ایک بہت اہم مسئلہ

ہمارے اردگرد بہت سے واقعات ایسے ہیں جو کہ خواتین کے متعلق ہیں اور وقتا فوقتا بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں ، ان میں سے اکثر سوالات عورت کے شادی کے بعد کے سسرال میں مسائل کے متعلق ہوتے ہیں اور یہ سب کیسز ہمارے اردگرد بکھرے پڑے ہیں ، ان میں سب سے بڑا مسئلہ خاتون کو شادی کے بعد ساس سسر اور نندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر مرد کا باہر چلے جانا ہے ، اور یہ اب اتنا عام ہو چکا ہے کہ کسی کو کوئی عیب ہی نہیں دکھتا ،
یاد رکھے کہ لڑکی شادی مرد سے ہوتی ہے اس کے والدین یا بہنوں یا دیور سے نہیں ، اپنے گھر والوں کی خدمت کرنا مرد کا فرض ہے اگر اپ کی بیوی یہ کام کرتی ہے تو یہ بونس ہے ورنہ نہ تو آپ اس کو مجبور کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس کے فرائض میں شامل ہے ، مشرقی روایات اور اسلام کے نام پر ہونے والا یہ مکروہ کام اب بند ہو جانا چاہئے ، عورت بھی ایک جیتی جاگتا انسان ہے کوئی بھیڑ بکری نہیں کہ وہ اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ ساتھ ایک گھر کے تمام باشندوں کے نخرے اور خدمات برداشت کرے ۔ خاوند کو چاہئے کہ وہ شادی کے بعد اس کو فورا اپنے ساتھ باہرلے جائے یا کم ازکم اپنے والدین کی رضامندی سے شادی بھی اس ملک میں کرے چاہے وہ پاکستانی فیملی ہویا کوئی اور ، یہی اسلامی طریقہ ہے ۔ اور بہت سی برائیوں سے بھی بچت ہو جاتی ہے ۔
ناصرف بیرون ملک رہنے والے لوگ بلکہ پاکستان میں ہی رہنے والی فیملیوں میں بھی نو بیاہتا عورت ایک نوکرانی سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی جس کو فیملی کر ہر فرد کو خوش کرنے کی ذمہ داری دی جاتی ہے ۔ یاد رکھیں کہ اپنی فیملی کی خدمت کرنا خاوند ہی کی ذمہ داری ہے چاہے وہ اکیلا ہو یا شادی شدہ ، وہ کسی بھی طرح اپنی بیوی کو اپنی فیملی کی خدمات پر مجبور نہیں کر سکتا ، لیکن اگر اسکی بیوی یہ کام کر رہی ہے تو اس کو شکر ادا چاہئے ناکہ نارمل حالات سمجھنا چاہئے ۔۔۔!!
(ماخوذ)

Author: Dr Asif Mahmood Khokhar

Senior eye surgeon with special interest in Vitreoretinal, Oculoplastic, Laser, and Phaco surgeries

Leave a Reply

Be the First to Comment!

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

  Subscribe  
Notify of