شہیدِعشق

طلسم خیال میرے سامنے رقصاں تھا—

اور میں اک طوفاں میں گھرا ہوا تھا —

قدم قدم اُکھڑ رہا تھا

سانس پھولی ہوئی تھی—اور میں چِلا رہا تھا

ذرہ ذرہ—ورق ورق— میرا مایۂ خیال

اور گلے کا پھندا بنا ہوا تھا —میرا ماضی میرا حال

مستقبل کی سوچوں میں گُمُ

اَن ہونے خدشات میں گمُ سمُ

مصروف ِ جہد تھا—بہت سرگرم تھا

ناکامیوں مایوسیوں کے سامنے بڑا ہٹ دھرم تھا

فقط اک موہوم سا گماں میرے سامنے

خیال ِ جاناں عشق ِ بتاں میرے سامنے

عجب فراڈ عجب کہا نیاں گھڑی ہوئی

یہ مذ ہبیت یہ وقت کا زیاں میرے سامنے

فقط اک مولویوں کا جال ہے سب کچھ

معصوم جوانوں کو بد معاش بنانے کے لئے

یہ تقدیس یہ داستانیں اک سرُاب ہے سب کچُھ

سفید مخملیں چادریں داغدار بنانے کیلئے

زندگی—بہار ِ پرُ فضا—خیال ِ روح پرور

اور موت—ظالم، قاتل—قابل ِ نفرت منظر

——————

یکا یک ا ِک نعش میرے سا منے آ کر گر ی

اور غم و اندوہ — شور و فغاں کی آ ندھی چلنے لگی

میرا دل ڈوبنے لگا

اور معصوم کے قاتلوں کو کو سنے لگا

میں نے ٹٹو لنا شروع کر دیا

اپنا ہاتھ—اپنا پا ؤ ں—ڈھو نڈنا شروع کر دیا

ہا ئے یہ جان ِ عزیز

کہیں خیال ِ مو ہوم ہو کے نہ رہ جا ئے

میرا پیارا سر ما یہ —میرا پیارا مستقبل

میرا گھر مجھُ سے محروم نہ ہو کے رہ جا ئے

—————

سنُ اے جان کے متوا لے—اے عزّت والے

بھنورا دوسرے جہان سے بول رہا تھا

“جان سنبھال کے رکھ—مستقبل خوب بنا لے”

جنازہ مجھے خوب جھنجھوڑ رہا تھا—

ہے اک وقت معین موت کا

اُس وقت تھا مجھے مرنا سو مر گیا

مگر دلِ پُر سکوں کا سرما یۂ فخر و ناز

وہ قدم بوسی کا مرحلہ یہ نقد ِ عزّ و اعزاز

یہ خما ر ِ عشق کا سرور—یہ چشم ِ رشک پرور کا غرور

نعمت ِ عظمٰی—یہ بادہ و مینا—یہ مقدس لہو

یہ لیلٰیٔ تصور—یہ میری شراب ِ طہور

تھا نصیب جس کا اُسے مل گیا

ہاں وہ جسد ِ خا کی وہ وہیں جل گیا

ہزار متو الوں پہ ہے اعزاز مرا

حادثۂ شعلہ و فسا نۂ تگ و تاز مرا

عر صۂ حیات ہے اِک روشن نشاں مرا

محفوظ تمام حسر توں سے ہے جہا ں مرا

اور وہ بھنورے بھی مر گئے ہیں

وقت ِ مرگ سسک سسک گئے ہیں

———–

کاش اُ نھیں بھی کو ئی یاد کرنے والا ہو تا

یا اِک لمحہ ہی جینے کا اور مِل گیا ہوتا

ڈاکٹر آصف کھوکھر

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔