الفاظ تو یقیناً سخت ہیں جن میں متفق نہیں ہوں لیکن بیان کردہ حقائق پر ضرور غور کریں، بہت تلخ حقائق ہیں

اصل مضمون کیلئے یہاں کلک کریں

خان صاحب یہ ملعون بھی سلمان رُشدی سے کم بد بخت تو نہیں

فاروق درویش

ٹھیک ایک برس پہلے کی بات ہے کہ عمران خان صاحب نے امت اسلامیہ اور پاکستان کا سر اس وقت فخر سے بلند کر دیا تھا. جب انہوں نے بھارت میں ہونے والی ایککانفرنس میں شرکت سے صرف اس لئے انکار کر دیا تھا کہ جس کانفرنس میں ملعون گستاخ رسالت برطانوی مصنف سلمان رشدی شریک ہو گا وہ اس میں شرکت ہر گز نہیں کر سکتے۔ یاد رہے کہ عمران خان کو انڈیا ٹوڈے نامی جریدے کے زیر اہتمام انڈیا کونکلیو ٹوڈے فورم میں سب سے آخر میں کلیدی خطاب کرنا تھا مگرجب انہیں یہ پتہ چلا کہ اس کانفرنس میں ملعون سلمان رشدی بھی خطاب کرے گا تو صد آفرین انہوں نےغیرت ایمانی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی شرکت منسوخ کردی تھی۔ یہ انہیں دنوں کی بات ہے جب وہ لندن میں الطاف حسین کے خلاف مقدمات کھولنے، اس کے مکروہ عزائم کا پردا فاش کرنے اور پاکستانی سیاست سے لوٹا کریسی اور کرپشن کا کلچر ختم کرنے کیلئے انتہائی پرعزم تھے۔ لیکن ایک برس بیتنے کے بعد جہاں salman1الطاف حسین جیسے دہشت گرد مافیہ کیخلاف ان کی جہد اور لوٹے اور کرپشن کنگز کو اپنی جماعت میں شامل نہ کرنے کا جذبہ ٹھنڈا ہو کر “یوٹرن” بنا، وہیں ان کی دینی غیرت کے حوالے سے بھی اس وقت سوال ابھرنا شروع ہوئے جب ان کے سیاسی جلسوں میں انقلاب اور نیا پاکستان کا نعرہ لگانے والے مشہور سنگر ملعون سلمان احمد کی طرف سے توہین اسلام اور گستاخیء قرآن کی ویڈیوز منظر عام پر آئیں۔ حکومت پاکستان کی طرف سے بین کی گئی یو ٹیوب، دوسری انٹر نیٹ سائٹس، سوشل میڈیا اور فیس بک پر عام ان مصدقہ ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ان کی دوست ایک مغربی خاتون دین اسلام اور قرآن حکیم کا انتہائی قابل اعتراض انداز میں مذاق اور تمسخر اڑاتی ہے۔ جس پر اسکا ننگ اسلام دوست، مشہورمیوزیکل بینڈ جنون کا گویا ملعون سلمان احمد یہ کہ رہا ہے کہ” مجھے بڑا عجیب لگتا ہے کہ جب کوئی مسلمان یہ کہتا ہے کہ اسلام ایک امن کا دین ہے ، میرے نزدیک ( ملعون سلمان احمد کے نزدیک) تو اسلام ایک سیکسی دین ہے” نعوذباللہ من ذالک۔ پھر یہ قصہ اسی توہین اسلام و قرآن پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کے بعد اسی ننگ اسلام سلمان رشدی جونیئرکی طرف سے قرآنی آیات کی گٹار کے ساتھ تلاوت کر کے مسلمانوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچائی جاتی ہے۔ لیکن انتہائی افسوس امر ہے کہ عمران خان اپنے جلسوں میں اس ملعون گستاخ قرآن کے میوزک شوز کے ذریعے نئے پاکستان کا پیغام دیتے ہیں۔ مگر تحریک انصاف کی مسلمان قیادت اور ورکرز پراسرار خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ دل آزاری کی بات یہ ہے کہ عوام کی شدید تنقید اور سخت مذمت کے باوجود پھر یہی گستاخ قرآن و اسلام  23 مارچ کے جلسے میں بھی عمران کے ساتھ  میوزک شو کرنے کیلئے سٹیج پر موجود ہوتا ہے۔  جو اس بات کا اشارہ  ہے کہ عمران خان نے توہین قرآن کے اس  مجرم کیخلاف قوم و ملت کا احتجاج  مسترد یا نظر انداز کر دیا ہے۔ شاید عمران خان  بھی  حصول اقتدار کیلئے لبرل اور روشن خیال لیڈر کا لبادہ اوڑھنے کو بہتر سیاسی حکمت عملی سمجھتے ہیں۔ شاید ان لبرل سیاست دانوں کا نیا پاکستان یہی امریکی برانڈ ” کافر پاکستان” ہے

 اس حوالے سے میرا دیرینہ موقف ہے کہ وہ محترم عمران خان صاحب کی طرف سے ملعون  سلمان احمد جیسے نمائیندگان دہر کی توہین قرآن پرخاموشی اور تحریک انصاف کے جلسوں میں اس کی شرکت کا قابل مذمت معاملہ ہو یا مسلم لیگ نون کے ایم این اے ایاز امیر کی طرف سے فتنہء قادیانیت کیخلاف آئین کی اسلامی دفعات ختم کر کے ان کو قادیانیت کی دجالی تبلیغ، مسلمانوں کی طرح مساجد بنانے کی اجازت دینے کی بات ہو۔ وہ الطاف حسین کی طرف سے قادیانوں کو مسلمانوں جیسا قرار دینے کا شیطانی بیان ہو یا میاں نواز شریف کی طرف سے “قادیانی بھی ہمارے بھائی ہیں” جیسا خلاف قرآن و اسلام بیان ہو۔ ان تمام مکروہ شگوفوں کی اصل وجہ ہم لوگوں کی حد سے زیادہ شخصیت پرستی،”صرف میرا لیڈر زندہ باد”، ” میرے لیڈر کو سب کچھ معاف” اور” میرا لیڈر نہایا دھویا گھوڑا” جیسی احمقانہ جذباتی روش ہے۔ قابل غور ہے کہ کیا کبھی تحریک انصاف کے کسی انقلابی کارکن نے اپنی مرکزی قیادت سے یہ استفسار کیا کہ ملعون سلمان احمد جیسا گستاخ اسلام، گستاخ قرآن تحریک انصاف کے جلسوں میں کیوں شریک ہوتا ہے۔ کیا نون لیگ کے کسی سیاسی ورکر نے میاں نواز شریف صاحب سے یہ سوال کیا کہ آپ نے گستاخین قرآن و رسالت زندیق قادیانیوں کو ” ہمارے بھائی ” کہہ کر قرآنی احکامات اور اسلامی نظریات کی خلاف ورزی اور کھلی توہین کیوں کی اور ایک بدترین گستاخ رسالت  بال ٹھاکری  ہندوآتہ ایجنٹ عاصمہ جہانگیر کا نام نگران وزیر اعظم کیلئے کیوں تجویذ کیا۔ کیا متحدہ قومی موومنٹ کا کوئی ایک سیاسی کارکن ایسا ہے جس نے پیر آف لندن شریف الطاف حسین کی طرف سے بارہا قادیانیت نوازبیانات کی مذمت کی ہو؟ صد افسوس کے قاف لیگ کے کسی سیاسی بچونگڑے نے چوہدری شجاعت کی محفل مجرہ پرتنقید نہیں کی اور نہ کبھی کسی جیالے نے بلاول بھٹو زرداری کی لندن برانڈ پلے بوائے لائف اور شرمیلا فاروقی کے جنسی سکینڈلز کی مذمت میں کوئی جملہ کہا۔ تمام سیاسی جماعتوں کے جذباتی ورکروں سے معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ غیر جانبداری اور ایمانداری سے دیکھا جائے تو تمام سیاست دانوں کے پرستاروں کی اپنے اپنے سیاسی قائدین کے متنازعہ خلافِ اسلام بیانات اور غیر اسلامی اقدامات پر صرف خاموشی یا ان کا انتہائی ڈھٹائی سے احمقانہ دفاع ہی سیاست دانوں کے مسخرانہ اقوال و افعال اور ملک و ملت کے نظریات و مفادات کیخلاف بے لگام پالیسیوں کی اصل وجہ ہے۔ بلاشبہ ڈھٹائی اور جہالت پر مبنی ہماری یہ بری ” سیاسی عادت ” شدید مذمت کے قابل ہے۔

salman2

کیا سیاست دانوں کا مذہب صرف حصول اقتدار یا طوالت اقتدار ہے؟ صد افسوس کہ ہمارے سیاست دانوں کا دجالی یقین ہے کہ حصول اقتدار کیلئے سب سے پہلے امریکی سامراج اور مغربی بادشاہ گروں کا پسندیدہ روشن خیال کردار اور لبرل طرز سیاست اپنانا ضروری  ہے۔ صد افسوس کہ ہمارے تمام سیاست دان ایک اللہ سے نہیں، امریکی سامراج اور مغربی تاجداروں سے خائف ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ مہاتیر محمد نے امریکی خوشنودی اور مغربی روشن خیالی کے مظاہرے سے نہیں ملک دوستی اور انتھک محنت سے اپنی قوم کو اقوام عالم میں حقیقی ترقی پذیر ممالک کی صف میں عزت دار مقام دلوایا ہے۔ کیا امریکی غلامی کو حصول اقتدار کا اصل ذریعہ و طاقت سمجھنے والوں کیلئے انجہانی ہوگو شاویز کی زندہ مثال کافی نہیں۔ امریکی خوشنودی اور ڈالروں کیلئے کوشاں سیاست دان بتائیں کہ کیا حسنی مبارک کے قوم فروشی سے کمائے گئے اسی ارب ڈالرز عالم برزخ کے بینکوں میں منتقل ہو پائیں گے۔ برادران وطن آئیے آج ایک عہد کریں۔ خواہ ہمارا سیاسی تعلق مسلم لیگ قاف سے ہے یا نون سے۔ ہم الطاف حسین کے پرستار ہیں یا باچا خان کے پیروکار، ہم عمران خان کو اپنا نجات دہندہ مانتے ہیں یا زرداری ہمارا محبوب لیڈر ہے۔ ہم اپنے یا کسی بھی رہنما کے غیر اسلامی اور ملک دشمن قول و فعل کے خلاف بھرپور آواز اٹھاتے رہیں گے کہ یہی زندہ قوموں کی نشانی اور سیاست دانوں کی اصلاح کا بہترین طریق ہے۔ یاد رکھیں کہ ہماری ملی اور دینی غیرت زندہ رہی تو عاصمہ جہانگیر جیسے بال ٹھاکری کردار، جیم جیو کے گھوڑے پہ سوار ننگِ پاکستان شہزاد رائے جیسے مسخرے اور مشرف کی روشن خیالی یا تحریک انصاف کے سونامی میں تیرتے ملعون سلمان احمد جیسے سب ننگ آدم ،ڈوم میراثی ہمیشہ ناکام و نامراد ٹھہریں گے ۔۔ فاروق درویش

salman3

ذیل میں ملعون سلمان احمد کی توہین اسلام و قرآن کے ویڈیو لنکس دئے جا رہے ہیں، دیکھنے کیلئے لنک پر کلک کیجیے

سلمان خان اپنے دوستوں کے ساتھ اسلام اور قرآن کا مذاق اڑا رہا ہے

قرآنی آیات کو گٹار کے ساتھ تلاوت کرتے ہوئے

Author: Dr Asif Mahmood Khokhar

Senior eye surgeon with special interest in Vitreoretinal, Oculoplastic, Laser, and Phaco surgeries

Leave a Reply

Be the First to Comment!

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

  Subscribe  
Notify of