آج 31 اگست 2014 کا نوائے وقت کا یادگار اداریہ

nawaiwaqt_newspaper

آج 31 اگست 2014 کا نوائے وقت کا یادگار اداریہ

عمران خان اور طاہرالقادری نے 14 اگست کو اپنے الگ الگ پروگراموں کے تحت آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کا آغازکرکے جس انداز میں اپنے اپنے ووٹروں کو بیک وقت اسلام آباد پہنچایا اور پھر زیرو پوائنٹ پر دھرنا دینے کے بعد اپنے ضامن سیاسی قائدین کو کرائی گئی یقین دہانیوں اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کے باوجود ایک ہی وقت میں اپنے اپنے دھرنوں کو ریڈزون میں داخل کرکے پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے پہنچایا‘ اس سے قوم کو بخوبی اندازہ ہو رہا تھا کہ عمران خان اور قادری کی دھرنا سیاست کا سکرپٹ مشترکہ طور پر لکھا گیا ہے جبکہ انکے اشتراک عمل کی پرتیں بھی یکے بعد دیگرے کئے جانیوالے انکے اعلانات اور فیصلوں سے کھلنا شروع ہو گئیں۔ قادری کے ایجنڈے میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفے اور گرفتاریوں سمیت جمہوری نظام کا سب کچھ تہس نہس کرنا شامل تھا جبکہ عمران خان مڈٹرم انتخابات اور وزیراعظم کے استعفے پر مصر رہے۔ اگر انکی احتجاجی تحریک کا مقصد فی الواقع انتخابی دھاندلیوں کے سدباب‘ سسٹم کی اصلاح اور اسکے ناطے جمہوری نظام کے استحکام کا ہوتا تو وہ اپنے کسی تقاضے کو حرف آخر نہ بناتے مگر انہوں نے دھرنوں میں شامل خواتین اور بچوں کو ڈھال بنا کر وزیراعظم ہی نہیں‘ پوری ریاستی اتھارٹی کو انتہائی عامیانہ انداز میں چیلنج کرنا شروع کر دیا اور پھر آئین میں جمہوریت کے تحفظ کیلئے قومی اسمبلی اور سینٹ میں حکومتی اور اپوزیشن بنچوں پر موجود تمام پارلیمانی جماعتوں کی جانب سے متفقہ طور پر منظور کی گئی قراردادوں کو بھی تضحیک کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ اعلیٰ عدلیہ کے سابق اور موجودہ ججوں کی کردار کشی سے بھی گریز نہ کیا اور شاہراہ دستور پر دھرنوں کیخلاف سپریم کورٹ کے بار بار جاری کئے گئے احکام کو بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے حکمرانوں کو گالم گلوچ اور اپنے ورکرز کو پارلیمنٹ ہاﺅس‘ وزیراعظم ہاﺅس اور دیگر اہم عمارتوں پر حملوں کیلئے مشتعل کرنے کا سلسلہ برقرار رکھا جس سے انکی منفی‘ تخریبی سیاست کے حوالے سے عوام میں یہ تاثر مزید پختہ ہوا کہ یہ دونوں حضرات کسی مقتدر قوت کے اشارے اور شہ پر ہی پوری ڈھٹائی کے ساتھ افراتفری کے ایجنڈے پر کاربند ہیں‘ پھر عمران خان نے ”امپائر“ کے انگلی اٹھنے کا اشارہ دے کر اور طاہرالقادری نے براہ راست امداد کیلئے فوج کو پکار کر اپنے سیاسی ایجنڈے کو بے نقاب کیا‘ بالآخر جب دھرنوں کے پندھرویں روز فریقین میں مفاہمت کیلئے آرمی چیف کے کردار کا آئیڈیا سامنے آیا جس کی بنیاد پر خود آرمی چیف کی جانب سے عمران خان اور طاہرالقادری کو ملاقات کا پیغام بھجوایا گیا تو ڈھٹائی پر مبنی اس دھرنا سیاست کے پس پردہ محرکات بے نقاب ہونے میں کوئی کسر باقی نہ رہی اور پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ جو عمران اور قادری درمیانی راستے کیلئے کسی بھی سیاسی قائد کی کسی بھی تجویز کو خاطر میں نہیں لاتے تھے اور اپنے خلاف سول سوسائٹی سمیت تمام مکاتب زندگی کے لوگوں میں پیدا ہونیوالے اضطراب کی بھی پرواہ نہیں کررہے تھے‘ وہ یک بیک اپنے اپنے دھرنوں سے نکل کر آرمی چیف سے ملاقات کیلئے جی ایچ کیو جا پہنچے اور وہاں سے وکٹری کے نشان بناتے ہوئے واپس آئے جبکہ واپس آکر بھی انہوں نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفوں پر اصرار برقرار رکھا جس سے یہ حقیقت مکمل طور پر واضح ہو گئی کہ وہ سسٹم کو پھر ڈی ریل کرانے کے ایجنڈے پر عملدرآمد کیلئے تعینات ہوئے ہیں۔ اس پورے عرصہ میں حکومت نے فہم و فراست کے ساتھ صبروتحمل کا مظاہرہ کیا‘ دھرنوں کو نہ صرف شاہراہ دستور پر آنے کی اجازت دی بلکہ عمران اور قادری کے پیش کئے جانیوالے بیشتر مطالبات بھی تسلیم کرلئے اور پھر سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر ادارہ منہاج القرآن کی درخواست کے عین مطابق وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سمیت 21 نامزد افراد کیخلاف ایف آئی آر بھی درج کرادی گئی۔ اگر عمران اور قادری کی دھرنا سیاست کا مقصد فی الواقع سسٹم کی اصلاح کا ہوتا تو متذکرہ حکومتی اقدامات کے بعد انکی احتجاجی تحریک کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا‘ وہ حکومتی اقدامات پر عملدرآمد کیلئے اپنا کردار ادا کرتے اور پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھ کر تعمیری سیاست کو فروغ دیتے مگر انہوں نے جس ہٹ دھرمی کے تحت وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفوں پر اپنے تقاضوں کو فوکس کیا‘ اسکی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی جبکہ انہوں نے آرمی چیف کی ثالثی پر متفق ہو کر بھی استعفوں پر اصرار برقرار رکھا۔ اسی دوران آرمی چیف کے ثالثی کے کردار کے حوالے سے پارلیمنٹ اور دوسرے پبلک فورموں پر تشویش کی لہر دوڑی اور آرمی چیف کے اس کردار کو ماورائے آئین قرار دے کر پیپلزپارٹی کے ارکان پارلیمنٹ نے وزیراعظم سے وضاحت طلب کی کہ پارلیمنٹ کی متفقہ قراردادوں کے بعد انہوں نے ثالثی کے کردار کیلئے آرمی چیف سے کیوں رجوع کیا‘ اس پر وزیراعظم نوازشریف اور وزیر داخلہ نثارعلی خان نے قومی اسمبلی کے فورم پر وضاحت پیش کی کہ آرمی چیف کو ثالثی کے کردار کیلئے ہرگز نہیں کہا گیا بلکہ عمران خان اور قادری کی آرمی چیف سے ملاقات کی خواہش کی بنیاد پر آرمی چیف کو بطور سہولت کار ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔ عمران اور قادری نے اس حکومتی وضاحت کو بھی ایشو بنا کر گند اچھالنے کا سلسلہ شروع کردیا جبکہ بعدازاں ڈی جی آئی ایس پی آر کے وضاحتی بیان میں یہ کہہ کر افراتفری کی سیاست کرنیوالوں کو مزید حوصلہ دیا گیا کہ حکومت نے خود آرمی چیف کو معاونت کا کردار ادا کرنے کیلئے کہا تھا۔ اگرچہ وفاقی وزیر داخلہ نثارعلی خان نے یہ کہہ کر اچھالی جانیوالی اس گرد کو بٹھانے کی کوشش کی ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کا وضاحتی بیان انکی اور وزیراعظم کی منظوری سے جاری ہوا ہے‘ اسکے باوجود عمران اور قادری کے استعفوں پر یک زبان ہونے اور مشترکہ طور پر اپنی دھرنا سیاست اور احتجاجی مظاہروں کے اگلے مراحل کا اعلان کرنے سے سیاسی افق پر چھائی غیریقینی کی صورتحال مزید گھمبیر ہوتی نظر آتی ہے اور اس تاثر کو مزید تقویت حاصل ہو رہی ہے کہ سیاسی معاملات میں آرمی چیف کو مداخلت کی دعوت دے کر آئین کی پاسداری اور جمہوریت کی عملداری کو خود ہی نقصان پہنچایا گیا ہے جبکہ سیاسی معاملات میں فوج کی اس کھلی مداخلت سے جمہوریت کی بقاءکو مستقل طور پر خطرہ لاحق نظرآرہا ہے اور اس خطرے کی اس حوالے سے بھی نشاندہی ہو رہی ہے کہ پوری پارلیمنٹ مل کر بھی دھرنے والوں سے شاہراہ دستور خالی کرانے کیلئے سپریم کورٹ کے احکام پر عملدرآمد میں ابھی تک بے بس نظرآتی ہے۔ اگرچہ وزیراعظم نوازشریف موجودہ ہیجانی کیفیت کے چند روز تک ختم ہونے کا عندیہ دے رہے ہیں مگر عمران خان اور طاہرالقادری جس نیت کے ساتھ اپنی احتجاجی تحریک کا دائرہ پورے ملک تک پھیلانے کی راہ اختیار کر چکے ہیں‘ وہ حالات میں بہتری کے بجائے مزید سنگینی کا اشارہ دے رہی ہے۔ اگر یہ صورتحال خدانخواستہ آئینی اداروں کے تصادم پر منتج ہوئی تو پھر اس سے عمران اور قادری کے تہس نہس ایجنڈے کی ہی تکمیل ہو گی۔ حکومت نے جس خدشے کو ٹالنے کیلئے سیاسی تنازعہ میں آرمی چیف کا سہولت کار کا کردار قبول کیا اگر وہ خدشہ برقرار رہتا ہے اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے عمل کو نہیں روکا جا سکتا تو پھر آئین اور جمہوریت کے تحفظ کیلئے پارلیمنٹ میں تمام سیاسی جماعتوں کا متحد ہونا بھی بیکار ثابت ہوگا۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سول معاملات میں مداخلت اور سیاسی تنازعات طے کرنے کے معاملہ میں آئین میں آرمی چیف کاکوئی کردار متعین نہیں اور اگر یہ کردار ازخود یا کسی کے کہنے پر ادا کیا جائیگا تو یہ ماورائے آئین اقدام کے زمرے میں ہی آئیگا جس کی پاداش میں سابق آرمی چیف جنرل (ر) مشرف پہلے ہی عدالتی کٹہرے میں کھڑے ہیں اس لئے آرمی چیف کو ایسے کسی کردار سے بہرحال گریز کرنا چاہیے اور جمہوریت کیلئے ڈھال بننے کی اپنے پیشرو جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کی قائم کردہ روایت برقرار رکھنی چاہیے۔ سسٹم اور انتخابی نظام میں جو بھی خرابیاں ہیں‘ وہ پارلیمنٹ کے ذریعے مناسب قانون سازی اور آئینی ترامیم کے تحت دور کی جا سکتی ہیں۔ اگر سیاست دانوں نے خود ہی آئین و قانون اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو فوجی جرنیلوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنانے کا موقع فراہم کیاتو قوم کے مینڈیٹ کو چند ہزار لوگوں کے ہاتھوں یرغمال نہ بننے دینے کی وزیراعظم کی معصوم خواہش کبھی پوری نہیں ہو پائے گی۔

Author: Dr Asif Mahmood Khokhar

Senior eye surgeon with special interest in Vitreoretinal, Oculoplastic, Laser, and Phaco surgeries

Leave a Reply

Be the First to Comment!

اگر کوئی سوال آپ پوچھنا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں۔ اپنی رائےیا تجویز سے مجھے آگاہ فرمانا چاہیں تو یہاں لکھ کر پوسٹ کر دیں میں انشاءاللہ جلد از جلد آپ سے رابطہ کروں گا۔

  Subscribe  
Notify of