اضطراب کے سنگ

اضطراب کے سنگ

میرے دیس کے ساتھیو

میرے دوستو میرے بھائیو

بہت اندھیرا ہے

آٶ روشنی کر دیں

بجھے ہوئے ارمانوں میں پھر زندگی بھر دیں

کیوں نہ ہمیں بہار میسر آ جائے؟

اک بار پھر جزبۂ فرہاد میسر آ جائے

بہت لُوٹ چکے

اس دنیا کے رہبر

اب نئے دور چلیں

بلند کرو دوستو نعرۂ اللہ اکبر

جام و سبو پکڑ اور مے انڈیل

ذرا اٹھ تو سہی ذرا آنکھ تو کھول

دن کا اجالا اور سحر کا نور

کیا تیرا آئیڈیل تو نہ تھا؟

محبتیں اور چاہتیں چھا گئیں کو بکو

میرے دل کا یہی تو پہلوئے مضمحل تو نہ تھا؟

میرے دوستو

رہزنوں سے نہ بے خبر رہو

اک عجب اصول روا ہے

زمانے نے دل شکنی کا ہی صلہ دیا ہے

مگر بے لاگ ہو کر

کردارِ بےداغ لے کر

عزمِ بلند اور دلِ بے قرار لے کر

یکسوئی سے سب سے بے نیاز ہو کر

ہر کسی کے تار و پود کرید کرید کر

علمِ بے پایاں سے مسلح ہو کر

رستہ بناتے چلو

فضائے بسیط پر غالب آ جاٶ

یہاں تمحارا ہی راج ہے

میرے دیس کے ساتھیو

میں نے بہت ہی غور کیا

میں کیا کرون؟

کدھر جاٶں؟

جاٶں یا نہ جاٶں؟

اندھیرا ہی اندھیرا ہے

کسی طرف ظلمتوں کا دور ہے

کہیں روشن سویرا ہے

کہیں تفریق کے دریا بہتے ہیں

اور من و تو ہی کا ڈیرا ہے

میں نے بھی سب کو دیکھا تھا

جانچا تھا پرکھا تھا

اور پھر نظر کو چھپا کے بیٹھ گیا تھا

مگر پھر ہوش آیا

خود کو میں نے تلاش کیا

اک ولولۂ پُر کرب ملا

اضطراب سے شناسائی ہوئی

رستۂ پُر حرب ملا

میں نے ذرا غور کیا

یہ میرے اندر کی ایک حقیقت تھی

جو آنکھ کھول کے دیکھا

طلبہ کی اسلامی جمعیت تھی

 

 

 

ڈاکٹر آصف کھوکھر

 

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.