شہشاہِ آس

 

 

شہنشاہِ آس

یہ سب کیا ہے؟

میں سمجھ نہیں سکا

اِک جَمّ غفیر میں بھی

 سکوں مجھے کیوں مل نہیں سکا

یہی تو وہ اِجتماع تھا۔۔۔۔

جسے میں ابھی تک بھلا نہیں سکا

آیا تھا خوشیوں کا اِک طوفاں

جسے ابھی تک بند لگا نہیں سکا

آج بھی وُہی سماں تھا

مگر سکوں آخر کہاں تھا؟

ہر اِک چیز کیوں کھانے لگی؟

ساری محفل سُونی کیوں نظر آنے لگی؟

میں تو بہت خوش بیٹھا تھا

اچانک تنہائی کہاں سے مل گئی

بہت دیر ہوئی یہ تو بچھڑ چکی تھی

آج پھر اِسے خدائی کہاں سے مل گئی

میں جدھر دیکھتا ہوں

ہر چیز کھانے کو دوڑتی ہے

اگر میں اِحساس کم بھی کردوں

وہ ڈنک میری ہی طرف موڑتی ہے

میں نے پہلے تو کبھی ایسا محسوس نہیں کیا

اِعتماد نے مجھے اِتنا تو کبھی مایوس نہیں کیا

آج یہ اچانک اِس کو کیا ہو گیا

میرا سارا ہی شعور آخر کہاں کھو گیا

شعور ہی تو تھا میرے پاس

وہی تو میرے سر ہو گیا

میں پھر اُدھر گیا تھا

جیسے میرا کوئی ساتھی بچھڑ گیا تھا

ہاں شاید یہی بات تھی

اِسی لئے تو اچانک موڈ سرد ہو گیا تھا

میں نے دیکھا اچانک ہر ایک طرف

بہت جمگھٹا مجھے دیکھ رہا تھا

بہت جوڑوں اور گروپوں کے عین درمیان

میں اکیلا ہی اُسے دیکھ رہا تھا

ہر کوئی متحیّر ہو کے مجھے کہنے لگا

تجھے کیا ہو گیا کیوں تو تنہا رہنے لگا

میں نے کہا، نہیں میں تو ہمیشہ کی طرح

اپنے ہی سہارے پہ کھڑا ہوں

میں کوئی ڈوب تو نہیں رہا

میں تو بالکل کنارے پہ کھڑا ہوں

اِسی اثنا میں ایک دندناتی ہوئی لہر جو آئی

میں نے دیکھا بیچ منجدھار میں غوطے کھا رہا ہوں

نہ کوئی یار، نہ مددگار، نہ ساتھی، نہ غمخوار

اِک تنہا تنکے کی طرح ہچکولوں کی زد میں آ رہا ہوں

کوئی مقصد نہیں۔۔ کوئی منزل ہیں

اِک آوارہ بے وُقعت کوئی قیمت ہی نہیں

میں نے شور مچا دیا

اِک تہلکہ بپا کر دیا

مگر کہاں

سوچ ہے جہاں

اُس نے پھر اُلٹا جواب دیا

ایک ہی جھٹکے میں چُکا سارا حساب  دیا

میں نے دوڑ کے جام پکڑا

گھونٹ کیا نہ اِحترام پکڑا

کُچھ جان پڑی مگر پھر

وہ سامنے کھڑا تھا

ہر ایک سے بے نیاز بس

مجھے ہی تک رہا تھا

میں جھیپتا، بچتا، بچاتا

کسی کو اُدھر پھنساتا ۔۔۔ کسی کو اِدھر اُلجھاتا

کمرے میں آ گھُسا اور بیٹھ گیا

نہ پھر بھی جان پڑی تو لیٹ گیا

تنہائی کا سانپ مجھے پھر ڈسنے لگا

میں نے اُٹھ کے جواب دینا چاہا

مگر دھڑام سے نیچے آ رہا

جب سانس بھی نہ آنے پائی

تو پھر کہیں سے آواز آئی

او۔۔ او۔۔ تُو کیا ہے؟

تُو تو بالکل ہی تنہا ہے

میں سخت اُداس ہوں ابھی بھی

کسی کے لئے محوِِ تلاش ہوں ابھی بھی

اندر کا اضطراب بہل جائے تو

میں بتاؤں کہ شہنشاہِ آس ہوں ابھی بھی

ڈاکٹر آصف کھوکھر

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔