ایک خوبصورت نظم

چاند نگر کے ٹهنڈے لوگ

کل شام کو میں نے دیکھا تھا
ایک تارہ بجهتا بجهتا سا
بے رونق بے چمک
آنکھوں میں حیرانی تهی
عجب سی ویرانی تهی
حیران تھا دنیا والوں سے
ظلم کی جہاں فراوانی تهی
اس کی نگری اس کے لوگ
چاند نگر کے ٹهنڈے لوگ
خون کے آنسو روتا تھا
جب اوپر سے نیچے تکتا تھا
رات ڈهلتی رہی …..
چاند جلتا رہا …..
نہ جانے کب تلک وہ تنہا
وہاں روتا رہا
کل شام کو میں نے دیکھا تھا
اک تارہ جلتا بجهتا سا

سنبل

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.