اسرائیل کی ایک اچھی بات!

پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر بچے کیلئے جہاں یہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ اپنے دشمنوں خصوصا انڈیا اور اسرائیل کو پہچانے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ ان اسباب کو بھی جانے کہ جن کی وجہ سے وہ ترقی کرتے جا رہے ہیں اور ہم ترقی معکوس کر رہے ہیں۔

اگر آپ اسرائیل کی آبادی دیکھیں تو وہ 8 ملین کے قریب ھے، یعنی پنجاب کے شہر فیصل آباد جتنی آبادی۔
پھر بھی اسرائیل دنیا کا طاقتور ترین ملک کیسے بن گیا۔ اس کے بہت سے اسباب ہیں لیکن ایک ایسا سبب ہے جس کو دیکھ کر ہمارے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ اخبارات میں شائع ہونے والی ایک چھوٹی سی خبر پر غور کریں۔

خبر کے مطابق اسرائیل کے موجودہ وزیراعظم نتن یاھو کے خلاف آج سے 9 ماہ پہلے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کو کرپشن کی شکایات موصول ہوئیں۔ خفیہ ایجنسی اتنی بااختیار ھے کہ اس نے فوری نوٹس لے کر نتن یاھو کے خلاف تحقیقات شروع کردیں۔ یہ معاملہ آج سے کئی سال قبل کا تھا جب نتن یاھو وزیر خزانہ ہوا کرتا تھا اور اس وقت اسرائیل نے فرانس سے آبدوز خریدی تھیں۔ الزامات کے مطابق نتین یاھو نے اس سودے میں ایک ملین یوروز رشوت لے کر مہنگے داموں سودا کیا تھا۔

پچھلے ہفتے جب اس کے خلاف ابتدائی تحقیقات مکمل ہوگئیں اور رپورٹ اسرائیل کے اٹارنی جنرل کو ارسال ہوئی تو اس نے معاملے کا جائزہ لینے کے بعد آج پولیس کو حکم دیا کے وہ موجودہ وزیراعظم کے خلاف کرپشن کا مقدمہ درج کرکے اگلے چند روز کے اندر اندر اسے تحقیقات کیلئے تھانے بلائے۔

اٹارنی جنرل کا یہ اقدام اسرائیل میں بالکل نارمل انداز میں لیا گیا، کسی نے یہ نہیں کہا کہ وہ جمہوریت کو نقصان پہنچانا چاہتا ھے، نتین یاھو نے اسمبلی میں کھڑے ہوکر یہ نہیں کہا کہ یہ رقم تو اس نے فلاں فیکٹری بیچ کر اکٹھی کی تھی، وہاں کوئی فضل الرحمان نہیں تھا جس نے یہ بیان دیا ھو کہ آبدوز کا معاملہ مسلمانوں کی سازش ھے، وہاں کوئی زرداری نہیں تھا جو اس معاملے کی آڑ لے کر اپنے کام سیدھے کروانے آگیا، وہاں کوئی اور نہیں تھا جس نے اٹارنی جنرل کو یہ کہا ھو کہ نتن یاھو کے خلاف تحقیقات کرنے سے پہلے 1947 سے لے کر اب تک سب کا احتساب کیا جائے، وہاں کی سپریم کورٹ نے یہ نہیں کہا کہ فرانس سے رشوت لینے کی خبر جس اخبار میں چھپی تھی، اس میں تو پکوڑے بکتے ہیں۔

یہ فرق ھے ایک یہودی ریاست اور ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا۔ اسرائیل اس سے پہلے بھی اپنے سابق وزرائے اعظم کو کرپشن پر جیل بھجوا چکا ھے اور یہ اس کے لئے نئی بات نہیں۔

دوسری طرف پاکستان میں آج تک کسی حکمران کو کبھی کرپشن پر سزا نہیں ہوئی، حالانکہ ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات سب نے لگائے۔

آج کے مسلمان اور یہودی میں اوپر بیان کیا گیا فرق یہ بتانے کیلئے کافی ھے کہ ہمیں جوتیاں کیوں پڑ رہی ہیں اور یہودی دنیا کے حکمران کیسے بن بیٹھے ہیں۔

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.