میں مسلم ہوں

“میں مسلم ہوں”

میں مسلم ہوں —اسلام کے ٹھیکیدار سُن

میں مسلم ہوں —اسلام کے ٹھیکیدار سُن

—————————————–

میں ہی نے تسکیں دی جواں مسلم کو

میں ہی نے توجیہ دی جواں خاطر کو

میں ہی نے اُسے ناچ سکھایا میں ہی نے اس گانا بخشا

میں نے اس عاشق بنایا

میں نے اس دل کو چُرانا بخشا

———————————————-

میں نے خوشی بخشی، سنجیدگیسے جان چھڑائی اس کی

میں نے زندگی بخشی، سوزوجنوں سےجان چھڑائی اس کی

ہنسو، کھیلو، بنو خوب جوان!!!

کھیلو ، کودو، گاٶ، اور زندگی انجام کرو

پھر خوب کماٶ اونچے محلات کے مالک بنو

ماں باپ کو سکوں بخشو خود بھی پاؤ اطمینان

بڑھو، پھَلو، پڑھو اور اونچا خانوادے کا نام کرو

پھر اسلام کا اونچا نام کرو ولی بنو سالک بنو

————————————————-

میں نے دُخترِ حرم کو لہر دی، موج دی، ادا دی

پھر اس کی آرائش کی، زمانے کی زیبائش کی اور جھجھک اس کی اُڑا دی

میں نے اس کے سر کا بوجھ ہلکا کیا

پھر “مزدور و دہقاں” کے سامنے اس کے فن کا مظاہرہ کیا 

پھر میں نے عیش و تعیّشات کے ریکارڈ بنائے

خوب ان کو محظوظ کیا خوب اُنھوں نے حسیں انداز اپنائے

———————————————–

میں ہی نے مسلماں کو آزادی بخشی

تقلید سے بچا بچا کے تجدید کی آزادی بخشی

میں ہی نے اُس کو “اُستاد کا احترام” سکھایا

میں ہی نے اُنھیں “داعیانِ اسلام” کا پیغام سکھایا

میں نے مسلمان کی نفسیات سمجھی، ضرورت دیکھی، حاجت پرکھی

اُس کو فلموں کا انبار دیا، پرنٹ دیے، غفلت بخشی

میں نے احترام اسلامیت کی انتہا کر دی

میں نے استقلال دینیت میں بجلی کی ادا بھر دی

—————————————–

میں نے حق سکھایا

بنیادوں کو چھپا چھپا کے چوٹی کا نظارہ ہر نگاہ تلک پہنچایا

کیا یہی دیں نہیں؟

مسلماں کا خیرخواہ مقربِ الہی نہیں؟

ترقی و تجدید کا تحفہ دینے والا

کیا اُس کا ہمدردِ واقعی نہیں؟

——————————————–

جو حرکت دے اور جمود و یقین کو چلتا کرے

کیا وہی اِس کا خیرخواہ وہی اِس کا حامی نہیں؟

—————————————–

میں مسلم ہوں —اسلام کے ٹھیکیدار سُن

میں مسلم ہوں —اسلام کے ٹھیکیدار سُن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر آصف کھوکھر

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔