سی پی او سمیت 72 پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے اور اسی طرح 25 پولیس اہلکاروں کو اغواء کرکے ادارہ منہاج القرآن میں یرغمال بنانے کے اقدام سے ڈاکٹر طاہرالقادری کی فسطائی سیاست کا چہرہ ضرور بے نقاب ہو گیا ہے چنانچہ ملک کا ہر دردمند شہری یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ اگر ڈنڈے کے زور پر ریاست کے اندر ریاست بنانے والی اس سیاست کو فروغ دینے کی اجازت دی گئی تو ملک خانہ جنگی کی جانب دھکیل دیا جائیگا۔ اس حوالے سے تقریباً کسی بھی سیاسی اور عوامی حلقے کی جانب سے گھیرائو جلائو اور قتل و غارت گری پر مبنی ڈاکٹر طاہرالقادری کی سیاست کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا جبکہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی جانب سے سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں بدلنے اور اپنے کارکنوں کو جتھہ بند ہو کر پولیس تھانوں پر حملے کرنے کے اعلانات کو عملی جامہ پہنا کر ادارہ منہاج القرآن اور عوامی تحریک کے کارکنوں اور انکی قیادتوں نے جس تخریبی سیاست کی بنیاد رکھی ہے‘ اس کا خمیازہ قوم کو ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچنے کی صورت میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ اس تناظر میں جن قوتوں کی حمایت حاصل ہونے کا تاثر دے کر ڈاکٹر طاہرالقادری اپنی تخریبی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں‘ یہ ان کیلئے بھی لمحۂ فکریہ ہے کہ انکے کندھے پر بندوق رکھ کر طاہرالقادری ملک کی سالمیت کیخلاف کس کے ایجنڈے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ متعلقہ مقتدر قوتیں طاہرالقادری کے حوالے سے نہ صرف اپنے مؤقف کی وضاحت کریں بلکہ انہیں شٹ اپ کال بھی دیں جبکہ گزشتہ روز کے قتل و غارت گری اور گھیرائو جلائو کے واقعات پر قانون و انصاف کی عملداری کا تقاضا بھی بروئے کار لایا جانا ضروری ہے جس کیلئے لاہور ہائیکورٹ کے ان ریمارکس کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ اہلکاروں سے اسلحہ چھیننا کون سا انقلاب ہے۔ اگرچہ طاہرالقادری اور انکے ساتھ ساتھیوں کیخلاف تین پولیس اہلکاروں کے قتل کے الزام میں لاہور اور اوکاڑہ کے مختلف پولیس تھانوں میں مقدمات درج کئے جا چکے ہیں تاہم ایسی تخریبی سیاست کا سختی سے توڑ کرنا ضروری ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کی جانب سے گزشتہ روز یوم شہداء کی اختتامی تقریب میں جو منہاج القرآن سیکرٹیریٹ کے اندر منعقد ہوئی‘ تحریک انصاف‘ مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم متحدہ کے قائدین کی موجودگی میں انقلاب مارچ کے اگلے مرحلے کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت وہ ممکن ہے عمران خان کے حکومت مخالف آزادی مارچ میں شامل ہو کر اسے بھی اپنے حق میں کیش کرانا چاہتے ہونگے۔ تاہم اب عمران خان اور حکومت مخالف دوسری سیاسی جماعتوں کے قائدین کو تعمیری اور تخریبی سیاست میں حدِفاصل قائم کرنا ہو گی اور اگر عمران خان کی حکومت مخالف تحریک تخریبی ایجنڈا رکھنے والے ڈاکٹر طاہرالقادری کے ہاتھوں ٹریپ ہو گئی تو اس سے جمہوریت کے ڈی ٹریک ہونے اور ملک میں جرنیلی آمریت کے مہیب سائے طاری ہونے کی ذمہ داری عمران خان اور طاہرالقادری کی تخریبی سیاست کا حصہ بننے والے دوسرے سیاست دانوں بشمول چودھری برادران پر بھی عائد ہو گی۔ تحریک انصاف کی کورکمیٹی نے گزشتہ روز اپنے اسلام آباد کے اجلاس میں 14 اگست کو ہر صورت آزادی مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے تو تحریک انصاف کے قائدین کو اس مارچ کو تشدد اور تخریب کی سیاست سے دور رکھنے کی حکمت عملی بھی طے کرنی چاہیے۔ حکومت کو بھی اب پہلے جیسی بے تدبیری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے اور تحریک انصاف کو آزادی مارچ کیلئے فری ہینڈ دے دینا چاہیے‘ بصورت دیگر سیاسی تلخی کے کسی ماورائے آئین اقدام پر منتج ہونے کی ذمہ داری سے حکمران جماعت بھی نہیں بچ سکے گی۔ منہاج القرآن اور عوامی تحریک کے ڈنڈا بردار مشتعل کارکنوں کے پولیس تھانوں پر بلوئوں‘ پولیس اہلکاروں اور انکی گاڑیوں پر حملوں کے 9اگست کے واقعات کے پیش نظر صوبائی حکومت نے سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے کل  10 اگست کو لاہور ملتان ہائی وے پر ٹھوکر کے پاس کنٹینر لگا کر لاہور آنیوالی ٹریفک روک دی تھی جبکہ فیصل آباد اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں کریک ڈائون کرکے منہاج القرآن اور عوامی تحریک کے کارکنوں کی وسیع پیمانے پر گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں جس کے باعث یوم شہداء میں شرکت کیلئے عوامی تحریک کے کارکن لاہور پہنچنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب سے لاہور آنیوالی مختلف شاہراہوں پر پولیس اور عوامی تحریک کے کارکنوں میں آنکھ مچولی کا سلسلہ دن بھر جاری رہا اور کچھ کارکن لاہور پہنچنے میں کامیاب بھی ہوئے تاہم یوم شہداء کی اختتامی تقریب کا رنگ نہ جم سکا جس کے پنڈال میں بارش کا پانی جمع ہونے سے کرسیاں اور سٹیج تک نہ لگ سکی چنانچہ ادارہ منہاج القرآن کے جو خواتین و مرد کارکن منہاج القرآن سیکرٹیریٹ میں پہلے سے موجود تھے‘ ڈاکٹر طاہرالقادری سے انہی سے اور بعدازاں میڈیا سے خطاب کرکے دوسری جماعتوں کے قائدین کا یوم شہداء میں شمولیت پر شکریہ ادا کیا اور پھر انقلاب مارچ کے اگلے مرحلے کا اعلان کیاجس کیلئے وہ باتھ روم اور بیڈروم کی سہولت کے ساتھ ایئرکنڈیشنڈ کنٹینر پہلے ہی تیار کرا چکے ہیں۔ گزشتہ روز عوامی تحریک کے کارکنوں نے بھیرہ انٹرچینج پر قبضہ کرکے وہاں تعینات پولیس اہلکاروں پر ہلہ بول دیا تھا جس کے نتیجہ میں ایک پولیس اہلکار موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ لاہور میں عوامی تحریک کے کارکنوں کے بہیمانہ تشدد سے بری طرح زخمی ہونیوالا پولیس کانسٹیبل بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔ بھیرہ میں عوامی تحریک کے مسلح کارکنوں نے پولیس گاڑیوں پر پٹرول بم حملے بھی کئے جس سے 50 پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور دس پولیس گاڑیاں جل کر بھسم ہو گئیں۔ گزشتہ روز لاہور میں منہاج القرآن سیکرٹیریٹ کے اردگرد کا علاقہ بھی میدان جنگ بنا رہا اور منہاج القرآن کے کارکنوں نے 25 پولیس اہلکار اغواء کرکے منہاج القرآن سیکرٹیریٹ میں یرغمال بنالئے۔ اس طرح انہوں نے اپنے قائد ڈاکٹر طاہرالقادری کے 3اگست کے ان احکامات کی پوری طرح تعمیل کی کہ جتھے بند ہو کر پولیس تھانوں پر دھاوے بول دو اور وہاں سے پولیس اہلکاروں کو اٹھا کر منہاج القرآن سیکرٹیریٹ میں لے آئو۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنے 3 اگست کے خطاب میں قصاص کا فلسفہ پیش کرتے ہوئے سانحہ ماڈل ٹائون میں جاں بحق ہونیوالے اپنے 15 کارکنوں کے بدلے 15 پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کا حکم بھی اپنے کارکنوں کیلئے صادر کیا تھا اور بھیرہ انٹرچینج پر حملے میں عوامی تحریک اور منہاج القرآن کے کارکنوں نے دو پولیس اہلکاروں کی جان لے کر اپنے قائد کے اس حکم کی بھی تعمیل کی۔ اس تناظر میں قانون کی نگاہ میں ڈاکٹر طاہرالقادری تین پولیس اہلکاروں کے قتل کے مقدمہ میں مرکزی ملزم نامزد ہونگے جبکہ ملک میں خانہ جنگی کے حالات پیدا کرنے کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے جس کی قانون و آئین کی عملداری میں کسی بھی مہذب معاشرے میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اگرچہ حکومت نے خود بھی بے تدبیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے طاہرالقادری کے اعلان کردہ یوم شہداء سے چار روز قبل ہی پورے پنجاب میں عملاً کرفیو کی صورتحال پیدا کرکے عوامی تحریک اور ادارہ منہاج القرآن کے کارکنوں کو اشتعال انگیز کارروائیوں اور ڈاکٹر طاہرالقادری کو مزید زہر افشانی کا موقع فراہم کیا جس سے شہریوں کو بھی جگہ جگہ لگائے گئے پولیس ناکوں‘ پٹرول پمپ اور سی این جی گیس سٹیشن بند ہونے اور ان اقدامات کی بنیاد پر پبلک ٹرانسپورٹ کے غائب ہونے سے سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تاہم بے تدبیری سے کئے گئے ان حکومتی اقدامات کے ردعمل میں گھیرائو جلائو‘ تشدد‘ توڑ پھوڑ‘ بلوئوں اور قتل و غارت گری کا راستہ اختیار کرنے کی بھی کسی کو قانون قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ حکومت مخالف سیاست دانوں کو تعمیری تنقیدی سیاست کا ضرور حق حاصل ہے‘ جس پر حکومت کو بھی کسی قسم کی قدغن  عائد نہیں کرنی چاہیے اور اپوزیشن کی جانب سے جن غلطیوں‘ کوتاہیوں اور غیرقانونی حکومتی اقدامات کی نشاندہی کی جارہی ہو‘ حکمران جماعت اور اتحاد کو اصلاحی اقدامات اٹھا کر ان غلطیوں کا ازالہ کرنا چاہیے جس سے جمہوریت کی گاڑی ٹریک پر رہ کر استحکام کی منزل حاصل کر سکتی ہے۔ تاہم اگر کوئی حکومت مخالف تحریک کی آڑ میں پورے سسٹم اور ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو تو اسکے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹ کر ہی قانون و آئین کی حکمرانی کو غالب کیا جا سکتا ہے‘ ورنہ کل کو کوئی بھی پریشر گروپ اٹھ کر بندوق اور بارود کے سہارے اور اپنی غنڈہ گردی کی بنیاد پر حکومتی ریاستی اتھارٹی کو غیرموثر بنا سکتا ہے اور اپنی من مرضی کا ایجنڈا مسلط کر سکتا ہے۔ ملک کے موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ سسٹم کو ڈی ٹریک کرنے کا ایجنڈا رکھنے والے عناصر کو کسی صورت انکے مقاصد میں کامیاب نہ ہونے دیا جائے۔ سیاست دانوں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کہ وہ اپنے اقتدار کی خاطر جس ملک میں اپنی سیاسی دکانداری چمکا رہے ہیں‘ اسکی سالمیت کو کوئی گزند نہ پہنچنے دیں۔ اگر خدانخواستہ ملک ہی نہ رہا‘ یا ماضی کی طرح ملک پر طویل عرصے کیلئے جرنیلی آمریت مسلط ہو گئی تو وہ اپنی حریصانہ سیاست کہاں چمکائیں گے۔

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔