ایک اہم سوال اور جواب

سوال:
اگر کوئی اب پوری نمازیں پڑھتا ہو لیکن اسے ماضی میں چھوٹنے والی نمازوں کا افسوس ہو اور اس کا ضمیر مطمئن نہ ہو حالانکہ اس نے سچے دل سے معافی مانگی ہو تو کیا اس کو اپنی نمازیں پوری کرنے کیلئے کچھ کرنا ہوگا؟ یا اللہ پچھلے گناہوں کو معاف فرما دے گا؟
جواب:
توبہ سے پہلے کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ صرف حقوق العباد کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔ پرانی نمازیں، پرانے روزے، وغیرہ وغیرہ اللہ تعالی اس طرح کا حساب نہیں کرتا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب انسان سچے دل سے اور احساس ندامت کے ساتھ توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالی اتنی بات سے ہی اتنا زیادہ خوش ہوجاتا ہے کہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے اس کی خوشی اتنی زیادہ ہوتی ہے ایک ماں کی خوشی سے ستر گنا زیادہ ہوتی ہے۔ بلکہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایسے جیسے آج ہی پیدا ہوا ہے یعنی کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہیں۔ حقوق العباد بھی وہ ادا کرنے ہیں جن کی ادائیگی کی استطاعت ہو۔ بہت سے ماضی کے وہ گناہ جو چھپے ہوئے ہوں ان کو ظاہر کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ جب اللہ نے پردہ ڈال دیا ہے تو پردہ ڈلا رہنے دیں بس اللہ سے معافی مانگتے رہیں اور آئندہ سچے دل سے نیت کرتے رہیں کہ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کرنی۔ وہ عورت جو حضور ﷺ کے پاس آئی تھی کہ مجھ سے گناہ ہو گیا ہے مجھے پاک کر دیجئے۔ اس سے زنا ہو گیا تھا۔ اس کو بھی بار بار ترغیب دی کہ خاموش رہو توبہ کرو اور اللہ سے معافی مانگو آئندہ اس برائی سے بچو۔ جب وہ بار بار آئی اور سزا کا مطالبہ کرتی رہی تب جا کر اس کو سزا دی۔

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.