امریکا کی رینڈ کارپوریشن کی تاریخی رپورٹ کا خلاصہ

امریکا کی ’رینڈ کارپوریشن‘ (Rand Corporation) نے ایک پتے کی بات کہہ دی ہے۔ یہ بات اُمت کے مفکرین، مدبّرین اور حکمت سازوں کے کہنے کی تھی۔ بات یہ ہے کہ اِس امریکی فکرگاہ(Think Tank) نے صلیبی حکمت سازوں کی رہنمائی کے لیے ہماری اُمتِ موجود میں چاراقسام کے طبقات کی نشان دِہی کی ہے۔ اُن صلیبی حکمت سازوں کے لیے جو صرف عالم اسلام میں ’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘ لڑ رہے ہیں۔Rand Corporation کی رپورٹ کا لب لباب حسب ذیل ہے:

  1. پہلی قسم اُن خواتین وحضرات پر مشتمل ہے جو کاغذات اور دستاویزات پر مذہب کے خانے میں اپنے آپ کو’مسلمان‘ لکھوا کر فارغ ہوگئے۔ باقی ہر لحاظ سے وہ ’سیکولر‘ ہیں۔ (نوٹ کیجیے کہ ان مغربی حکمت سازوں نے بھی بھی ’سیکولر‘ کا لفظ ’مسلم‘ کی ضد کے طور پر استعما ل کیا ہے) پس ایسے خواتین و حضرات سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔
  2. دوسری قسم اُن مسلمانوں کی ہے جن کو فقط اپنے نماز روزے سے غرض ہے۔ اُن کی بس اتنی سی تمنّاہے کہ۔۔۔ مُلّا کو ’رہے‘ ہند میں سجدے کی اِجازت۔۔۔ سو اُنھیں اجازت ہے۔ایسے لوگوں سے بھیکسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ۔یہ’ وسعتِ افلاک میں تکبیر مسلسل‘ برپا کردینے کی بجائے بیٹھے۔۔۔’ خاک کی آغوش میں تسبیح و مناجات‘ ۔۔۔ کرتے رہنا چاہتے ہیں۔یہ۔۔۔’فقط اﷲ ہُو، اﷲ ہُو، اﷲ ہُو‘۔۔۔ پر راضی ہیں۔
  3. تیسرا طبقہ عُلمائے کرام اور ائمۂ عظام کا ہے۔ یہ پنج وقتہ نمازوں کی امامت کرتے ہیں۔ وقتاً فوقتاً عوام الناس میں قرآن و حدیث کی درس وتدریس بھی کرتے ہیں۔ سال میں دوبار عیدین کے موقع پر اور ہفتہ میں ایک بار جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہیں۔ ان پُر ہجوم اجتماعات کو جلسۂ عام کہیے، سیمینار کہیے، سمپوزیم کہیے، کانفرنس کہیے یا تربیتی کورس۔مگراِن میں شرکت کے لیے کسی دعوت نامے کی حاجت ہوتی ہے، نہ کسی پاس کی ضرورت پڑتی ہے۔ اِن اجتماعات کے انعقاد کے لیے پیشگی اعلانات کیے جاتے ہیں،نہ کوئی پوسٹر لگایاجاتاہے، نہ جابجا بینرباندھے جاتے ہیں۔ پھر بھی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اِن پروگراموں میں شرکت کے لیے وقت کی پابندی کی جاتی ہے۔تمام شرکاء نہا دھوکر، نئے یا صاف ستھرے کپڑے پہن کر، ٹوپی اوڑھ کر، خوشبو لگاکر اور بسا اوقات اپنے بچوں کی اُنگلی تھام کر از خود کچے دھاگے سے بندھے چلے آتے ہیں۔بعض مساجد اور عیدگاہوں میں خواتین کی شرکت کا بھی اہتمام ہوتاہے۔یہ طبقہ خاصا خطرناک ہے مگر فی الوقت اتنا خطرناک نہیں، جتنا آئندہ ہوسکتاہے۔ اگراِس طبقے کو اپنی طاقت واہمیت کااِدراک ہوجائے اور یہ فقط ’دورکعت کے اِمام‘ بنے رہنے کے بجائے پورے دین کا علم حاصل کرکے ’قوم کی امامت‘ کے منصب پر فائز ہوجائیں تو اُمت کی ایک معتدبہ تعداد جو دِن میں پانچ بار اِن کی قیادت سے استفادہ کرتی ہے، ان کے پیچھے پیچھے چل پڑے گی۔ یہ انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔
  4. چوتھا اور سب سے خطرناک طبقہ اُن مسلم اسکالرز اوراُن اہلِ علم کا ہے جو اِسلام کے ’مکمل نظامِ زندگی‘ ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہی لوگ ’پولیٹیکل اسلام‘ کے علم بردار ہیں۔یہ لوگ اسلام کی اُن تعلیمات کو جن کاعدل اجتماعی اور نظم معاشرہ سے تعلق ہے، اپنے معاشرے میں نافذ اور غالب کرنا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کا یہی طبقہ سیکولراِزم کا دشمن نمبر ایک ہے۔

ہماری جنگ فقط اِن آخری دو طبقات سے ہے۔ ان کو ختم کیے بغیر یہ (صلیبی) جنگ نہیں جیتی جاسکتی

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.