اس واقعہ کے بعد کنفیوژن دور ہو جاتی ہے

تحریر  مولانا طلحہ السیف
یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس آئے ہوئے تھے۔ کافی حد تک غامدیت زدہ تھے۔ کھل کر بات چیت ہوئی اور بہت مثبت رہی الحمدللہ۔
ایک بھائی نے کہا
“اتنی بات ضرور مانئے کہ آج کے نوجوان طبقے کی بہت سی کنفیوژنز ایسی تھیں جو علماء دور نہیں کرسکے تھے، غامدی صاحب نے دور کیں”
عرض کیا کہ یہ بات بالکل تسلیم ہے لیکن انہوں نے کنفیوزن کس طرح دور کی یہ سن لیجئے۔
ایک سکھ ڈاکٹر کے پاس ایک خاتون کو لایا گیا جو شدید درد سے کراہ رہی تھی۔ ڈاکٹر نے پوچھا کیا ہوا ہے ؟
خاتون بولی گردے میں شدید درد ہے جان نکل رہی ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے کہا۔
مائی زیادہ نہ چلا
ریح بادی کا درد ہے عورتوں کے جسم میں گردے ہوتے ہی نہیں ہیں!!
مائی کی کنفیوزن دور ہوگئی اور درد بھی جاتا رہا۔
بس یہی کام کیا ہے غامدی صاحب نے۔
آپ کے طبقے کو دین کا جو کام مشکل لگا اور کنفیوزن ہونے لگی انہوں نے کہا پریشان مت ہوئیے یہ دین میں ہے ہی نہیں!
اب یہ کام کوئی عالم تو کرنے سے رہا۔۔۔۔جہاد، غیرت، بغض فی اللہ سب دین سے نکال دئیے ،کفر کا وجود ہی ختم کردیا، موسیقی حلال کردی، اختلاط مرد و زن پر سے قدغن ہٹادی، مصافحہ جائز کردیا حتی کہ آپ کو رمضان کی راتوں میں تراویح مشکل لگتی تھی وہ بھی نکال دی۔ اور بھی جہاں جہاں کنفیوزن ہو رابطہ کرلیجئے وہ اسے بھی اسلام کے جسم سے نکال دیں گے۔
وہ ہنستے ہوئے چلے گئے۔ابھی انکا میسج آیا
“حضرت ابھی تک ہنسی رک نہیں رہی”

Author: Dr Asif Mahmood Khokhar

Senior eye surgeon with special interest in Vitreoretinal, Oculoplastic, Laser, and Phaco surgeries

Leave a Reply

Be the First to Comment!

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

  Subscribe  
Notify of