جواب

جواب

مجھے بھی کہا گیا تھا

کچھ دیر میں بھی سجدہ ریز ہوا تھا

کیا کہوں کیا تھا وہ

اک نظارۂ کوہ قاف تھا اک طلسم ہوشربا تھا

آزادی تھی انجام کی فکر نہ تھی

بدی تھی اور بدی کے نام کی فکر نہ تھی

خوب سرور تھا

جسم و ذہن ناصبور تھا

پھڑکتی تھی جاں میری زباں میری

سنورتی تھی “جاں” میری “زباں” میری

اک ولولۂ نو تھا جذبۂ مستقل تھا

وہ شہرۂ عشق تھا کہ قہر جاں پر تھا

مجھے ہر وقت “خیال” رہتا تھا

اور پھر بھی میں “مسلمان” رہتا تھا

مجھے “سیٹ” کی امید بھی تھی

اور سیاست سے گریز بھی میسر تھا

وہ عیش وطرب کی سبیل بھی تھی

اور حسیں نظاروں کا پیمانۂ لبریز بھی میسر تھا

—————————————–

مجھے عزت بھی ملی اور عظمت سے شناسائی بھی ہوئی

مگر لگی لپٹی نہ کیوں رکھی؟اور حقیقت نمائی نہ کیوں کی؟

میرے دل کا اضطراب میرے دل کا فسوں؟ تو کیا جانے

میرے اصول کا انتشار میرے عزائم کا خوں؟ تو کیا جانے

———————————————-

وہ قدم قدم پہ تیرے آستاں پہ آ گرنا

پھر تجھ سے التجا ئیں کرنا اور بالآخر بے تحاشہ رو پڑنا

وہ ذمہ داری کا احساس وہ فرض کی کو تاہی

وہ زحمتِ بے وسواس وہ حق کی نا خواہی

افسوس— تیرے فدائیوں کا قاتل تھا میں؟

تحقیق و جستجو کا منتہا، اختیارات کا حامل تھا میں

میرے حقیر کندھوں پہ تیرے دشمن سوار تھے

تیری تحریک کے سامنے بلند سدِّ فاصل تھا میں؟

——————————————–

خدا رحم کرے مجھ پر—خدا نے رحم کیا مجھ پر

خدا عفو کرے مجھ پر — خدا نے کرم کیا مجھ پر

جنوں کے قدموں پہ گرا دیا اور درِ حرم وا کیا مجھ پر

—————————————————-

یہ بادِ نسیم کے جھونکے یہ مُشکیں خوشمگیں ہوائیں

یہ دبیز سبزے کی چادریں یہ خوش کُن خوش نظر فضائیں

یہ معمور سی مخمور سی صدائیں یہ محجوب سی ادائیں

یہ فطری خوہشیں یہ فطری انجام اُن کے

یہ قدرتی حرکتیں یہ نیک سی کوششیں

یہ مستقل لگن لگن یہ میٹھی چبھن چبھن

یہ مایوس کُن حالتیں یہ عجب عجب اعتراض اُن کے

یہ پُر رس جدوجہد یہ مقصد آور رنجشیں

یہ ہر وقت کا قُربِ موت یہ ہر وقت دلِ مطمئن

فرائض کا انبار ہو اور تعیشات بےمثال ہوں

عشقِ نامدار ہو اور مصروفیات بے شمار ہوں

اِک اِک لمحہ قیمتی اک اک وقفہ عارضی

جو بھی اُٹھے قدم اُٹھے طرفِ کم مائیگی

اور اک خزینۂ خانہ دار ہو

جس میں چمکتے ہوئے گوہر انبار در انبار ہوں

اک خزینۂ نو بہار ہو

جس میں لمبے چوڑے اشجار ہوں

—————————————

الہی مجھے بھی مستقل کر عظیم کر ندیم کر

اک شمع بے مثل کر سعید کر شہید کر

لُٹا دوں اپنی جاں بھی قُرب بھی شباب بھی

اک خوں سے جلتی مشعل کر نعیم کر تقسیم کر

پھر ولولے میں وہ جان بھر جذبے میں وہ جنوں کر

رواں دواں سی مثل کر نظیر کر تمثیل کر

——————————————-

مجھے جاں ہے دی تو لے بھی لے

مجھے آن ہے دی تو وقف بھی کر

مجھے نوع کا اپنی درد دے

مجھے ملت کا اپنی پھر مقدر کر   

ڈاکٹر آصف کھوکھر

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔