ابولہب کی تلاش

اشتہار گُمشُدگی۔ اصلی ابُو لہب کی تلاش :

جب سے سورۂ ابو لہب پر غور کیا مُجھے کبھی آئینے میں ابو لہب نظر آتا ہے کبھی اپنے دوستوں میں۔ میں گھبرا کر مسجد کا رُخ کرتا ہوں تو ممبر اور صفوں میں ہر طرف ابُو لہب نظر آتے ہیں۔
میری گلیوں شہروں ، حکوتی و فوجی اداروں اور عدالتوں میں مُجھے ہر طرف ایک ہی چہرہ نظر آتا ہے۔ آگ برساتا عقل اور تدبیر سے عاری جزبات اور احساس برتری سے سے بھرا ابُو لہب۔.
مُجھے ان سب میں سے اُس ابُو لہب کی تلاش ہے جسکے بارے میں قُرآن کی سورۂ ابو لہب ہے۔ مولوی صاحب نے بتایا بھائی کسے ڈھونڈتے ہو ابُو لہب تو مُحمدﷺ کا چچا عبدُل عُزا تھا جسے اُس کے رویّے کی وجہ سے ابُو لہب یعنی شُعلوں کا باپ کہا جاتا تھا وہ تو چودہ سو سال پہلے مر کھپ گیا تھا۔
میں نے عرض کی مولانا کیا جیسے سورہ ابُو لہب میں ذکر ہے اُس کے ہاتھ ٹُوٹیں گے کیا اُس کے ہاتھ ٹُوٹے تھے۔ مولانا نے فرمایا نہیں بھئی یہ حقیقت میں نہیں مجازی طور پر ہونا تھا یعنی تباہی اُسکا مُقدّر تھی۔
میں نے مولانا سے سوال کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ ابُو لہب کا ذکر کرنے میں بھی مجازی طور پر میرا اور اور آپکا ذکر ہو اگر ہاتھ ٹُوٹنا مجازی معنوں میں لیا جانا چاہیے تو اُس حقیقی عبدُل عُزا کا ہی کیوں سوچا جائے جو صدیوں پہلے مر کھپ گیا۔
مولانا کے امام اور امام کے اُستاد نے چونکہ اپنی تفسیروں میں صدیوں پہلے عبدُل عُزا کو ہی آخری اور حتمی ابُو لہب لکھ دیا تھا لہٰذا مولانا تو نہیں مانے میں نے سوچا آئینہ آپکی خدمت میں پیش کروں۔
کہیں آپ بھی آگ کے باپ تو نہیں۔ کہیں آپ بھی عبدُل عُزا کی طرح ضدّی اور انا پرست تو نہیں۔ کہیں اُسکی طرح آپ بھی مُخالف نظریے کے لوگوں کی نفرت میں اندھے تو نہیں ہو جاتے۔ کہیں آپ کے بھی دل دماغ آنکھ کان اور عقل پر مُہر تو نہیں لگی۔ کیا دلیل آپ پر بھی تو بے اثر نہی ہو گئی۔ اگر آپ میں یہ سب نشانیاں ہیں تو آپ ہی اصلی گُمشدہ ابُو لہب ہیں.
مُجھے آپکو ڈھونڈ کر بس یہ بتانا تھا کہ سورہ ابُو لہب کے مُطابق آپکے ہاتھ ٹُوٹیں گے۔ آپکا مال اولاد آپکے کام نہ آئیں گے۔ یہ جو آپکے اندر انا ، غُصہ ، فرقہ ورانہ نفرت ، حسد اور بُغض کی آگ بھری ہے اس سورہ کے مُطابق آپ ہی کے گلے کا طوق بنے گی۔
قُرآن بعض اوقات بظاہر کسی خاص قوم یا افراد سے مُخاطب ہوتا ہے جیسے بنی اسرائیل ، نصارا، ابُو لہب یا قُریش وغیرہ۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ جب یہ آیات آپ کے لیے ہیں ہی نہیں تو آپ کیوں انہیں تلاوت کرتے ہیں جبکہ نہ ابُو لہب زندہ ہے اور نہ کوئی قُریشی اب غیر مُسلم ہے۔ بنی اسرائیل نصارا، ابُو لہب یا مُشرک قُریش کولکھے جانے والے کھُلے خط مُجھے کیوں دیے گئے۔ ایک تو یہ بات ہے کہ اُن تک یا اُن جیسوں تک یہ خطوط مُجھے پہنچانے ہیں لیکن یہ خط کھُلے اس لیے چھوڑے گئے کہ میں آگے پُہچانے سے پہلے ان خطُوط کے آئینے میں خود کو دیکھ لوں۔
بنی اسرائیل کو پیغام دینے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لوں کہیں اُنکی سب سے بڑی بُرائیاں یعنی قوم پرستی اور نسلی تفاخُر مُجھ میں تو نہیں۔
کسی بھی قوم کے بارے میں جو آیات قُرآن میں ہیں وہ ہمارا آئینہ اور ایمان کی چھلنیاں ہیں۔ آئیے اُن چھلنیوں سے گُزر کر دیکھیں۔ منقول

Author: Dr Asif Mahmood Khokhar

Senior eye surgeon with special interest in Vitreoretinal, Oculoplastic, Laser, and Phaco surgeries

Leave a Reply

Be the First to Comment!

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

  Subscribe  
Notify of