ایک پیاری سی غزل

وہ رستے ترک کرتا ھوں وہ منزل چھوڑ دیتا ھوں

جہاں عزت نہیں ملتی وہ محفل چھوڑ دیتا ھوں

کناروں سے اگر میری خودی کو ٹھیس پہنچے تو

بھنور میں ڈوب جاتا ھوں وہ ساحل چھوڑ دیتا ھوں

مجھے مانگے ھوئے سائے ھمیشہ دھوپ لگتے ہیں

میں سورج کے گلے پڑتا ھوں بادل چھوڑ دیتا ھوں

تعلق یوں نہیں رکھتا کبھی رکھا کبھی چھوڑا

جسے میں چھوڑتا ھوں پھر مسلسل چھوڑ دیتا ہوں

گُلوں سے جب نہیں بنتی تو ان سےجنکو نسبت ھو

وہ سارے تتلیاں جگنو عنادل چھوڑ دیتا ھوں

میری چاھت کی در پردہ بھی گر تذلیل کردیں جو

وہ غازے بھول جاتا ھوں وہ کاجل چھوڑ دیتا ھوں

دلِ آذاد نے مجھ کو سدا ہی درد میں رکھا

میں اپنے دل کو پا بندِ سلاسل چھوڑ دیتا ھوں

میری خوابوں سے نفرت کا یہ بزمی اب تو عالم ہے

میں سوتا ہی نہیں آنکھوں کو بوجھل چھوڑ دیتا ہوں

Author: Dr Asif Mahmood Khokhar

Senior eye surgeon with special interest in Vitreoretinal, Oculoplastic, Laser, and Phaco surgeries

Leave a Reply

Be the First to Comment!

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

wpDiscuz