اگر آپ والدین ہیں تو اسے ضرور غور سے پڑھیں 

گھر کیلئے بھی ویسا ہی ایک دستور اور قانون ہو
جیسے کسی ریاست یا ملک کیلئے ہوتا ہے۔
——————————–

والدین ہرگز ہرگز اس بات کے انتظار میں نا رہیں کہ تربیت گاہیں اپنے فرائض پورے کر کے ان کی اولاد کو اچھا شہری بنائیں، انہیں خود اس ذمہ داری کو پورا کرنا ہوگا کہ انفرادی طور پر اپنے بچوں کو معاشرے کا ذمہ دار فرد بنائیں۔

کیا ہی اچھا ہو کہ والدین گھروں میں ہی کچھ ایسے ہلکے پھلکے قانون بنا دیں جن پر عمل کر کے بچوں کے کردار میں پختگی آئے اور ان میں احساس ذمہ داری پیدا ہو۔

ذیل میں چند لوائح العمل درج کئے گئے ہیں، والدین کو ان میں جو مناسب لگیں وہ اختیار کرلیں یا ان میں ترمیم و اضافہ کر لیں۔

  1.  گھر کا ہر فرد نماز کو اس کے وقت پر ادا کرے گا۔
  2.  “برائے مہربانی” اور “شکریہ” کے کلمات بنیادی ضوابط ہونگے جن سے کوئی بھی بری نہیں ہوگا
  3.  کوئی “مار پٹائی”، کوئی “گالم گلوچ” یا کوئی بھی “لعن طعن” والی ایسی بات نہیں ہوگی جس سے بدذوقی کا احساس ہو۔
  4. اپنے محسوسات اور خیالات کو ادب و احترام اور وضاحت کے ساتھ بتا دیجیئے۔
  5. جو کوئی بھی جس جس چیز کو (دروازہ، کھڑکی، ڈبہ، پلیٹ) کھولے گا اُسے بند بھی کرے گا، کچھ گر جائے تو اُسے اٹھائے گا اور جگہ کو اُس سے زیادہ صاف کر کے رکھے گا جیسے پہلے تھی۔
  6. آپ کا کمرہ خالص آپ کی ذمہ داری ہے۔
  7. جو کوئی بات کرے گا اُسے ٹوکے بغیر سنی جائے گی اور بات کو درمیان میں سے کوئی نہیں کاٹے گا۔
  8. گھر یں داخل اور جارج ہوتے ہوئے سلام کرنا ہوگا۔
  9. گھر کا ہر فرد روزانہ قرآن مجید سے ایک حزب کی تلاوت کرے گا۔
  10. جو ہم سے ملنے آئے وہ ہمارے قوانین کا احترام کرے۔
  11. گھر کا کوئی بھی فرد اپنے کمروں میں جا کر کچھ نہیں کھائے گا۔
  12. رات کو (00:00) کے بعد کوئی بھی نہیں جاگے گا۔
  13. سمارٹ فون اور ڈیوائسز صرف (00:00) سے لیکر (00:00) کے درمیان میں استعمال کی جا سکتی ہیں۔
  14. والدین کیلیئے احتراما کھڑا ہونا، اُن کے سر پر بوسہ دینا یا اُن کے ہاتھ چومنا ضروری شمار ہوگا۔
  15. مل کر بیٹھے وقت میں کسی قسم کی مواصلاتی ڈیوائس (فون/پیڈ) کا استعمال منع ہوگا۔
  16. کھانے پینے کے وقت میں سب کی حاضری اور شمولیت ضروری ہوگی۔
  17. رات کو (00:00) کے بعد کسی قسم کی تعلیمی سرگرمی کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
  18. گھر کے سارے افراد گھر اور گھر میں موجود ہر شئے کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔
  19. اپنا کام ہر کوئی خود کرے گا، کوئی کسی دوسرے پر حکم نہیں جھاڑے گا ہاں مگر گھر کے سربراہان اپنا کام کسی کو کہہ سکتے ہیں۔
  20. خاندان اور اُس کی ضروریات کسی بھی دوسری ضرورت پر مقدم اور پہلے کی جانے والی شمار ہونگی۔
  21. کوئی بھی کسی کے کمرے یا علیحدگی والی جگہ پر درزاہ کھٹکھٹائے یا اس کی اجازت کے بضیر داخل نہیں ہوگا۔

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.