اللہ کی آیات

بگ بینگ کے بعد کائنات میں پیدا ہونے والا ہائیڈروجن کا سادەترین عنصر تھا۔ بعد میں اس سے ستارے بنے تو ان کی روشنی اور گرمی کو قائم رکھنے کے لئے ہائیڈروجن کے عناصر سے ہیلیم کے عناصر معرض وجود میں آۓ، پھر سیاروں کو بنانے کے لئے ستاروں کی مزید فیکٹریاں قائم کی گئیں تاکہ مزید بھاری عناصر بناۓ جائیں۔ اور انہی میں کاربن کے ایٹم کا بننا ناگزیر تھا تا کہ نباتات اور حیوانات بن سکیں۔ کاربن ایٹم ہیلیم (Helium) کے تین ایٹموں کی شراکت (Fusion) سے بنتے ہیں۔ سائنس دان حیران ہیں کہ اگر ہیلیم اور کاربن کے عناصر کے باہمی امتزاج(Mutual Resonance) میں ذرە برابر بھی فرق ہوتا تو کاربن نہ بن سکتی اور اگر کاربن نہ ہوتی تو یہ دنیا نہ ہوتی۔

کیا ہائیڈروجن کا فیصلہ تھا یا ہیلیم کا اپنا فیصلہ تھا؟ یا ہیلیم اور کاربن کی مشترکہ منصوبہ بندی تھی کہ کائنات کو ایک خاص ڈیزاین کے مطابق بنائیں جس سے آگے چل کر جمادات؟ نباتات اور حیوانات بن سکیں؟ اور پھر حضرت انسان پیدا ہوا کے ان رازوں سے پردە اٹھاۓ۔

پھر بھی کوئی خدا نہیں؟

سورج فضا میں ایک مقرر راستہ پر پچھلے پانچ ارب سال سے چھ سو میل فی سیکنڈ کی رفتار سے مسلسل بھاگا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کا خاندان ، ٩ سیارے ،27 چاند اور لاکھوں میڑائٹ( Meteorite) کا قافلہ اسی رفتار سے جا رہا ہےکبھی نہیں ہوا کہ تھک کر کوئی پیچھے رە جاۓ یا غلطی سے کوئی اِدھر اُدھر ہو جاۓ۔ سب اپنی اپنی راە پر اپنے اپنے پروگرام کے مطابق نہایت تابعداری سے چلے جا رہے ہیں۔
اب بھی اگر کوئی کہے چلتے ہیں لیکن چلانے والا کوئی نہیں ، ڈیزاین ہے، لیکن ذیزائنر نہیں ، قانون ہے، لیکن قانون کو نافذ کرنے والا نہیں کنٹرول ہے،لیکن کنٹرولر نہیں بس یہ سب ایک حادثہ ہے۔ اسے آپ کیا کہیں گے؟
چاند تین لاکھ ستر ہزار میل دور زمین پر سمندروں کے اربوںکھربوں ٹن پانیوں کو ہر روز دو دفعہ مدو جزر سے ہلاتا رہتا ہے تا کہ ان میں بسنے والی مخلوق کے لۓ ہوا سے مناسب مقدار میں آکسیجن کا انتظام ہوتا رہے ، پانی صاف ہوتا رہے ،اس میں تعفن پیدا نہ ہو۔ ساحلی علاقوں کی صفائی ہوتی رہے اور غلاظتیں بہہ کر گہرے پانیوں میں چلتی جائیں۔
یہی نہیں بلکہ سمندروں کا پانی ایک خاص مقدار میں کھارا ہے۔ پچھلے تین ارب سال سے نہ زیادە نہ کم نمکین بلکہ ایک مناسب توازن برقرار رکھے ہوۓ ہے تاکہ اس میں چھوٹے بڑے سب آبی جانور آسانی سے تیر سکیں اور مرنے کے بعد ان کی لاشوں سے بُو نہ پھیلے۔انہی میں کھاری اور میٹھے پانی کی نہریں بھی ساتھ ساتھ بہتی ہیں ۔ سطح زمین کے نیچے بھی میٹھے پانی کے سمندر ہیں جو کھارے پانی کے کھلے سمندروں سے ملے ہو ۓ ہیں۔ سب کے درمیان ایک غیب پردە ہے تاکہ میٹھا پانی میٹھا رہے اور کھارا پانی کھارا۔
اس حیران کن انتظام کے پیچھے کون سی عقل ہے ؟ اس توازن کو کون برقرار رکھے ہوۓ ہے ؟

کیا پانی کی اپنی سوچ تھی یا چاند کا فیصلہ؟

ساڑھے چودە سو سال پہلے جب جدید سائنس ک کوئی وجود نہیں تھا۔عرب کے صحرازدە ملک میں جہاں کوئی سکول اور کالج نہیں تھا، ایک آدمی اُٹھ کے سورج اور چاند کے بارے کہتا ہے کہ یہ سب ایک حساب کے پابند ہیں ۔ ” واشمس والقمر بحسبان” (سورە الرحمٰن آیت ۵)
سمندروں کی گہرائیوں کے متعلق بتاتا ہے کہ “بینھما برزخ لا یبغیٰن ” ان کے درمیان برزخ (Barrier) ہے جو قابو میں رکھے ہوۓ ہے ” ۔ (سورۃ الرحمٰن آیت ٢٠)
جب ستاروں کو اپنی جگہ لٹکے ہوۓ چراغ کہا جاتا تھا وە کہتا ہے ” وکل فی فلک یسبحون” یعنی سب کے سب اپنی مدار پر تیر رہے ہیں ( سورە یٰسین آیت ۴٠)

جب سورج کو ساکن تصور کیا جاتا تھا وە کہتا ہے ” والشمس تجری لمستقرلھا” یعنی سورج اپنے لئے مقررشدە راستے پر کسی انجانی منزل کی طرف ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے ۔ ( سورە یٰسین آیت ٣٨)
جب کائنات کو ایک جامد آسمان (چھت) کو کہا جاتا تھا وە کہتا ہے یہ پھیل رہی ہے” وانا لموسعون ” (سورە الذریات، آیت ۴٧)
وە نباتات اور حیوانی زندگی کے بارے میں بتاتا ہے کہ ان سب کی بنیاد پانی ہے۔ البرٹ آئن سٹائن اپنی دریافت “قوانین قدرت اٹل ہیں” پر جدید سائنس کا بانی کہلاتا ہے لیکن اس نے بہت پہلے بتایا” ماتری فی خلق الرحمٰن من تقٰوت” تم رحمٰن کی تخلیق میں کسی جگہ فرق نہیں پاوٴ گے۔ ( سورە الملک آیت ٣)

جدید سائنس کی ان قابلِ فخر دریافتوں پر ساڑھے چودە سو سال پہلے پردە اٹھانے والا کس یونیورسٹی سے پڑھا تھا؟ کس لیبارٹی میں کام کرتا تھا؟ کیا اس کے پیچھے کوئی خدائی عقل تھی یا یہ بھی صرف حادثہ ؟

نومولود بچے کو کون سمجھاتا ہے کہ بھوک کے وقت رو کر ماں کی توجہ اپنی طرف مبذول کراۓ؟ ماں کو کون حوصلہ دیتا ہے کہ ہر خطرے کے سامنے سینہ سپر ہو کر بچے کو بچاۓ۔ ایک معمولی سی چڑیا شاہیں سے مقابلہ پر اتر آتی ہے،یہ حوصلہ اسے کس نے دیا ؟ مرغی کے بچے انڈے سے نکلتے ہی چلنے لگتے ہیں، حیوانات کے بچے بغیر سکھاۓماوٴں کی طرف دودھ کے لۓ لپکتے ہیں، انہیں یہ سب کچھ کون سکھاتا ہے؟ جانوروں کے دلوں میں کون محبت ڈال دیتا ہے کہ اپنی چونچوں میں خوراک لا کر اپنے بچوں کے مونہوں میں ڈالیں ؟ یہ آدابِ زندگی انہوں نے کہاں سے سیکھے؟

پھر بھی یہی لگتا ہے اس کے پیچھے خدانہیں بس خود بخود ارتقاٴ (Evolution) ہوتا جا رہا ہے؟

شہد کی مکھیاں دور دراز باغوں میں ایک ایک پھول سے رس چوس چوس کر انتہائی ایمانداری سے لا کر چھتے میں جمع کرتی جاتی ہیں ۔ ان میں سے ایک ماہر سائنسدان کی طرح جانتی ہے کہ کچھ پھول زہریلے ہیں، ان کے پاس نہیں جاتی،ایک قابل انجینئر کی طرح شہد اور موم کو علیحدە علیحدە کرنے کا فن بھی جانتی ہے۔جب گرمی ہوتی ہے تو شہد کو پھگل کر بہہ جانے سے بچانے کیلۓ اپنی پروں کی حرکت سے پنکھا چلا کر ٹھنڈا بھی کرتی ہے،موم سے ایسا گھر بناتی ہے جسے دیکھ کر بڑے سے بڑا آرکیٹیکٹ بھی حیرت زدە ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں ایسے منظم طریقے سے کام کرتی ہیں کہ مثال نہیں، ہر ایک میں ایسا راڈار نظام نسب ہے کہ وە دور دور نکل جاتی ہیں لیکن اپنے گھر ک راستہ نہیں بھولتیں۔ انیں زندگی کے یہ طریقے کس نے سکھاۓ ؟انہیں یہ عقل کس نے دی؟ پھر بھی کہتے ہو۔

کچھ نہیں ،بس ایک حادثہ ؟ صرف خود بخود ارتقا کا عملٴ!

مکڑا اپنے منہ کے لعاب سے شکار پکڑنے کے ایسا جال بناتا ہے کہ جدید ٹیکسٹائل انجینئر بھی اس بناوٹ کا ایسا نفیس دھاگا بنانے سے قاصر ہیں۔
گھریلو چیونٹی (Ant) گرمیوں میں جاڑے کے لئے خوراک جمع کرتی ہے،اپنے بچوں کے لئے گھر بناتی ہے، ایک ایسی تنظی سے رہتی ہے جہاں نظامت کے تمام اصول حیران کن حد تک کارفرما ہیں۔
ٹھنڈے پانیوں میں رہنے والی مچھلیاں اپنے انڈے اپنے وطن سے ہزاروں میل دور گرم پانیوں میں دیتی ہیں لیکن ان سے نکلنے والے بچے جوان ہو کر ماں کے وطن خودبخود پہنچ جاتے ہیں ، نباتات کی زندگی کا سائیکل بھی کم حیران کن نہیں، جراثیم اور بیکٹیریا کیسے کروڑوں سالوں سے اپنی بقا کو قائم رکھے ہوۓ ہیں؟
زندگی کے گر انہیں کس نے سکھاۓ؟ معاشرتی نظامت کے یہ حصول انہیں کس نے پڑھاۓ؟

پھر بھی کوئی خدا نہیں؟

کیا زمین اس قدر عقل مند ہے کہ اس نے بھی خودبخود لیل و نہار کا نظام قائم کر لیا، خود بخود ہی اپنے محور پر 67-1/2 ڈگری جھک گئی تا کہ سارا سال موسم بدلتے رہیں کبھی بہار ، کبھی گرمی، کبھی سردی اور کبھی خزاں تا کہ اس پر بسنے والوں کو ہر طرح ک سبزیاں ، پھل اور خوراک سارا سال ملتی رہیں؟
زمین نے اپنے اندر شمالًا جنوبًا ایک طاقتور مقناطیسی نظام بھی خودبخود ہی قائم کر لیا۔ تا کہ اس کے اثر کی وجہ سے بادلوں میں بجلیاں کڑکیں جو ہوا کی نائٹروجن کو نائٹرس آکسائڈ(Nitrous Oxide) میں بدل کر بارش کے ذریعے زمین پر پودوں کیلۓ قدرتی کھاد مہیا کریں، سمندروں پر چلنے والے بحری جہاز آبدوز (Submarine) اور ہواوٴں میں اڑنے والے طیارے اس مقناطیس کی مدد سے اپنا راستہ پائیں، آسمانوں سے آنے والی مہلک شعائیں اس مقناطیسیچھت سے ٹکرا کر واپس پلٹ جائیں تاکہ زمینی مخلوق ان کے مہلک اثرات سے محفوظ رہے اور زندگی جاری رہے۔

کیا اس سب کے پیچھے کوئی ہاتھ نہیں، کوئی عقل نہیں، کوئی ڈیزائن نہیں؟ یا یہ بھی زمین کی اپنی سوچ تھی؟

زمین ،سورج،ہواوٴں،پہاڑوں اور میدانوں نے مل کر سمندر کے ساتھ سمجھوتا کر لیا کہ سورج کی گرمی سے آبی بخارات اٹھیں گے،ہوائیں اربوں ٹن پانی کو اپنے دوش پر اٹھا کر پہاڑوں اور میدانوں تک لائیں گی،ستاروں سے آنے والے ریڈیائی ذرے بادلوں میں موجود پانی کو اکٹھا کر کے قطروں کی شکل دیں گے اور پھر یہ پانی میٹھا بن کر خشک میدانوں کو سیراب کرنے کے لۓ برسے گا،جب سردیوں میں پانی کی کم ضرورت ہوگی تو یہ پہاڑوں پر برف کے ذخیرے کی صورت میں جمع ہوتا جاۓ گا، گرمیوں میں جب زیاە پانی کی ضرورت ہوگی تو یہ پگھل کر ندی نالوں اور دریاوٴں کی صورت میں میدانوں کو سیراب کرتے ہوۓ واپس سمندر تک پہنچ جاۓ گا۔ ایک ایسا شاندار متوازن نظام جو سب کو سیراب کرتا ہے اور کچھ بھی ضائع نہیں ہوتا۔

کیا یہ بھی ستاروں ۔ ہوا اور زمین کی اپنی باہمی سوچ تھی؟

کیا ہماری اپنی زندگی بھی ایک حادثہ ہے؟ ہمارے Pancreas ( لبلبے) خون میں شوگر کی ایک خاص مقدار کو بڑھنے نہیں دیتے ، دل کا پمپ ہر منٹ ستر اسی دفعہ بغیر آرام بلا تھکان خون پمپ کرتا رہتا ہے ایک ٧۵ سالہ زندگی میں بلا مرمت (Maintenance) تقریبًا تین ارب بار دھڑکتا ہے۔ ہمارے گردے (Kidneys) صفائی کی بےمثل اور عجیب فیکٹری ہے جو جانتی ہے کہ خون میں جسم کیلۓ جو مفید ہےوە رکھ لینا ہے فضلات کو باہر پھینک دینا ہے۔ معدە حیران کن کیمیکل کمپلیکس (Chemical Complex) ہے جو خوراک سے زندگی بخش اجزا مثلًا پروٹین ،کاربوہائیڈریٹ وغیرە کو علیحدە کرکے خون کے حوالہ کر دیتا ہے اور فضلات کو باہر نکال دیتا ہے۔

انسانی جسم میں انجینئرنگ کے یہ شاہکار، سائنس کے یہ بے مثل نمونے، چھوٹے سے پیٹ میں یہ لاجواب فیکٹریاں ، کیا یہ سب کچھ یوں ہی بن گۓ تھے؟
نہ کوئی ڈیزائنر(Designer) ، نہ کوئی بنانے والا (Maker) ، نہ کوئی چلانے والا (Oprator)، بس ایک خود بخودہونے والا عمل ارتقاٴ؟

دماغ کو کس نے بنایا؟ مضبوط ہڈیوں کے خول میں بند ، پانی میں یہ تیرتا ہوا عقل کا خزانہ، معلومات کا سٹور،احکامات کا مرکز، انسان اور اس کے ماحول کے درمیان رابطہ کا ذریعہ ، ایک ایسا کمپیوٹر کہ انسان اس کی بناوٹ اور ڈیزائن کو ابھی تک سمجھ نہیں پایا، لاکھ کوششوں کے باوجود انسانی ہاتھ اور ذہن کا بنایا ہوا کوئی سپر کمپیوٹر بھی اس عشر عشیر تک نہیں پہنچ سکتا۔
ہر انسان کھربوں خلیات(Cell) کا مجموعہ ہے اتنے چھوٹے کہ خوردبین کی مدد کے بغیر نظر نہیں آتے،لیکن سب کے سب جانتے ہیں انہیں کیا کرنا ہے۔ یوں انسان کا ہر ایک خلیہ شعور رکھتا ہے اور اپنے وجود میں مکمل شخصیت ہے ۔ ان جینز میں ہماری پوری قسمت تحریر ہے اور زندگی اس بند پروگرام کے مطابق خودبخود کھلتی رہتی ہے۔ ہماری زندگی کا پورا ریکارڈ، ہماری شخصیت ہماری عقل و دانش ، غرض ہمارا سب کچھ پہلے ہی سے ان خلیات پر لکھا جا چکا ہے۔

یہ کس کی لکھائی ہے؟

حیونات ہوں یا نباتات ، ان کے بیج کے اندر ان کا پورا نقشہ بند ہے، یہ کس کی نقشہ بندی ہے؟
خوردبین سے بھی مشکل سے نظر آنے والا سیل( Cell) ایک مضبوط توانا عقل و ہوش والا انسان بن جاتا ہے۔ یہ کس کی بناوٹ ہے ؟
ہونٹ، زبان، اور تالو کے اجزا کو سینکڑوں انداز میں حرکت دینا کس نے سکھایا؟
ان حرکات سے طرح طرح کی عقل مند آوازیں کون پیدا کرتا ہے؟
ان آوازوں کو معنی کون دیتا ہے؟
لاکھوں الفاظ اور ہزاروں زبانوں کا خالق کون ہے؟
کوئی بھی نہیں بس ایک حادثہ ہے؟
محض خود بخود رونما ہونے والا  ارتقا کا عملٴ ہے؟

لا الہٰ الا الله
کوئی خدا نہیں مگر الله تعالٰی
پہلی اور آخری حقیقت
The Ultimate Truth